سیریز گنوانے کے بعد بھولے بسرے پلیئرز کی یاد آنے لگی
کلین سوئپ کی خفت سے بچنے کیلیے کوشاں گرین کیپس تبدیلیوں کا فیصلہ کرنے پر مجبور
ناکامیوں کے ٹریک پرگامزن ٹیم جوہانسبرگ پہنچ گئی، سفر کے بعد کرکٹرزکی آرام کو ترجیح فوٹو: فائل
پاکستان کو سیریز گنوانے کے بعد بھولے بسرے پلیئرز کی یاد آنے لگی کلین سوئپ کی خفت سے بچنے کیلیے کوشاں گرین کیپس تبدیلیوں کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں۔
شاداب خان، فہیم اشرف اور محمد رضوان کو شامل کرنے پر غور ہونے لگا، ناکامیوں کے ٹریک پر گامزن ٹیم گزشتہ روز جوہانسبرگ پہنچ گئی، ہوائی سفر کے بعد کرکٹرز نے آرام کو ترجیح دی، بدھ اور جمعرات کو پریکٹس سیشنز میں صلاحیتیں نکھارنے کیلیے کام کریں گے۔ ٹیسٹ سیریز کا تیسرا اور آخری میچ جمعے کو شروع ہوگا، وانڈررز اسٹیڈیم میں پاکستان3میچز میں ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکا، گزشتہ ٹیسٹ ڈراؤنا خواب ثابت ہوا،کپتان مصباح الحق اور ریکارڈ ساز یونس خان کی خدمات حاصل ہونے کے باوجود پوری ٹیم اپنی تاریخ کے کم ترین ٹوٹل 49پر ڈھیر ہوگئی تھی، ڈیل اسٹین نے بیٹنگ کو چھلنی کرتے ہوئے میچ میں11وکٹوں کے ساتھ 211رنز سے فتح کا راستہ بنایا۔ تفصیلات کے مطابق سنچورین اور کیپ ٹاؤن میں شکستوں کا سامنا کرتے ہوئے سیریز گنوانے والی پاکستان ٹیم تیسرے ٹیسٹ کیلیے جوہانسبرگ پہنچ چکی، مہمان کرکٹر نے بذریعہ ہوائی جہاز سفر کرتے ہوئے اپنی منزل پر آمد کے بعد آرام کو ترجیح دی۔
بدھ کو وانڈررز اسٹیڈیم میں پہلا پریکٹس سیشن ہوگا جس میں کھلاڑی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں اپنی صلاحیتیں نکھارنے کی کوشش کریں گے،اگلے روز بھی ٹریننگ کا بھرپور موقع ملے گا، تیسرا ٹیسٹ جمعے کو شروع ہوگا، یواے ای میں نیوزی لینڈ سے سیریز کے فیصلہ کن میچ میں شکست کے بعد جنوبی افریقہ کی مشکل کنڈیشنز میں سنچورین میں بیٹنگ نے سخت مایوس کیا، کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بیٹسمین بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے تو بولرز بھی میزبانوں کو بڑی سبقت لینے سے نہ روک سکے، دوسری اننگز میں پاکستانی بیٹنگ نے قدرے بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن شکست نہ ٹالی جا سکی، کپتان سرفراز احمد نے بولرز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا تھا جبکہ ہیڈکوچ مکی آرتھر نے پانچواں بولر نہ کھلانے کی وجہ شاداب خان کی انجری بتائی،جوہانسبرگ میں یاسر شاہ کی جگہ نوجوان لیگ اسپنر کو کھلائے جانے کا امکان روشن ہے، ٹیم ذرائع کے مطابق فٹنس مسائل کے ساتھ پاکستان سے جنوبی افریقہ روانہ کیے جانے والے شاداب خان مکمل فٹ ہوچکے،انھوں نے کیپ ٹاؤن میں ہی بھرپور ٹریننگ شروع کردی تھی، ہیڈ کوچ مکی آرتھر نوجوان لیگ اسپنر کو ایک آل راؤنڈر کے روپ میں ٹیم کی بیٹنگ کیلیے بھی سہارا سمجھ رہے ہیں۔
فہیم اشرف اور محمد رضوان کو شامل کیے جانے پر بھی غور ہونے لگا،کسی پیسر کو آرام دینے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے،فخرزمان کو بھی ڈراپ کیے جانے کا امکان بڑھ گیا۔یاد رہے کہ جوہانسبرگ کے وانڈرز اسٹیڈیم میں پاکستان کا ریکارڈ اچھا نہیں،وہاں کھیلے 3 میچز میں میزبان ٹیم2میں سرخرو ہوئی،ایک مقابلہ ڈرا ہوا،جنوری 1995میں جنوبی افریقہ نے 324رنز سے فتح پائی، فروری1998میں میچ ڈرا ہوا، وہاں کھیلا جانے والا آخری میچ پاکستان کیلیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا، فروری 2013میں جنوبی افریقہ نے جیک کیلس کی ففٹی جبکہ ڈوپلیسی کے41 رنز کی بدولت 253کا مجموعہ حاصل کیا۔
محمد حفیظ صرف 16رنز دے کر 4شکار کرنے میں کامیاب ہوئے،کپتان مصباح الحق اور ریکارڈ ساز یونس خان کی خدمات حاصل ہونے کے باوجود ٹیم تاریخ کے کم ترین ٹوٹل 49پر ڈھیر ہوگئی،ڈیل اسٹین6 جبکہ ورنون فلینڈر اور جیک کیلس 2،2وکٹیں لے اڑے۔پروٹیز نے 3وکٹ پر 275رنز بناکر اننگز ڈیکلیئرڈ کرتے ہوئے 480کا ہدف دیا،اے بی ڈی ویلیئرز 103 اور ہاشم آملا 74پر ناٹ آؤٹ رہے، کپتان گریم اسمتھ نے بھی ففٹی بنائی،پاکستان ٹیم 268 تک محدود رہی اور211رنز سے شکست گلے کا ہار بنی،مصباح الحق64، اسد شفیق56اور ناصر جمشید 46رنز کی مزاحمت کے باجود ناکامی کو نہ ٹال سکے، ڈیل اسٹین دوسری اننگز میں 5وکٹیں لے اڑے، ورنون فلینڈر اور مورنے مورکل نے 2،2وکٹیں لی تھیں۔
شاداب خان، فہیم اشرف اور محمد رضوان کو شامل کرنے پر غور ہونے لگا، ناکامیوں کے ٹریک پر گامزن ٹیم گزشتہ روز جوہانسبرگ پہنچ گئی، ہوائی سفر کے بعد کرکٹرز نے آرام کو ترجیح دی، بدھ اور جمعرات کو پریکٹس سیشنز میں صلاحیتیں نکھارنے کیلیے کام کریں گے۔ ٹیسٹ سیریز کا تیسرا اور آخری میچ جمعے کو شروع ہوگا، وانڈررز اسٹیڈیم میں پاکستان3میچز میں ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکا، گزشتہ ٹیسٹ ڈراؤنا خواب ثابت ہوا،کپتان مصباح الحق اور ریکارڈ ساز یونس خان کی خدمات حاصل ہونے کے باوجود پوری ٹیم اپنی تاریخ کے کم ترین ٹوٹل 49پر ڈھیر ہوگئی تھی، ڈیل اسٹین نے بیٹنگ کو چھلنی کرتے ہوئے میچ میں11وکٹوں کے ساتھ 211رنز سے فتح کا راستہ بنایا۔ تفصیلات کے مطابق سنچورین اور کیپ ٹاؤن میں شکستوں کا سامنا کرتے ہوئے سیریز گنوانے والی پاکستان ٹیم تیسرے ٹیسٹ کیلیے جوہانسبرگ پہنچ چکی، مہمان کرکٹر نے بذریعہ ہوائی جہاز سفر کرتے ہوئے اپنی منزل پر آمد کے بعد آرام کو ترجیح دی۔
بدھ کو وانڈررز اسٹیڈیم میں پہلا پریکٹس سیشن ہوگا جس میں کھلاڑی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں اپنی صلاحیتیں نکھارنے کی کوشش کریں گے،اگلے روز بھی ٹریننگ کا بھرپور موقع ملے گا، تیسرا ٹیسٹ جمعے کو شروع ہوگا، یواے ای میں نیوزی لینڈ سے سیریز کے فیصلہ کن میچ میں شکست کے بعد جنوبی افریقہ کی مشکل کنڈیشنز میں سنچورین میں بیٹنگ نے سخت مایوس کیا، کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بیٹسمین بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے تو بولرز بھی میزبانوں کو بڑی سبقت لینے سے نہ روک سکے، دوسری اننگز میں پاکستانی بیٹنگ نے قدرے بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن شکست نہ ٹالی جا سکی، کپتان سرفراز احمد نے بولرز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا تھا جبکہ ہیڈکوچ مکی آرتھر نے پانچواں بولر نہ کھلانے کی وجہ شاداب خان کی انجری بتائی،جوہانسبرگ میں یاسر شاہ کی جگہ نوجوان لیگ اسپنر کو کھلائے جانے کا امکان روشن ہے، ٹیم ذرائع کے مطابق فٹنس مسائل کے ساتھ پاکستان سے جنوبی افریقہ روانہ کیے جانے والے شاداب خان مکمل فٹ ہوچکے،انھوں نے کیپ ٹاؤن میں ہی بھرپور ٹریننگ شروع کردی تھی، ہیڈ کوچ مکی آرتھر نوجوان لیگ اسپنر کو ایک آل راؤنڈر کے روپ میں ٹیم کی بیٹنگ کیلیے بھی سہارا سمجھ رہے ہیں۔
فہیم اشرف اور محمد رضوان کو شامل کیے جانے پر بھی غور ہونے لگا،کسی پیسر کو آرام دینے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے،فخرزمان کو بھی ڈراپ کیے جانے کا امکان بڑھ گیا۔یاد رہے کہ جوہانسبرگ کے وانڈرز اسٹیڈیم میں پاکستان کا ریکارڈ اچھا نہیں،وہاں کھیلے 3 میچز میں میزبان ٹیم2میں سرخرو ہوئی،ایک مقابلہ ڈرا ہوا،جنوری 1995میں جنوبی افریقہ نے 324رنز سے فتح پائی، فروری1998میں میچ ڈرا ہوا، وہاں کھیلا جانے والا آخری میچ پاکستان کیلیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا، فروری 2013میں جنوبی افریقہ نے جیک کیلس کی ففٹی جبکہ ڈوپلیسی کے41 رنز کی بدولت 253کا مجموعہ حاصل کیا۔
محمد حفیظ صرف 16رنز دے کر 4شکار کرنے میں کامیاب ہوئے،کپتان مصباح الحق اور ریکارڈ ساز یونس خان کی خدمات حاصل ہونے کے باوجود ٹیم تاریخ کے کم ترین ٹوٹل 49پر ڈھیر ہوگئی،ڈیل اسٹین6 جبکہ ورنون فلینڈر اور جیک کیلس 2،2وکٹیں لے اڑے۔پروٹیز نے 3وکٹ پر 275رنز بناکر اننگز ڈیکلیئرڈ کرتے ہوئے 480کا ہدف دیا،اے بی ڈی ویلیئرز 103 اور ہاشم آملا 74پر ناٹ آؤٹ رہے، کپتان گریم اسمتھ نے بھی ففٹی بنائی،پاکستان ٹیم 268 تک محدود رہی اور211رنز سے شکست گلے کا ہار بنی،مصباح الحق64، اسد شفیق56اور ناصر جمشید 46رنز کی مزاحمت کے باجود ناکامی کو نہ ٹال سکے، ڈیل اسٹین دوسری اننگز میں 5وکٹیں لے اڑے، ورنون فلینڈر اور مورنے مورکل نے 2،2وکٹیں لی تھیں۔