میانمار اور بوسنیا میں مسلمانوں کی ہلاکتیں

دفن کیے جانے والے افراد میں 43 نوعمر لڑکے اور ایک نوزائیدہ بچہ بھی شامل ہے۔

بوسنیا میں1995 میں ہزاروں مسلمانوں کے قتلِ عام کی اٹھارہویں برسی کے موقع پر گزشتہ روز مزید 409 شہداء کی جسمانی باقیات کی باقاعدہ طور پر تدفین کی تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل

شاعر مشرق علامہ اقبال نے ایک سو سال قبل شکوہ کیا تھا کہ ''برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر'' لیکن افسوس کی بات ہے کہ امت مسلمہ کو آج بھی دنیا بھر میں جگہ جگہ ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے خواہ وہ بوسنیا سے ملنے والی مسلمانوں کی اجتماعی قبروں کی بات ہو جنھیں مسلح سربوں نے نہایت وحشیانہ طور پر موت کے گھاٹ اتار دیا ان میں شیر خوار بچے بھی شامل تھے یا میانمار (برما) میں بدھ مت کے پیروکاروں کے ہاتھوں پے در پے لقمۂ اجل بننے والے روہنگیا مسلمان لیکن اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کی طرف سے کسی موثر ردعمل کا اظہار نہ ہوا تاہم اب او آئی سی کے ایک وفد نے اقوام متحدہ سے میانمار (برما) کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

او آئی سی کے نمایندوں کے وفد نے نیو یارک میں یو این سیکریٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات میں یہ مطالبہ کیا۔ وفد میں شامل سعودی نمایندہ عبد اللہ المعلمی نے کہا کہ میانمار (برما) میں روہنگیا مسلمانوں کی نعشوں پر جشن منایا جا رہا ہے۔ بان کی مون نے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر تشویش کا اظہار کیا اور میانمار (برما) حکومت پر زور دیا کہ بنگلہ دیش کی سرحد کے ساتھ آباد 10 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی شہریت کا مسئلہ جلد حل کرے۔ بان کی مون نے برما میں بدھوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر مظالم کی سخت مذمت کی اور کہا اس سے دنیا بھر میں تشدد کے رجحان کو مزید تقویت ملے گی۔


واضح رہے برما نے کئی دہائیوں بعد فوجی حکمرانی سے نجات پائی ہے لیکن اس جمہوری حکومت کے دوران بدھ مت کے ماننے والوں کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ انتہائی ظالمانہ ہے۔ دریں اثنا میانمار کی ایک عدالت نے اسلامی بورڈنگ اسکول میں قتل عام میں ملوث بدھ مت کے سات پیروکاروں کو تین اور پندرہ سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ یاد رہے کہ21 مارچ کو اس اسکول میں درجنوں مسلمان طلبہ اور اساتذہ کو قتل کر دیا گیا تھا۔

دوسری طرف بوسنیا میں1995ء میں ہزاروں مسلمانوں کے قتلِ عام کی اٹھارہویں برسی کے موقع پر گزشتہ روز مزید 409 شہداء کی جسمانی باقیات کی باقاعدہ طور پر تدفین کی تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو آئے۔ مقتولین کے ورثاء ڈی این اے شناخت کے بعد میتوں سے لپٹ کر روتے رہے۔ دفن کیے جانے والے افراد میں 43 نوعمر لڑکے اور ایک نوزائیدہ بچہ بھی شامل ہے۔ ان کو بوسنیا کی سرب فوج نے اس وقت قتلِ عام کے بعد اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا تھا اور اب ان کی شناخت کے بعد انھیں علیحدہ علیحدہ قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے' تمام مقتولین کے تابوت پر سبز رنگ کی چادریں لپیٹ دی گئیں تھیں۔

دوسری طرف ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام کا حکم دینے والے سرب رہنما رادون کرادووچ نے خود پر لگنے والے جنگی جرائم سے انکار کرتے ہوئے سابق یوگوسلاویہ کے لیے بنائے گئے بین الاقوامی کریمنل ٹربیونل میں اپیل دائر کی ہے۔ کسی قوم کے افراد کو رنگ' نسل اور عقیدے کی بنا پر قتل کرنا انسانیت کے خلاف جرائم کی فہرست میں شامل ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں اور اب بھی دنیا میں ایسے جرائم ہو رہے ہیں' بوسنیائی مسلمانوں کے قتل کے مجرموں کو سزا ملنی چاہیے' اس کے ساتھ ساتھ برما میں جوکچھ ہو رہا ہے'اس پر بھی اقوام متحدہ کو سخت ایکشن لینا چاہیے۔
Load Next Story