لوڈ شیڈنگ کوئی حل بھی ہے
اب جائیں تو جائیں کہاں والی صورتحال ہے۔ ادھر ستم ماحولیات دشمن ’’دھند ‘‘ بھی ڈھا رہی ہے
اب جائیں تو جائیں کہاں والی صورتحال ہے۔ ادھر ستم ماحولیات دشمن ’’دھند ‘‘ بھی ڈھا رہی ہے۔ فوٹو : فائل
ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ حد سے باہر ہوگئی ہے۔ عوام رات کو اندھیروں میں گم تو دن کے اوقات میں بھی بجلی کا تعطل، اعصاب شکن ثابت ہورہا ہے، زندگی کے معمولات تل پٹ ہوگئے ہیں اور کوئی صارفین اور عوام کو یہ بتانے کے لیے تیار نہیں کہ بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ کا سبب کیا ہے اور وہ دعوے، نعرے ، وعدے ، یقین دہانیاں اور انتخابی بڑھکیں کہاں چلی گئیں کہ 2018 کے بعد ملک لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات حاصل کرلے گا۔ یہ دعوے اور وعدے تین جہتی تھے ، پی ٹی آئی، ن لیگ اور پی پی نے تاریکی مٹاؤ منظرنامے کے تناظر میں ایک روشن پاکستان کی خوشخبری زیادہ جوش وخروش اور دبنگ طور پر دی تھی ، تقریباً ہر پارٹی کا منشور جاتی محور لوڈ شیڈنگ کا خاتمے ہی تھا۔
ن لیگ کریڈٹ لینے کی کوشش میں رہی کہ اس کی حکومت الیکشن سے پہلے عوام کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے پر جشن مسرت منانے کا پیشگی پیغام دے رہی ہے مگر '' اے بساآرزو کہ خاک شدہ''۔ ملکی معیشت کوبھی سب سے شدید دھچکا توانائی کے بحران ، بجلی کی پیداواری قلت، تقسیم کے ناقص میکانزم اور غیر علانیہ شیڈول کے ہاتھوں پہنچ رہا ہے جب کہ پی ٹی آئی کے ماہرین برقیات آجکل بجلی منصوبوں کی بہتات اور ان کی تنصیب میں اعتراضات اٹھا رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ فری پاکستان کے غلغلے برائے نام ہیں ،اتنے مہنگے پاور پلانٹس کا قوم کیا کریگی۔
اب جائیں تو جائیں کہاں والی صورتحال ہے۔ ادھر ستم ماحولیات دشمن ''دھند '' بھی ڈھا رہی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق سینیٹ ہاؤس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ سی ڈی اے کو فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے ایوان صدر سمیت اہم عمارتوں کے بجلی کے بل تک ادا نہیں ہورہے ہیں، بل عدم ادائیگی پر ایوان صدر کے بجلی کے کنکشن منقطع کرانے کے لیے آئیسکو نے نوٹس جاری کردیا جب کہ پاکستان مانومنٹ اور پاک چین فرینڈشپ سینٹر کے کنکشن کاٹ دیے گئے ہیں۔
ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ نے مزید انکشاف کیا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو بھی نوٹس جاری ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر کے مختلف علاقوں میں شدید دھند نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا، قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر دھند کے باعث حد نگاہ کم ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی رہی، موٹر وے کو کئی جگہ سے بند کرنا پڑا، دوسری جانب ملک میں بجلی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیارکر گیا، سردیوں میں بھی 15گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، وزارت توانائی نے سسٹم کی ناکامی کا ذمے دار دھند کو قرار دیا جب کہ مسجدوں میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے نمازیوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا، ذرایع وزارت توانائی کے مطابق 8 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم سے آؤٹ ہوگئی۔
جس سے شارٹ فال 5 ہزار 850 میگاواٹ تک پہنچ گیا ، بجلی کی مجموعی پیداوار 8 ہزار 150 میگاواٹ اور طلب 14 ہزارمیگاواٹ ہے، گدو، بلوکی، حویلی بہادر شاہ سمیت 13 پاور پلانٹس اور تربیلا اور منگلا میں بجلی پیدا کرنے والے 22 یونٹس بند ہیں، پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ پنجاب میں شدید دھند کے باعث بجلی پیدا کرنے والے یونٹس ٹرپ کرگئے تھے، این ٹی ڈی سی کی ٹیمیں پاور پلانٹس کی فنی خرابی دور کرنے میں مصروف ہیں ، ترجیحی پاور پلانٹس کی جلد مرمت کی جائے گی جس سے بجلی کا بڑا حصہ سسٹم میں واپس آ جائے گا۔
ذرایع کے مطابق شدید دھند کی وجہ سے ٹرانسمیشن لائنز کے انسولیٹر اسٹرنگ شارٹ ہونے سے500کے وی اور 220کے وی کے متعدد سرکٹس ٹرپ کرگئے ہیں ۔ جڑواں شہروں سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10سے 12گھنٹوں تک پہنچ گیا جب کہ دیہات میں 13سے 15گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ شدید دھند کے باعث گدو تھرمل پاور ہاؤس کے 747میگاواٹ کے تین یونٹ ٹرپ کرجانے کے باعث سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ۔ دریں اثنا وفاقی وزیر پاور ڈویژن عمر ایوب خان نے نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا اور بجلی کی ترسیل اور پیداوار کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ عمر ایوب نے این ٹی ڈی سی کو ہدایت کی کہ دھند کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں پیدا ہونے والے تعطل کودور کرنے اور بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں اضافی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور بجلی کی جلد سے جلد بحالی کو یقینی بنایا جائے، ترجمان این ٹی ڈی سی نے کہا ہے کہ شدید دھند سے بْری طرح متاثرہ پاور سسٹم کی بتدریج بحالی جاری ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو لوڈ شیڈنگ کے جواز یا پاور پلانٹس کی تعمیر کے گھن چکر میں نہ الجھایا جائے، صارفین کو شہروں اور دیہات میں بجلی اور گیس کی فراہمی کا مستقل نظام درکار ہے۔ بجلی ہوگی تو روشن اور نئے پاکستان کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔
ن لیگ کریڈٹ لینے کی کوشش میں رہی کہ اس کی حکومت الیکشن سے پہلے عوام کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے پر جشن مسرت منانے کا پیشگی پیغام دے رہی ہے مگر '' اے بساآرزو کہ خاک شدہ''۔ ملکی معیشت کوبھی سب سے شدید دھچکا توانائی کے بحران ، بجلی کی پیداواری قلت، تقسیم کے ناقص میکانزم اور غیر علانیہ شیڈول کے ہاتھوں پہنچ رہا ہے جب کہ پی ٹی آئی کے ماہرین برقیات آجکل بجلی منصوبوں کی بہتات اور ان کی تنصیب میں اعتراضات اٹھا رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ فری پاکستان کے غلغلے برائے نام ہیں ،اتنے مہنگے پاور پلانٹس کا قوم کیا کریگی۔
اب جائیں تو جائیں کہاں والی صورتحال ہے۔ ادھر ستم ماحولیات دشمن ''دھند '' بھی ڈھا رہی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق سینیٹ ہاؤس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ سی ڈی اے کو فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے ایوان صدر سمیت اہم عمارتوں کے بجلی کے بل تک ادا نہیں ہورہے ہیں، بل عدم ادائیگی پر ایوان صدر کے بجلی کے کنکشن منقطع کرانے کے لیے آئیسکو نے نوٹس جاری کردیا جب کہ پاکستان مانومنٹ اور پاک چین فرینڈشپ سینٹر کے کنکشن کاٹ دیے گئے ہیں۔
ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ نے مزید انکشاف کیا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو بھی نوٹس جاری ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر کے مختلف علاقوں میں شدید دھند نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا، قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر دھند کے باعث حد نگاہ کم ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی رہی، موٹر وے کو کئی جگہ سے بند کرنا پڑا، دوسری جانب ملک میں بجلی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیارکر گیا، سردیوں میں بھی 15گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، وزارت توانائی نے سسٹم کی ناکامی کا ذمے دار دھند کو قرار دیا جب کہ مسجدوں میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے نمازیوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا، ذرایع وزارت توانائی کے مطابق 8 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم سے آؤٹ ہوگئی۔
جس سے شارٹ فال 5 ہزار 850 میگاواٹ تک پہنچ گیا ، بجلی کی مجموعی پیداوار 8 ہزار 150 میگاواٹ اور طلب 14 ہزارمیگاواٹ ہے، گدو، بلوکی، حویلی بہادر شاہ سمیت 13 پاور پلانٹس اور تربیلا اور منگلا میں بجلی پیدا کرنے والے 22 یونٹس بند ہیں، پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ پنجاب میں شدید دھند کے باعث بجلی پیدا کرنے والے یونٹس ٹرپ کرگئے تھے، این ٹی ڈی سی کی ٹیمیں پاور پلانٹس کی فنی خرابی دور کرنے میں مصروف ہیں ، ترجیحی پاور پلانٹس کی جلد مرمت کی جائے گی جس سے بجلی کا بڑا حصہ سسٹم میں واپس آ جائے گا۔
ذرایع کے مطابق شدید دھند کی وجہ سے ٹرانسمیشن لائنز کے انسولیٹر اسٹرنگ شارٹ ہونے سے500کے وی اور 220کے وی کے متعدد سرکٹس ٹرپ کرگئے ہیں ۔ جڑواں شہروں سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10سے 12گھنٹوں تک پہنچ گیا جب کہ دیہات میں 13سے 15گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ شدید دھند کے باعث گدو تھرمل پاور ہاؤس کے 747میگاواٹ کے تین یونٹ ٹرپ کرجانے کے باعث سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ۔ دریں اثنا وفاقی وزیر پاور ڈویژن عمر ایوب خان نے نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا اور بجلی کی ترسیل اور پیداوار کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ عمر ایوب نے این ٹی ڈی سی کو ہدایت کی کہ دھند کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں پیدا ہونے والے تعطل کودور کرنے اور بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں اضافی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور بجلی کی جلد سے جلد بحالی کو یقینی بنایا جائے، ترجمان این ٹی ڈی سی نے کہا ہے کہ شدید دھند سے بْری طرح متاثرہ پاور سسٹم کی بتدریج بحالی جاری ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو لوڈ شیڈنگ کے جواز یا پاور پلانٹس کی تعمیر کے گھن چکر میں نہ الجھایا جائے، صارفین کو شہروں اور دیہات میں بجلی اور گیس کی فراہمی کا مستقل نظام درکار ہے۔ بجلی ہوگی تو روشن اور نئے پاکستان کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔