سپریم کورٹ نے ریلوے کو اراضی فروخت کرنے سے روک دیا

ایک مرلہ نہیں بیچیں گے، 3 سے 5 سالہ لیز کی اجازت دیں، شیخ رشید

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کابورڈایک ہفتے میں تشکیل دینے، نامزد افراد کا دوبارہ جائزہ لینے کاحکم فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے ریلوے کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی زمین فروخت کرنے سے روکتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پاکستان ریلوے اپنے قبضہ میں کسی سرکاری زمین پر ہاؤسنگ اسکیم نہیں بنا سکتی اور ریلوے اراضی 5 سال سے زائد عرصہ کیلیے لیز پر نہیں دے سکتا۔


عدالت نے حکم دیا کہ ریلوے اپنی اراضی پر تجاوزات اورقبضے نہ ہونے دے تاہم ریلوے کی زمین پر قائم رائل پام کلب کا معاملہ کیس سے الگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرگوسن نے ریلوے رائل پام کلب کا قبضہ لے لیا ہے، اس معاملہ کو الگ سن کر فیصلہ کیا جائیگا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کی۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا اگر کوئی جائیداد ریلوے کی ہے تو ریلوے اس کو لیز پر دے سکتی ہے، فروخت بھی کرسکتی ہے، سوال صرف اس عمل کے شفاف ہونیکا ہے، اگر صوبائی یا وفاقی حکومت نے ریلوے سے اراضی واپس لینا ہے تو پھر باقاعدہ علیحدہ کیس داخل کر نا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا فیصلہ میں لکھ دیتے ہیں ریلوے کسی سرکاری زمین کو فروخت نہیں کرسکتی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا جو زمین ریلوے کو نہیں چاہیے، صوبائی حکومت کو واپس کردے، جو ریونیو ریلوے کو مل رہا ہے، صوبائی حکومت وہی ریونیو حاصل کرے گی۔
Load Next Story