سندھ کابینہ کا اجلاس گریڈ ایک سے 15 کی خالی اسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری
ایکٹ میں ترمیم سے میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین، وائس چیئرمین کو سادہ اکثریت سے ہٹایا جاسکے گا، مشیر اطلاعات کی بریفنگ
چنگ چی رکشا کا کرایہ 6 کلومیٹر تک 10 روپے، اس سے زیادہ پر 15 روپے فی مسافر ہونگے،تمام چنگ چی رکشے رجسٹرڈ ہونگے،گنے کی قیمت 182 روپے فی من مقرر فوٹو: فائل
سندھ کابینہ نے گریڈ ایک سے 15 تک کی خالی اسامیوں پر بھرتی شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیس اور رینجرز کے ذریعے محکمہ جنگلات کی ایک لاکھ 45 ہزار 245 ایکڑزمین سے ناجائز قبضہ ختم کرانے کا حکم دیا ہے، محکمہ جنگلات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پولیس اور رینجرز کے ساتھ مل کر محکمہ جنگلات کی اراضی سے قبضے ختم کرائے۔کابینہ نے عدم اعتماد کی تحریک سمیت بلدیاتی قانون میں بعض ترامیم کا بھی جائزہ لیا۔
لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین، وائس چیئر مین کو ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت کے بجائے سادہ اکثریت سے ہٹایا جاسکے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ جنگلات کی اب تک صرف 13500 ایکڑ زمین قبضہ مافیا سے خالی کرائے جانے پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر تمام زمین قبضہ مافیا سے خالی کرانے کی ہدایت کی۔سندھ کابینہ کا اجلاس پیر کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت نیوسندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہُوا۔ اجلاس میں تمام صوبائی وزرا، مشیروں ، معاونین اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ 260 سرکاری اہلکارپالیسی کے برعکس سرکاری گھروں میں رہتے ہیں۔ سندھ میں 5000 سیکریٹریٹ ملازمین ہیں جو رہائش مانگ رہے ہیں۔ 5 فیصد ہاؤس رینٹ سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے رہائش دینے کی صورت میں کاٹا جاتا ہے۔ کابینہ نے فیصلہ کیاکہ جو غیرقانونی طور پر رہ رہے ہیں انکو رٹائرمنٹ تک ایک وقت تک کی چھوٹ دی جائے اور الاٹمنٹ پالیسی کے سلسلے میں ایک کمیٹی بنائی جائیجو الاٹمنٹ پالیسی کا جائزہ لے گی۔ سندھ کابینہ نے گریڈ ایک سے 15 تک خالی آسامیوں پر بھرتی کرنے کی منظوری دے دی۔ محکمہ توانائی کے متعلق اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے حیسکو اور سیپکو کے ساتھ آٹومیٹک میٹر ریڈنگ (اے ایم آر) لگانے کے لیے معاہدہ کیاتھا۔سندھ کابینہ نے مئی 2019 تک حیسکو اور سیپکو کو تمام میٹر لگانے کی ہدایت کی۔
یاد رہے کہ سندھ حکومت نے 27.398 بلین روپے حیسکو اور سیپکو کو بجلی کے بلوں کی مد میں جولائی 2010 سے جولائی 2016 تک کے بقایاجات کی صورت میں ادا کردیے تھے۔ سندھ کابینہ نے گنے کی کم از کم رقم 182 روپے فی من (40 کلو گرام) مقرر کرنے کی منظوری بھی دی۔ مارکیٹ کمیٹی بنانے کے اختیارات صوبائی وزیر زراعت کو دے دیے گئے۔ وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ اور سیکریٹر ی ٹرانسپورٹ نے بھی بریفنگ دی۔ سندھ کابینہ نے چنگ چی رکشہ کے کرایے کی منظوری دی جس میں طے پایا گیا کہ 6 کلومیٹر تک کرایہ 10 روپے اور اس سے زیادہ کلومیٹر پر 15 روپے فی مسافر کرایہ ہو گا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے تمام چنگچی رکشے رجسٹرڈ کرنے کے احکام جاری کیے۔ کابینہ نے تمام غیرقانونی الاٹمنٹ کی گئی محکمہ جنگلات کی زمین کو منسوخ کرنے کی منظوری دی۔ سندھ کابینہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان راجپوت کو ایک اور مدت کیلیے چارٹرڈ انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کا چیئرمین اور عبدالباسط سومرو کو سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی (ایس آئی ڈی اے ) کا چیئرمین مقرر کرنے کی بھی منظوری دے دی۔ سندھ کابینہ نے سندھی لینگویج اتھارٹی کی بھی منظوری دے دی۔ سندھ کابینہ نے وزیر بلدیات کو لوکل باڈیز کی مختلف اراکین مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔
دریں اثنا کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے تمام سرکاری محکموں میں گریڈ 1سے 15تک کی خالی آسامیو ں پر بھرتی شرو ع کر نے کی منظوری دے دی ہے ۔نئی بھرتیوں کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو ایک ہفتے میں تجاویز طے کرے گی اور بھرتیوں سے متعلق قانونی پیچیدگیوں کا جائزہ لے گی۔ صو با ئی مشیر نے بتا یا کہ وزیر اعلی کی زیر صدارت طویل اجلا س ہوا جس میں مختلف ضروری امور زیر بحث آئے۔ اجلا س میں بتا یا گیا کہ سپریم کور ٹ نے چنگچی رکشہ کے حوالے سے 7سفارشات دی تھیں جن پر عمل درآ مد کردیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ کے فیصلے کے مطابق لوکل گورنمنٹ میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین، وائس چیئر مین کو ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت کے بجائے سادہ اکثریت سے ہٹایا جاسکے گاکیوں کہ وزیر اعظم کو بھی سادہ اکثریت سے ہٹایا جاسکتا ہے۔اجلاس میں سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ پالیسی، گریڈ ایک سے 15 تک کی خالی آسامیوں پرتقرری، نئے انویسٹمنٹ ادارے کا قیام، ایس ای ایس سی او اور ایس ای پی سی او کے آرم سسٹم کی توسیع، تھر بلاک ٹو کے متاثرین کیلیے معاوضے کی منظوری، گنے کی سال 19-2018 کی کرشنگ سیزن کیلیے کم سے کم قیمت کی مقرری، ایم پی اے کی ضلع سطح پر شوگرکین (ترقی) سیس کمیٹی کی نامزدگی، سنجھورو اور اوباڑو کیلیے مارکیٹ کمیٹی کا قیام، سندھ کنزیومرز پروٹیکشن رُول 2017ء میں ترمیم کر کے ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کاؤنسل کے قیام، سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں چنگچی/ موٹرسائیکل رکشا کا کرایہ مقرر کرنا، پرائیوٹ سیکیورٹی کمپنیز کو لائسنس کی منظوری، محکمہ جنگلات کی زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ کے حوالے سے فیصلہ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی چیئرمین چارٹر انسپیکشن اینڈ ایوولیوشن کمیٹی کی تقرری میں توسیع،
کراچی میں عمارتوں کی پرانی لیز کے علاوہ، دواؤں ڈرگز، ایکسرے وغیرہ کی سینٹرل ریٹ کانٹریکٹ لسٹ پر خریداری کی منظوری، زخمی مریضوں کی طبی دیکھ بھال وغیرہ کے بل کی منظوری، فیملی پینشن کو مزید بہتر کرنا، آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ کونسل کا قیام، سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین کی تقرری، چیئرمین سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی کی تقرری، ایچ اے ڈی کے بقایا اراکین کی تعیناتی، سندھ لوکل کاؤنسل کے انتخابات کے رُولز میں ترمیم، لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم، سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی ووٹ آف نو کانفیڈینس ( تحریک عدم اعتماد) کے سیشن 27 میں ترمیم، سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے اعزازیے میں ترمیم، ایواکیوٹ ٹرسٹ لا پر غور شامل تھے۔ کابینہ اجلاس میں سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ پالیسی پر بھی غور کیاگیا۔
لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین، وائس چیئر مین کو ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت کے بجائے سادہ اکثریت سے ہٹایا جاسکے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ جنگلات کی اب تک صرف 13500 ایکڑ زمین قبضہ مافیا سے خالی کرائے جانے پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر تمام زمین قبضہ مافیا سے خالی کرانے کی ہدایت کی۔سندھ کابینہ کا اجلاس پیر کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت نیوسندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہُوا۔ اجلاس میں تمام صوبائی وزرا، مشیروں ، معاونین اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ 260 سرکاری اہلکارپالیسی کے برعکس سرکاری گھروں میں رہتے ہیں۔ سندھ میں 5000 سیکریٹریٹ ملازمین ہیں جو رہائش مانگ رہے ہیں۔ 5 فیصد ہاؤس رینٹ سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے رہائش دینے کی صورت میں کاٹا جاتا ہے۔ کابینہ نے فیصلہ کیاکہ جو غیرقانونی طور پر رہ رہے ہیں انکو رٹائرمنٹ تک ایک وقت تک کی چھوٹ دی جائے اور الاٹمنٹ پالیسی کے سلسلے میں ایک کمیٹی بنائی جائیجو الاٹمنٹ پالیسی کا جائزہ لے گی۔ سندھ کابینہ نے گریڈ ایک سے 15 تک خالی آسامیوں پر بھرتی کرنے کی منظوری دے دی۔ محکمہ توانائی کے متعلق اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے حیسکو اور سیپکو کے ساتھ آٹومیٹک میٹر ریڈنگ (اے ایم آر) لگانے کے لیے معاہدہ کیاتھا۔سندھ کابینہ نے مئی 2019 تک حیسکو اور سیپکو کو تمام میٹر لگانے کی ہدایت کی۔
یاد رہے کہ سندھ حکومت نے 27.398 بلین روپے حیسکو اور سیپکو کو بجلی کے بلوں کی مد میں جولائی 2010 سے جولائی 2016 تک کے بقایاجات کی صورت میں ادا کردیے تھے۔ سندھ کابینہ نے گنے کی کم از کم رقم 182 روپے فی من (40 کلو گرام) مقرر کرنے کی منظوری بھی دی۔ مارکیٹ کمیٹی بنانے کے اختیارات صوبائی وزیر زراعت کو دے دیے گئے۔ وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ اور سیکریٹر ی ٹرانسپورٹ نے بھی بریفنگ دی۔ سندھ کابینہ نے چنگ چی رکشہ کے کرایے کی منظوری دی جس میں طے پایا گیا کہ 6 کلومیٹر تک کرایہ 10 روپے اور اس سے زیادہ کلومیٹر پر 15 روپے فی مسافر کرایہ ہو گا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے تمام چنگچی رکشے رجسٹرڈ کرنے کے احکام جاری کیے۔ کابینہ نے تمام غیرقانونی الاٹمنٹ کی گئی محکمہ جنگلات کی زمین کو منسوخ کرنے کی منظوری دی۔ سندھ کابینہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان راجپوت کو ایک اور مدت کیلیے چارٹرڈ انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کا چیئرمین اور عبدالباسط سومرو کو سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی (ایس آئی ڈی اے ) کا چیئرمین مقرر کرنے کی بھی منظوری دے دی۔ سندھ کابینہ نے سندھی لینگویج اتھارٹی کی بھی منظوری دے دی۔ سندھ کابینہ نے وزیر بلدیات کو لوکل باڈیز کی مختلف اراکین مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔
دریں اثنا کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے تمام سرکاری محکموں میں گریڈ 1سے 15تک کی خالی آسامیو ں پر بھرتی شرو ع کر نے کی منظوری دے دی ہے ۔نئی بھرتیوں کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو ایک ہفتے میں تجاویز طے کرے گی اور بھرتیوں سے متعلق قانونی پیچیدگیوں کا جائزہ لے گی۔ صو با ئی مشیر نے بتا یا کہ وزیر اعلی کی زیر صدارت طویل اجلا س ہوا جس میں مختلف ضروری امور زیر بحث آئے۔ اجلا س میں بتا یا گیا کہ سپریم کور ٹ نے چنگچی رکشہ کے حوالے سے 7سفارشات دی تھیں جن پر عمل درآ مد کردیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ کے فیصلے کے مطابق لوکل گورنمنٹ میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین، وائس چیئر مین کو ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت کے بجائے سادہ اکثریت سے ہٹایا جاسکے گاکیوں کہ وزیر اعظم کو بھی سادہ اکثریت سے ہٹایا جاسکتا ہے۔اجلاس میں سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ پالیسی، گریڈ ایک سے 15 تک کی خالی آسامیوں پرتقرری، نئے انویسٹمنٹ ادارے کا قیام، ایس ای ایس سی او اور ایس ای پی سی او کے آرم سسٹم کی توسیع، تھر بلاک ٹو کے متاثرین کیلیے معاوضے کی منظوری، گنے کی سال 19-2018 کی کرشنگ سیزن کیلیے کم سے کم قیمت کی مقرری، ایم پی اے کی ضلع سطح پر شوگرکین (ترقی) سیس کمیٹی کی نامزدگی، سنجھورو اور اوباڑو کیلیے مارکیٹ کمیٹی کا قیام، سندھ کنزیومرز پروٹیکشن رُول 2017ء میں ترمیم کر کے ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کاؤنسل کے قیام، سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں چنگچی/ موٹرسائیکل رکشا کا کرایہ مقرر کرنا، پرائیوٹ سیکیورٹی کمپنیز کو لائسنس کی منظوری، محکمہ جنگلات کی زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ کے حوالے سے فیصلہ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی چیئرمین چارٹر انسپیکشن اینڈ ایوولیوشن کمیٹی کی تقرری میں توسیع،
کراچی میں عمارتوں کی پرانی لیز کے علاوہ، دواؤں ڈرگز، ایکسرے وغیرہ کی سینٹرل ریٹ کانٹریکٹ لسٹ پر خریداری کی منظوری، زخمی مریضوں کی طبی دیکھ بھال وغیرہ کے بل کی منظوری، فیملی پینشن کو مزید بہتر کرنا، آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ کونسل کا قیام، سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین کی تقرری، چیئرمین سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی کی تقرری، ایچ اے ڈی کے بقایا اراکین کی تعیناتی، سندھ لوکل کاؤنسل کے انتخابات کے رُولز میں ترمیم، لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم، سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی ووٹ آف نو کانفیڈینس ( تحریک عدم اعتماد) کے سیشن 27 میں ترمیم، سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے اعزازیے میں ترمیم، ایواکیوٹ ٹرسٹ لا پر غور شامل تھے۔ کابینہ اجلاس میں سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ پالیسی پر بھی غور کیاگیا۔