امریکا جرمنی اور ایران کا مصر کے معزول صدر کی رہائی کا مطالبہ

بین الاقوامی تنظیم کومعزول صدر رسائی دی جائے،جرمن وزارت خارجہ،یکطرفہ گرفتاریوں کی سخت مذمت کرتے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ

مرسی عوام کے بھاری مینڈیٹ سے منتخب ہوئے، انہیں معزول کرکے ملک میں جمہوریت پربراہ راست حملہ کیا گیا،سپریم کمانڈرایرانی فوج. فوٹو: رائٹرز

لاہور:
امریکا، جرمنی اور ایران کی جانب سے مصر میں حکومت کاتختہ الٹنے اورمرسی کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکا اور جرمنی نے مصرسے معزول صدرمرسی کی فوری رہائی اوران تک بین الاقوامی رسائی دینے کامطالبہ کیاہے ۔جرمن وزارت خارجہ نے مطالبہ کیاہے کہ مصرمیں تمام سیاسی جاعتوںکو تشدد کے استعمال اور اس کی دھمکیوں سے اجتناب کرناچاہیے اس کے علاوہ قاہرہ میں نئی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیاہے کہ کسی بین الاقوامی تنظیم کومعزول اسلام پسندصدرمحمدمرسی تک رسائی کاموقع بھی دینا چاہیے۔امریکا نے مصرکی حکومت کاتختہ الٹنے کے بعدپہلی مرتبہ مصر کے فوجی اورعبوری رہنماؤں پر زور دیاہے کہ وہ انہیں رہاکردیں۔




امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین پساکی نے کہاکہ امریکاجرمنی کی طرف سے کی جانے والی اس اپیل سے اتفاق کرتاہے کہ مرسی کو رہا کردیا جائے اوروہ سرعام اسی قسم کی درخواست کررہاہے عبوری رہنماؤں کے مطابق مرسی کومحفوظ مقام پر رکھا گیا ہے اور وہ تین جولائی کواپنی معزولی کے بعد سے سرعام نہیں دیکھے گئے ہیں۔پساکی نے کہا کہ امریکی حکام مصری معاشرے کے تمام شعبوں کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہیں تاہم یکطرفہ گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں۔خاتون ترجمان نے یہ کہنے سے انکار کردیا آیاامریکی انتظامیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مرسی کو رہا کردیا جاناچاہیے ،مرسی کی اخوان المسلمون اور مرسی کے مخالفین نے گزشتہ روزقاہرہ بھرمیں علیحدہ علیحدہ ریلیاں نکالیں جس سے اس امر کاخدشہ پیدا ہو گیاکہ عرب دنیا کے انتہائی گنجان آبادملک میں مزید خون خرابہ ہوگا۔

ادھرایران کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر جنرل حسن فیروزابادی نے مرسی کی فوجی بغاوت کے ذریعے صدارت سے برطرفی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جنرل فیروزآبادی نے کہا کہ محمد مرسی عوام کے بھاری مینڈیٹ سے صدر منتخب ہوئے فوج نے انہیں معزول کرکے ملک میں جمہوریت پر براہ راست حملہ کیاہے ،مصر میں خون ریزی کے حالیہ افسوسناک واقعات جمہوریت پر شب خون مارنے کا نتیجہ ہیں مصری مسلح افواج کو اب اندازہ ہونا چاہیے کہ ان سے کتنی بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے ،میرا خیال ہے کہ مصر کی مسلح افواج کا ملک کے منتخب صدر کو تمام معاملات کو درست کرنے کے لیے48گھنٹے کا الٹی میٹم دیناعقل سلیم اور انقلابی روایات کے منافی اقدام تھا۔
Load Next Story