عوام افطاری کی اشیا مہنگے داموں خریدنے پر مجبور
شہر کے 80فیصد سے زائد پھل کے ٹھیلوں پر سرکاری پرائس لسٹ غائب ہے۔
ٹھیلے والے اور دکاندار مجسٹریٹ کی آمد کے موقع پر پرائس لسٹ آویزاں کردیتے ہیں جو مجسٹریٹ کے جاتے ہیں غائب کردی جاتی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
رمضان کے آغاز سے ہی اشیائے خورونوش مہنگی کردی گئیں،انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
پھل فروشوں کے ساتھ سموسے پکوڑوں کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں، دودھ فروشوں اور انتظامیہ کے درمیان خاموش مفاہمت کی قیمت شہری ادا کررہے ہیں، شہر بھر میں تازہ دودھ 78اور 80روپے کی غیرسرکاری قیمت پر فروخت ہورہا ہے تاہم انتظامیہ نے دودھ فروشوں کو ڈھیل دے رکھی ہے، شہر بھر میں پرائس کنٹرول کے نام پر کی جانے والی نمائشی کارروائیوں کے باوجود شہری گراں فروشوں کے ہا تھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں، مرغی فروش بدستور من مانی قیمت پر مرغی اور گوشت فروخت کررہے ہیں۔
شہر کے 80فیصد سے زائد پھل کے ٹھیلوں پر سرکاری پرائس لسٹ غائب ہے، ٹھیلے والے اور دکاندار مجسٹریٹ کی آمد کے موقع پر پرائس لسٹ آویزاں کردیتے ہیں جو مجسٹریٹ کے جاتے ہیں غائب کردی جاتی ہے، شہر بھر میں انگور 180سے 200روپے کلو، کیلے 80سے 100روپے درجن، گرما 60سے 70روپے کلو، آلوچے خوبانی 120سے 140روپے کلو، آڑو 120سے 150روپے کلو فروخت کیے جارہے ہیں البتہ خربوزے کی وافر سپلائی ہونے کی وجہ سے خربوزہ 20سے 30روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے، ادھر رمضان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے پکوڑے اور سموسے بھی غیرسرکاری قیمت پر فروخت کیے جارہے ہیں ، دکانوں پر سموسے مختلف داموں پر فروخت کیے جارہے ہیں۔
جبکہ پکوڑوں کی قیمت بھی علاقہ مکینوں کی مالی حیثیت کے حساب سے وصول کی جارہی ہے، چھوٹے علاقوں کے ٹھیلوں پر پکوڑے 30سے 40روپے پاؤ فروخت کیے جارہے ہیں جبکہ چھوٹے علاقوں کی ہی دکانوں پر مکس پکوڑے 160سے 180روپے کلو فروخت کیے جارہے ہیں، کنٹرولر جنرل آف پرائسز نے مکس پکوڑے درجہ اول کی قیمت 200روپے مقرر کی ہے تاہم بڑی دکانوں پر مکس پکوڑے 240سے 260روپے کلو فروخت کیے جارہے ہیں، مرغی فروشوں کے خلاف کیا جانے والا کریک ڈاؤن نرم پڑنے کے بعد مرغی فروش بھی منافع خوری میں مصروف ہیں ۔
سولجر بازار میں مرغی کے گوشت کی بڑی دکانوں پر مرغی کے گوشت کی درجہ بندی میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے اور اب مرغی کا گوشت رانوں کے بغیر 260روپے کلو، زندہ مرغی 170روپے کلو فروخت کی جارہی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران مارکیٹوں کے نمائشی دورے کرتے ہیں، پرائس لسٹ پر عمل کرانے کیلیے موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ شہریوں نے کہا کہ انتظامی افسران عوام کی خدمت کریں۔
پھل فروشوں کے ساتھ سموسے پکوڑوں کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں، دودھ فروشوں اور انتظامیہ کے درمیان خاموش مفاہمت کی قیمت شہری ادا کررہے ہیں، شہر بھر میں تازہ دودھ 78اور 80روپے کی غیرسرکاری قیمت پر فروخت ہورہا ہے تاہم انتظامیہ نے دودھ فروشوں کو ڈھیل دے رکھی ہے، شہر بھر میں پرائس کنٹرول کے نام پر کی جانے والی نمائشی کارروائیوں کے باوجود شہری گراں فروشوں کے ہا تھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں، مرغی فروش بدستور من مانی قیمت پر مرغی اور گوشت فروخت کررہے ہیں۔
شہر کے 80فیصد سے زائد پھل کے ٹھیلوں پر سرکاری پرائس لسٹ غائب ہے، ٹھیلے والے اور دکاندار مجسٹریٹ کی آمد کے موقع پر پرائس لسٹ آویزاں کردیتے ہیں جو مجسٹریٹ کے جاتے ہیں غائب کردی جاتی ہے، شہر بھر میں انگور 180سے 200روپے کلو، کیلے 80سے 100روپے درجن، گرما 60سے 70روپے کلو، آلوچے خوبانی 120سے 140روپے کلو، آڑو 120سے 150روپے کلو فروخت کیے جارہے ہیں البتہ خربوزے کی وافر سپلائی ہونے کی وجہ سے خربوزہ 20سے 30روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے، ادھر رمضان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے پکوڑے اور سموسے بھی غیرسرکاری قیمت پر فروخت کیے جارہے ہیں ، دکانوں پر سموسے مختلف داموں پر فروخت کیے جارہے ہیں۔
جبکہ پکوڑوں کی قیمت بھی علاقہ مکینوں کی مالی حیثیت کے حساب سے وصول کی جارہی ہے، چھوٹے علاقوں کے ٹھیلوں پر پکوڑے 30سے 40روپے پاؤ فروخت کیے جارہے ہیں جبکہ چھوٹے علاقوں کی ہی دکانوں پر مکس پکوڑے 160سے 180روپے کلو فروخت کیے جارہے ہیں، کنٹرولر جنرل آف پرائسز نے مکس پکوڑے درجہ اول کی قیمت 200روپے مقرر کی ہے تاہم بڑی دکانوں پر مکس پکوڑے 240سے 260روپے کلو فروخت کیے جارہے ہیں، مرغی فروشوں کے خلاف کیا جانے والا کریک ڈاؤن نرم پڑنے کے بعد مرغی فروش بھی منافع خوری میں مصروف ہیں ۔
سولجر بازار میں مرغی کے گوشت کی بڑی دکانوں پر مرغی کے گوشت کی درجہ بندی میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے اور اب مرغی کا گوشت رانوں کے بغیر 260روپے کلو، زندہ مرغی 170روپے کلو فروخت کی جارہی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران مارکیٹوں کے نمائشی دورے کرتے ہیں، پرائس لسٹ پر عمل کرانے کیلیے موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ شہریوں نے کہا کہ انتظامی افسران عوام کی خدمت کریں۔