بہترین تعلقات مثبت ٹرمپ کارڈ
ہم دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطے کے لیے پُرامید ہیں،ترجمان دفتر خارجہ
ہم دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطے کے لیے پُرامید ہیں،ترجمان دفتر خارجہ : فوٹو: فائل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے بہترین تعلقات چاہتے ہیں اور اس کی نئی قیادت سے جلد ملاقات کا منتظر ہوں، امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان کے یہ ریمارکس کانگریس کے قانون سازوں سے امریکی حکومت کے اخراجات کے معاملے پر اختلافات پر بیان دیتے ہوئے سامنے آئے۔
امریکی صدر نے ایک سانس میں تو ملاقات کا عندیہ دیا اور دوسری سانس میں کہا کہ میں نے پاکستان کی 1.3 ارب ڈالر امداد بند کردی،کیونکہ وہ دہشتگردوں کو پناہ دیتا،دشمنوں کی رکھوالی کرتا ہے یہ ہم نہیں کرسکتے ۔درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج میں ٹھہراؤکی کمی، ان کی غیرمتوازن شخصیت کے خدوخال کو واضح کرتی ہے۔ پاکستان کی یاد امریکا کو افغانستان کے حوالے سے بار بار آرہی ہے ، دنیا کی سپرپاور برملا اس بات کا اعتراف کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے مطلوبہ مقاصد میں نہ صرف ناکام ہوئے ہیں بلکہ ایسی دلدل میں پھنسے ہیں جس سے نکلنا اکیلے ان کے بس میں نہیں۔ پاکستان کا موقف بڑا واضح رہا ہے کہ مسئلہ افغانستان کا حل طاقت اور قوت کے ذریعے نہیں بلکہ سیاسی طور پر بات چیت کے ذریعے ممکن ہے ۔
امریکا کو اس وقت پاکستان کی ضرورت آن پڑی ہے اور پاکستان کی نئی قیادت سے رابطے بحال کرتے ہوئے امریکا نے پہلے طالبان سے مذاکراتی عمل میں تعاون مانگا، جس پر پاکستان نے مثبت ردعمل دیا اور اب بات مزید آگے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے جو مثبت و نتیجہ خیز ہو۔ میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت سے ملاقات کی خواہش کے اظہار کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد میں موجود حکام صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی پہلی ملاقات کے انتظامات کے لیے تجاویز تیارکررہے ہیں ، لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ افغان امن مذاکرات کے مثبت نتیجے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے ۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطے کے لیے پُرامید ہیں۔ دوسری جانب بعض ذرایع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ عمران ملاقات کی تجویز پہلے پاکستان کی جانب سے آئی تھی۔ یقینا دونوں ملکوں کی قیادت میں ملاقات سے پاکستان اور امریکا کے درمیان موجود اعتماد کی کمی کا مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے۔ بہرحال اب وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستانی قیادت اور امریکی صدرکے درمیان جلد ازجلد ملاقات ہو تاکہ مسئلہ افغانستان سمیت دیگر حل طلب امورکا پائیدار اور مستقل حل نکالا جاسکے۔
امریکی صدر نے ایک سانس میں تو ملاقات کا عندیہ دیا اور دوسری سانس میں کہا کہ میں نے پاکستان کی 1.3 ارب ڈالر امداد بند کردی،کیونکہ وہ دہشتگردوں کو پناہ دیتا،دشمنوں کی رکھوالی کرتا ہے یہ ہم نہیں کرسکتے ۔درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج میں ٹھہراؤکی کمی، ان کی غیرمتوازن شخصیت کے خدوخال کو واضح کرتی ہے۔ پاکستان کی یاد امریکا کو افغانستان کے حوالے سے بار بار آرہی ہے ، دنیا کی سپرپاور برملا اس بات کا اعتراف کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے مطلوبہ مقاصد میں نہ صرف ناکام ہوئے ہیں بلکہ ایسی دلدل میں پھنسے ہیں جس سے نکلنا اکیلے ان کے بس میں نہیں۔ پاکستان کا موقف بڑا واضح رہا ہے کہ مسئلہ افغانستان کا حل طاقت اور قوت کے ذریعے نہیں بلکہ سیاسی طور پر بات چیت کے ذریعے ممکن ہے ۔
امریکا کو اس وقت پاکستان کی ضرورت آن پڑی ہے اور پاکستان کی نئی قیادت سے رابطے بحال کرتے ہوئے امریکا نے پہلے طالبان سے مذاکراتی عمل میں تعاون مانگا، جس پر پاکستان نے مثبت ردعمل دیا اور اب بات مزید آگے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے جو مثبت و نتیجہ خیز ہو۔ میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت سے ملاقات کی خواہش کے اظہار کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد میں موجود حکام صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی پہلی ملاقات کے انتظامات کے لیے تجاویز تیارکررہے ہیں ، لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ افغان امن مذاکرات کے مثبت نتیجے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے ۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطے کے لیے پُرامید ہیں۔ دوسری جانب بعض ذرایع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ عمران ملاقات کی تجویز پہلے پاکستان کی جانب سے آئی تھی۔ یقینا دونوں ملکوں کی قیادت میں ملاقات سے پاکستان اور امریکا کے درمیان موجود اعتماد کی کمی کا مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے۔ بہرحال اب وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستانی قیادت اور امریکی صدرکے درمیان جلد ازجلد ملاقات ہو تاکہ مسئلہ افغانستان سمیت دیگر حل طلب امورکا پائیدار اور مستقل حل نکالا جاسکے۔