وزیرستان کلیئر افغانیوں کو انٹری پر ویزا بند
انٹری نظام کے خاتمے پر غیرمقامی افراد نے سکھ کا سانس لیا ہے
انٹری نظام کے خاتمے پر غیرمقامی افراد نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ فوٹو: فائل
پاک فوج کی دہشت گردوں کے خلاف بھرپورکارروائی کے نتیجے میں پاکستان میں بتدریج نوگوایریازکا خاتمہ ہوا ہے، اور اب آزادانہ نقل وحمل کا سلسلہ ان علاقوں میں بھی شروع ہوگیا ہے ، جہاں چند سال پیشتر تک یہ تصور محال تھا ، اس تناظر میں ایک انتہائی خوش آیند خبر آئی ہے کہ شمالی وزیرستان کو چار سال بعد تمام پاکستانیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے اور غیر مقامی افراد نے بھی بلا روک ٹوک شمالی وزیرستان جانا شروع کردیا ہے ۔ ضلع انتظامیہ کے مطابق سیدگئی اور دیگر خالی راستوں پر شناختی کارڈ دکھا کرکوئی بھی پاکستانی آجاسکتا ہے۔
انٹری نظام کے خاتمے پر غیرمقامی افراد نے سکھ کا سانس لیا ہے ، اس حوالے سے انتظامیہ کو مسافروں کو سہولتیں فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب افغان شہریوں کی پاکستان میں آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی، افغانیوں کو ائیرپورٹ پر ویزا کے اجرا کا عمل بھی روک دیا گیا ، افغانیوں کو پاکستانی سفارتخانوں سے ویزا لے کر آنا پڑے گا۔ پاکستان نے افغانستان کا نام ویزا آن آرائیول کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے ہولناک واقعات کے ڈانڈے افغانستان سے جا ملتے ہیں اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں بھی وہاں موجود ہیں ۔
پاکستان نے ہمیشہ سفارتی ذرایع سے بلکہ متعدد بار ہمارے سابق اور موجودہ دونوں آرمی چیفس نے افغانستان کے صدر سے ملاقات میں دہشتگردوں کے افغانستان کو ناقابل تردید شواہد بھی پیش کیے لیکن اس کے باوجود افغان حکومت نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا ، جس سے ان واقعات کا تدارک ہوسکے۔گزشتہ تین دہائیوں سے ہم نے افغانیوں کو اپنے ہاں پناہ دی ہوئی ہے ، ان کی ہر طرح کی مالی واخلاقی اور عالمی سطح پر مدد بھی کرتے ہیں لیکن اظہارتشکر تو ایک طرف رہا ، ہمیں توکبھی افغانستان سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی نہیں آیا ۔
یہی وجہ ہے کہ تقریبا سات دہائیوں تک بارڈر کے دونوں اطراف آزادانہ آمدورفت جاری رہی، آزادانہ تجارت بھی ہوتی رہی لیکن تمام اچھائیوں کے بدلے میں افغانستان نے دہشتگردوں کے پاکستان میں داخلے کو نہیں روکا ۔ گزشتہ چند برس میں پاکستان سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اس سرحد پر خار دار تاریں لگانے ، واچ ٹاور بنانے پر مجبور ہوا اور اب ویزے کی پابندی بھی لگائی ہے ۔ دنیا کا ہر ملک اپنی سلامتی کے لیے اقدامات کرتا ہے ۔ لہذا ویزا کی پابندی ایک خوش آیند اقدام قرار دیا جاسکتا ہے یقیناً اس سے دہشتگردوں کا داخلہ پاکستان کی سرزمین میں آسان نہیں رہے گا ۔
انٹری نظام کے خاتمے پر غیرمقامی افراد نے سکھ کا سانس لیا ہے ، اس حوالے سے انتظامیہ کو مسافروں کو سہولتیں فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب افغان شہریوں کی پاکستان میں آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی، افغانیوں کو ائیرپورٹ پر ویزا کے اجرا کا عمل بھی روک دیا گیا ، افغانیوں کو پاکستانی سفارتخانوں سے ویزا لے کر آنا پڑے گا۔ پاکستان نے افغانستان کا نام ویزا آن آرائیول کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے ہولناک واقعات کے ڈانڈے افغانستان سے جا ملتے ہیں اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں بھی وہاں موجود ہیں ۔
پاکستان نے ہمیشہ سفارتی ذرایع سے بلکہ متعدد بار ہمارے سابق اور موجودہ دونوں آرمی چیفس نے افغانستان کے صدر سے ملاقات میں دہشتگردوں کے افغانستان کو ناقابل تردید شواہد بھی پیش کیے لیکن اس کے باوجود افغان حکومت نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا ، جس سے ان واقعات کا تدارک ہوسکے۔گزشتہ تین دہائیوں سے ہم نے افغانیوں کو اپنے ہاں پناہ دی ہوئی ہے ، ان کی ہر طرح کی مالی واخلاقی اور عالمی سطح پر مدد بھی کرتے ہیں لیکن اظہارتشکر تو ایک طرف رہا ، ہمیں توکبھی افغانستان سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی نہیں آیا ۔
یہی وجہ ہے کہ تقریبا سات دہائیوں تک بارڈر کے دونوں اطراف آزادانہ آمدورفت جاری رہی، آزادانہ تجارت بھی ہوتی رہی لیکن تمام اچھائیوں کے بدلے میں افغانستان نے دہشتگردوں کے پاکستان میں داخلے کو نہیں روکا ۔ گزشتہ چند برس میں پاکستان سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اس سرحد پر خار دار تاریں لگانے ، واچ ٹاور بنانے پر مجبور ہوا اور اب ویزے کی پابندی بھی لگائی ہے ۔ دنیا کا ہر ملک اپنی سلامتی کے لیے اقدامات کرتا ہے ۔ لہذا ویزا کی پابندی ایک خوش آیند اقدام قرار دیا جاسکتا ہے یقیناً اس سے دہشتگردوں کا داخلہ پاکستان کی سرزمین میں آسان نہیں رہے گا ۔