ڈرون حملے بند کرائے جائیں

ڈرون حملوں کے حوالے سے حکومتی اقدامات اور سرگرمیاں اب تک محض بیان بازی تک ہی محدود رہی ہیں

شمالی وزیرستان کی انتظامیہ کے مطابق اتوار کو دونوں حملے میرانشاہ سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تحصیل شوال میں کیے گئے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
شمالی وزیرستان میں منائی گئی عیدالفطر کے دوسرے دن یعنی اتوار کو دو امریکی ڈرون حملوں میں 10 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔ شمالی وزیرستان کی انتظامیہ کے مطابق اتوار کو دونوں حملے میرانشاہ سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تحصیل شوال میں کیے گئے۔ پہلا حملہ علاقہ مانڑہ غربز میں 2 گاڑیوں پر کیا گیا۔ انتظامیہ کے بقول امریکی ڈرون نے گاڑیوں پر میزائل داغے جس سے 7 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہوئے جن کا تعلق کمانڈر حافظ گل بہادر کے گروپ سے تھا۔ اس حملے کے چند گھنٹے بعد شوال ہی میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا جس میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

حملوں کے بعد بھی جاسوس طیاروں کی نچلی پروازیں جاری رہیں جس سے علاقے کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا رہا اور اس سے امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔ یہ ڈرون حملے اس حقیقت کے باوجود کیے گئے کہ پاکستان کی جانب سے ان کی مسلسل مذمت کرتے ہوئے قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ ملکی خود مختاری کے خلاف ہیں۔ ان دو حملوں سے ایک روز پہلے بھی شمالی وزیرستان کے علاقہ شوئی در میں ایک ڈرون حملہ ہوا تھا جس پر پاکستان کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ یاد رہے کہ امریکی ڈرون نے ایک مکان پر 2 میزائل فائر کیے جس کے نتیجے میں اس میں موجود 12 افراد موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ بی بی سی کے مطابق حملے میں 6 عسکریت پسند مارے گئے جن کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ سے ہے۔


ترجمان دفتر خارجہ معظم خان نے امریکی ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اپنے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ امریکی حملے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں' ان سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل درست ہے کیونکہ ایسے حملوں میں چند دہشت گردوں کے ساتھ متعدد بے گناہ بھی مارے جا رہے ہیں اور ان بے گناہ افراد کے لواحقین بعد ازاں حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملے حکومت کی رضامندی سے ہو رہے ہیں یا پھر حکومت کی جانب سے ان حملوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات عمل میں نہیں لائے جا رہے ہیں۔

اس حوالے سے وہ کس قدر حق بجانب ہیں اس بارے میں تو یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ یہ واضح ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے حکومتی اقدامات اور سرگرمیاں اب تک محض بیان بازی تک ہی محدود رہی ہیں جب کہ پاکستان کے احتجاج کے باوجود یہ حملے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ جب نیٹو کی سپلائی بحال کرنے کے حوالے سے بات چیت جاری تھی اس وقت امید کی جا رہی تھی کہ حکومت اس بحالی کے بدلے میں امریکا سے ڈرون حملوں سے نجات کی بات منوا لے گی لیکن اس وقت ایسا کچھ نہیں کیا گیا لیکن اب جب کہ ڈرون حملوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے تو وہی مذمتی بیانات بھی ایک بار جاری ہونا شروع ہو چکے ہیں۔

سوچنے کی بات ہے کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا' ضروری ہے کہ حکومت محض بیانات جاری کرنے کے بجائے امریکی انتظامیہ سے ڈرون حملوں کی بندش کے سلسلے میں ٹھوس بات چیت کا سلسلہ شروع کرے تاکہ ان حملوں کو بند کرا کے انتہا پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی جانب بڑھا جا سکے اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

Recommended Stories

Load Next Story