بنگلہ دیشی فکسنگ کیس کے ماسٹر مائنڈ کی تلاش جاری

آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے آفیشل ڈھاکا پہنچ گئے، مختلف شخصیات سے ملاقاتیں

آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے آفیشل ڈھاکا پہنچ گئے، مختلف شخصیات سے ملاقاتیں۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

BRUSSELS:
آئی سی سی کے اینٹی کرپشن و سیکیورٹی یونٹ کے ایک آفیشل فکسنگ کے ماسٹرمائنڈ کی تلاش میں پھر ڈھاکا پہنچ گئے۔

بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں سامنے آنے والے اسکینڈل کی چھان بین کیلیے مختلف لوگوں کے انٹرویوز شروع کردیے، آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے میں رپورٹ مکمل ہونے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں اسپاٹ فکسنگ کے کیس کی تفتیش پر مامور اینٹی کرپشن یونٹ کے ایک آفیشل پھر ڈھاکا پہنچ گئے ہیں۔

یہ کسی بھی اے سی ایس یو اہلکار کا گذشتہ کچھ عرصے میں چوتھا دورہ ہے۔ اس سے قبل اس کیس کے ایک اہم ملزم سابق کپتان محمد اشرفل سے تین مرتبہ پوچھ گچھ کی جاچکی اور بعد میں وہ اپنے جرم کا اعتراف بھی کرچکے ہیں۔




کچھ عرصے قبل اے سی ایس یو کے 2آفیشلز نے ڈھاکا گلیڈی ایٹر کے منیجنگ ڈائریکٹر شہاب چوہدری سے بھی پوچھ گچھ کی تھی مگر ٹیم کے مالک سلیم چوہدری ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے بچ گئے تھے۔ سلیم اور ان کے بیٹے شہاب کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اصل میں فکسنگ کا تمام پلان انھوں نے ہی تیار کیا اور اس مقصد کیلیے اشرفل کو راضی کیا تھا، ایونٹ کے آغاز سے قبل ہی سابق کپتان پر واضح کردیا گیا تھا کہ انھیں میچز کے دوران کیا کردار ادا کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن و سیکیورٹی یونٹ کو اس کیس کے ماسٹر مائنڈ کی تلاش اور اس بار بھی آفیشل کی ڈھاکا آمد کا مقصد یہی ہے، مذکورہ آفیشل ایک مقامی ہوٹل میں رہائش پذیر اور اس کیس کے سلسلے میں مختلف لوگوں سے پوچھ گچھ کا سلسلہ دوبارہ شروع کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد واپسی پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ نظم الحسن نے کہا تھا کہ اے سی ایس یو نے اس کیس کی تحقیقات مکمل کرنے کیلیے مزید وقت طلب کرلیا، اس سلسلے میں رپورٹ اگست کے پہلے ہفتے میں سامنے آسکتی ہے۔
Load Next Story