ایف بی آرکامشتبہ ٹرانزیکشن پربینک ریکارڈ لینے کااختیارختم

انکم ٹیکس رولزمیں ترامیم،قرض معاف کرانے والوں کی تفصیلات بھی نہیں لے سکے گا

انکم ٹیکس رولزمیں ترامیم،قرض معاف کرانے والوں کی تفصیلات بھی نہیں لے سکے گا فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے ایف بی آرکے بینکوں سے قرضے معاف کرانیوالوں، کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ اورمشکوک ٹرانزیکشن کرنیوالوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے اختیارات ختم کردیے۔


ایف بی آرکے اختیارات کو صرف بینکوں سے قرضوں پرمنافع کی تفصیلات حاصل کرنے اور ایک ماہ میں 10لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم نکلوانے والوں کے کوائف اور ان سے کٹوتی کردہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی اسٹیٹ منٹس تک محدود کردیاگیا۔ بینکوں کویہ معلومات آن لائن سسٹم کے ذریعے ایف بی آرکو فراہم کرناہوں گی اسی طرح بینکوں کونان فائلرز کیساتھ ساتھ مخصوص کیٹیگری کے حامل فائلر ٹیکس دہندگان کی تفصیلات بھی آن لائن ایف بی آرکو دینا ہوں گی۔ ایف بی آرنے باقاعدہ طور پر ایس آراو جاری کردیا، جس کے ذریعے انکم ٹیکس رْولز2002 میں ترامیم کردی گئیں۔

اس بارے میں جب ایف بی آرحکام سے رابطہ کیاگیاتوانھوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے ضمنی فنانس ایکٹ 2018 کے ذریعے پارلیمنٹ سے ایف بی آرکے اختیارات میں کمی کی منظوری دی تھی اور ضمنی فنانس ایکٹ چونکہ نافذ ہوچکاہے اس لیے اس ایکٹ کے ذریعے انکم ٹیکس رْولز میں کی جانیوالی ترامیم کے مطابق قانونی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
Load Next Story