ملالہ کا خواب
طالبان کے حملے سے عالمی شہرت پانے والی ملالہ یوسفزئی کی سولہویں سالگرہ کو دنیا بھر میں ملالہ ڈے کے طور منایا گیا۔
دنیا کو بتانا چاہتی ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند اور جمہوری ملک ہے اور اسلام بھی اخوت اور محبت کا درس دیتا ہے، ملالہ
NAWABSHAH:
سوات میں طالبان کے حملے سے عالمی شہرت پانے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کی سولہویں سالگرہ کو دنیا بھر میں ملالہ ڈے کے طور منایا گیا۔ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرسمیت کئی ملکوں میں انٹرنیشنل یوتھ کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا۔ ملالہ یوسف زئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں80ممالک سے تعلق رکھنے والے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ ڈے میرا نہیں بلکہ یہ ہر بچے، عورت اوراس فرد کا دن ہے جس نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کی۔ ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ سوات میں گولیوں کی گھن گرج میں ہم نے قلم، کتاب اور تعلیم کی اہمیت کو سمجھا۔
طالبان خواتین سے ڈرتے ہیں، ان کو تعلیم دلانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ دنیا میں تبدیلی سے ڈرتے ہیں۔ وہ اسلام کے نام کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔ طالبان نے12 اکتوبر کو مجھے اور میری دوستوں کو گولی مارکر میری آواز کو خاموش کرانے کی کی کوشش کی لیکن وہ اپنی اس کوشش میں ناکام رہے۔ میرے خواب بھی وہی ہیں اور میری امید بھی اسی جگہ قائم ہے، میرے پاس اگر طاقت ہو تو طالبان کے بچوں کو اسکول بھیجوں۔ امن کے لیے تعلیم ضروری ہے، پاکستان اور افغانستان میں جنگ کی صورتحال بچوں کی تعلیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن برائون، جنرل اسمبلی کے صدر روک جیرمک نے ملالہ یوسفزئی کو فروغ تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔
ملالہ کے ساتھ سوات میں جو کچھ ہوا' اس کے مناظر ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گئے ہیں۔ پاکستان میں اسلام کے نام پر جو گروہ فتنہ و فساد اور دہشت گردی کر رہے ہیں' وہ دنیا بھر میں پاکستان اور اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ملالہ پر حملہ کر کے در حقیقت دہشت گردوں نے خود کو بے نقاب کر دیا ہے' ملالہ اس حملے میں زخمی ہوئی' قدرت نے اسے دوبارہ زندگی دی اوروہ تندرست ہو کردوبارہ اپنے اس مشن پر کاربند ہے یعنی بچیوں کی تعلیم جس کی پاداش میں دہشت گردوں نے اسے اور اس کی دوستوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ ملالہ کااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے' اس سے عالمی برادری کو پاکستان میں جاری دہشت گردی کی اصل وجوہات کابھی پتہ چلا ہے۔
ملالہ نے عالمی برادری پر یہ واضح کیا کہ پاکستان ایک امن پسند اور جمہوری ملک ہے اور اسلام بھی اخو ت و محبت کا پیغام دیتا ہے۔ ملالہ کا یہ کہنا درست ہے کہ ہمیں غربت اور دہشت گردی کے خاتمے سمیت تعلیم کے حصول کے لیے جنگ لڑنا ہو گی' ایک کتاب' ایک بچہ اور ایک قلم پوری دنیا میں تبدیلی کا ضامن بن سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تعلیم ہی وہ نسخہ کیمیا ہے جسے بروئے کار لا کر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے جن علاقوں میں طالبان سرگرم عمل ہیں 'وہ سماجی طور پر انتہائی پسماندہ ہیں۔ ان علاقوں میں خواتین کا کام کرنا اور بچیوں کا تعلیم حاصل کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ملالہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو باتیں کی ہیں 'ان پر غور کرنا عالمی برادری کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے حکمرانوں کی بھی ذمے داری ہے۔ فاٹا اور اس سے ملحقہ علاقوں میں طالبان اسی لیے طاقتور ہوئے کہ یہاں کے عوام ناخواندہ' غریب اور پسماندہ ہیں۔ ان علاقوں سے اسمبلیوں کے رکن منتخب ہونے والے طاقتور اور امیر افراد کی ترجیحات میں اپنے علاقے کی ترقی شامل ہی نہیں۔
وہ خود تو اسلام آباد 'کراچی اور دبئی میں مقیم رہتے ہیں لہٰذا انھیں وہاں جاری خون ریزی سے کوئی خطرہ ہے نہ طالبان کو وہ بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح پورے پاکستان پر غور کیا جائے تو یہ رویہ ہر جگہ نظر آتا ہے۔ انتہا پسندی کراچی جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھی موجود ہے اور لاہور میں بھی۔ فیصل آباد' سیالکوٹ' جیسے کاروباری شہروں میں بھی انتہا پسندی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی صورت حال مختلف نہیں۔
عالمی برادری پاکستان میں دہشت گردی پر خاصی پریشان ہے۔ اصل معاملہ پھر بھی پاکستان کا ہی ہے'ملالہ نے جنرل اسمبلی میں تعلیم کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل سچ ہے لیکن پاکستان میں ماضی کی حکومتیں ہوں یا موجودہ حکومت 'انھوں نے تعلیم کو کبھی بھی اپنی اولین ترجیح قرار نہیں دیا۔ سالانہ میزانیے میں تعلیم کے لیے تمام شعبوں سے کم بجٹ رکھا جاتا ہے۔ اساتذہ کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں۔ پاکستان میں اساتذہ معاشرے کے نچلے طبقات میں شامل ہو تے ہیں۔ ملک میں دہرا نظام تعلیم رائج ہے۔پاکستان میں دہشت گردی تبھی ختم ہو سکتی ہے جب ملک میں تمام بچیوں اور بچوں کے لیے تعلیم کے یکساں مواقع ہو ں اور وہ پوری آزادی کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں۔ اسی طریقے سے ملالہ کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔
سوات میں طالبان کے حملے سے عالمی شہرت پانے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کی سولہویں سالگرہ کو دنیا بھر میں ملالہ ڈے کے طور منایا گیا۔ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرسمیت کئی ملکوں میں انٹرنیشنل یوتھ کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا۔ ملالہ یوسف زئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں80ممالک سے تعلق رکھنے والے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ ڈے میرا نہیں بلکہ یہ ہر بچے، عورت اوراس فرد کا دن ہے جس نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کی۔ ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ سوات میں گولیوں کی گھن گرج میں ہم نے قلم، کتاب اور تعلیم کی اہمیت کو سمجھا۔
طالبان خواتین سے ڈرتے ہیں، ان کو تعلیم دلانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ دنیا میں تبدیلی سے ڈرتے ہیں۔ وہ اسلام کے نام کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔ طالبان نے12 اکتوبر کو مجھے اور میری دوستوں کو گولی مارکر میری آواز کو خاموش کرانے کی کی کوشش کی لیکن وہ اپنی اس کوشش میں ناکام رہے۔ میرے خواب بھی وہی ہیں اور میری امید بھی اسی جگہ قائم ہے، میرے پاس اگر طاقت ہو تو طالبان کے بچوں کو اسکول بھیجوں۔ امن کے لیے تعلیم ضروری ہے، پاکستان اور افغانستان میں جنگ کی صورتحال بچوں کی تعلیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن برائون، جنرل اسمبلی کے صدر روک جیرمک نے ملالہ یوسفزئی کو فروغ تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔
ملالہ کے ساتھ سوات میں جو کچھ ہوا' اس کے مناظر ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گئے ہیں۔ پاکستان میں اسلام کے نام پر جو گروہ فتنہ و فساد اور دہشت گردی کر رہے ہیں' وہ دنیا بھر میں پاکستان اور اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ملالہ پر حملہ کر کے در حقیقت دہشت گردوں نے خود کو بے نقاب کر دیا ہے' ملالہ اس حملے میں زخمی ہوئی' قدرت نے اسے دوبارہ زندگی دی اوروہ تندرست ہو کردوبارہ اپنے اس مشن پر کاربند ہے یعنی بچیوں کی تعلیم جس کی پاداش میں دہشت گردوں نے اسے اور اس کی دوستوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ ملالہ کااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے' اس سے عالمی برادری کو پاکستان میں جاری دہشت گردی کی اصل وجوہات کابھی پتہ چلا ہے۔
ملالہ نے عالمی برادری پر یہ واضح کیا کہ پاکستان ایک امن پسند اور جمہوری ملک ہے اور اسلام بھی اخو ت و محبت کا پیغام دیتا ہے۔ ملالہ کا یہ کہنا درست ہے کہ ہمیں غربت اور دہشت گردی کے خاتمے سمیت تعلیم کے حصول کے لیے جنگ لڑنا ہو گی' ایک کتاب' ایک بچہ اور ایک قلم پوری دنیا میں تبدیلی کا ضامن بن سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تعلیم ہی وہ نسخہ کیمیا ہے جسے بروئے کار لا کر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے جن علاقوں میں طالبان سرگرم عمل ہیں 'وہ سماجی طور پر انتہائی پسماندہ ہیں۔ ان علاقوں میں خواتین کا کام کرنا اور بچیوں کا تعلیم حاصل کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ملالہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو باتیں کی ہیں 'ان پر غور کرنا عالمی برادری کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے حکمرانوں کی بھی ذمے داری ہے۔ فاٹا اور اس سے ملحقہ علاقوں میں طالبان اسی لیے طاقتور ہوئے کہ یہاں کے عوام ناخواندہ' غریب اور پسماندہ ہیں۔ ان علاقوں سے اسمبلیوں کے رکن منتخب ہونے والے طاقتور اور امیر افراد کی ترجیحات میں اپنے علاقے کی ترقی شامل ہی نہیں۔
وہ خود تو اسلام آباد 'کراچی اور دبئی میں مقیم رہتے ہیں لہٰذا انھیں وہاں جاری خون ریزی سے کوئی خطرہ ہے نہ طالبان کو وہ بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح پورے پاکستان پر غور کیا جائے تو یہ رویہ ہر جگہ نظر آتا ہے۔ انتہا پسندی کراچی جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھی موجود ہے اور لاہور میں بھی۔ فیصل آباد' سیالکوٹ' جیسے کاروباری شہروں میں بھی انتہا پسندی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی صورت حال مختلف نہیں۔
عالمی برادری پاکستان میں دہشت گردی پر خاصی پریشان ہے۔ اصل معاملہ پھر بھی پاکستان کا ہی ہے'ملالہ نے جنرل اسمبلی میں تعلیم کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل سچ ہے لیکن پاکستان میں ماضی کی حکومتیں ہوں یا موجودہ حکومت 'انھوں نے تعلیم کو کبھی بھی اپنی اولین ترجیح قرار نہیں دیا۔ سالانہ میزانیے میں تعلیم کے لیے تمام شعبوں سے کم بجٹ رکھا جاتا ہے۔ اساتذہ کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں۔ پاکستان میں اساتذہ معاشرے کے نچلے طبقات میں شامل ہو تے ہیں۔ ملک میں دہرا نظام تعلیم رائج ہے۔پاکستان میں دہشت گردی تبھی ختم ہو سکتی ہے جب ملک میں تمام بچیوں اور بچوں کے لیے تعلیم کے یکساں مواقع ہو ں اور وہ پوری آزادی کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں۔ اسی طریقے سے ملالہ کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔