گیس قلت پر وزیراعظم کا ایکشن
اب متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے ذمے داروں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دلائیں
اب متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے ذمے داروں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دلائیں۔ فوٹو: فائل
وزیر اعظم نے ملک بھر میں بجلی اور گیس کی صورتحال معمول پر لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی سہولت کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں، گیس لوڈ مینجمنٹ پر جامع منصوبہ بندی کی جائے، بجلی لوڈشیڈنگ ختم کرنے پر تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس ہوا، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیرِ پٹرولیم غلام سرور، وزیر برائے توانائی عمر ایوب، وزیرِ ریلوے شیخ رشید، وزیرِ منصوبہ بندی خسرو بختیار، وزیرِ برائے بحری امور علی حیدر زیدی و دیگر شریک ہوئے ۔اجلاس کے دوران وزیر اعظم کو ملک میں گیس کی طلب اور رسدکے حوالے سے موصول شکایات کے ازالے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر مفصل بریفنگ دی گئی ۔حکومت نے نئی گیس پالیسی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
گیس کی ملک گیر قلت اور یخ بستہ موسم میں عوام کو شہری و دورافتادہ علاقوں میں ٹھنڈ اور دھند کے باعث گیس بحران کے باعث شدید مصائب درپیش ہیں، بعض شہروں میں گیس بجلی پانی اور دھند کے اجتماعی مسائل کی شدت انتہائی درد انگیز بتائی جاتی ہے، ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں ان مسائل کے حل کے لیے وفاقی وزیر برائے پٹرولیم غلام سرور خان نے ہنگامی دورے کیے تھے، وزیراعظم نے اسی روز اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات و قدرتی گیس کی صورتحال کی بہتری کی ہدایت بھی جاری کی، مگر حکام محکمہ جاتی اعداد وشمار کے دھندلکوں کی نذر ہوئے جب کہ صارفین کو گیس، سی این جی ، بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام مفلوج ملا ، میڈیا کے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے سوئی سدرن اور ناردرن کے ایم ڈیز کی برطرفی کے احکامات جاری کیے۔
ذرائع کا کہنا تھا اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر بیوروکریٹس پر برہم ہوئے، وزیر خزانہ نے کہا کہ ایجنڈہ کی تیاری کے باوجود آپ لوگ تیار ہوکر نہیں آئے، حقیقت یہ ہے کہ گیس ، بجلی ، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی میں تعطل فرسودہ سسٹم کی داخلی خرابیوں اور افسرشاہی کے تجاہل عارفانہ کا اجتماعی شاخسانہ ہے، یوں بھی بد قسمت عوام برس ہا برس سے لوڈ شیڈنگ سمیت مختلف النوع مسائل سے دوچار ہیں لہٰذا حکومت سے آس لگائے ہوئے عوام کو اب امید یہی ہے کہ حکومت انھیں بے یارو مددگار نہیں چھوڑ ے گی ۔ واضح رہے 12 دسمبر کو سندھ اور پنجاب میں صنعتی سرگرمیاں گیس بحران کی وجہ سے معطل ہوکر رہ گئی تھیں جب کہ وزیراعظم نے اسی روز اجلاس طلب کرکے حکام کو صورتحال کی فوری اصلاح کی ہدایت کی۔
اگلے روز اسلام آباد میں جو اجلاس ہوا اس میں ملک بھر میں بجلی اور گیس کی موجودہ صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے ملک بھر میں بجلی اور گیس کی صورتحال معمول پر لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گیس لوڈ مینجمنٹ پر جامع منصوبہ بندی کی جائے، بجلی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے پر تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیرِاعظم وزراء پر برس پڑے اور کہا کہ میں دنیا سے پیسے مانگ رہا ہوں اور آپ اربوںکا نقصان کر رہے ہیں، شدید سردی میں بھی گھنٹوں لوڈشیڈنگ پر وفاقی وزراء غلام سرور خان اور عمر ایوب ذمے داری ایک دوسرے پر ڈالنے لگے ۔ حکام کو ادراک کرنا چاہیے کہ موسمی تبدیلیوں سے دوچار ملک کے عوام کو سردیوں میں بجلی اور گیس کی قلت کا سامنا ہو اور کوئی وزیراعظم کو حقیقی صورتحال سے آگاہ نہ کرسکے تو وزیراعظم کی برہمی کسی طور بلاجواز نہیں ہوسکتی چنانچہ وزیر اعظم نے ایک ہفتے میںگیس کی کمی پوری کرنے اور بجلی چوری کے خلاف مہم مزید تیزکرنے کی ہدایت کی ۔
اب متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے ذمے داروں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دلائیں، یہ حقیقت ہے کہ کسی کی گیس یا بجلی چوری یا بدانتظامی کا خمیازہ عوام کیوں بھگتیں ، اس لیے مختلف شعبوں میں گیس کی طلب و استعمال اور تخمینوں سے متعلقہ مسائل کے مستقل حل کے لیے متعلقہ محکموںکے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید بہتر ہونا چاہیے، وزیراعظم کو بریفنگ کے دوران بتایاگیاکہ اس وقت سسٹم میں سے بارہ سے تیرہ فیصد گیس چوری ہو رہی ہے،ایم ڈی سوئی ناردرن نے کہاکہ غیر قانونی کمپریسرزکے استعمال کے جرم میں اب تک پانچ ہزارکنکشن منقطع کیے جا چکے ہیں۔اجلاس کوبتایا گیا بجلی چوری کے خلاف مہم کے نتیجے میں نومبر میں ڈیڑھ ارب روپے کی بچت ہوئی،بجلی چوری کے خلاف مہم میں اب تک 16000مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت نے فرنس آئل کی درآمدات فوری روکنے کا حکم دے دیا، پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان کے مطابق اس ضمن میں ملک میں قائم تیل کی تمام ریفائنریزکو صلاحیت اور معیار بہتر کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت عوام کو درپیش بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی میں اسی طرح بروقت ایکشن لے تو بہت سی خرابیوں کا ازالہ ہوسکتا ہے۔گیس ، بجلی پانی تو بنیادی ضروریات ہیں۔ کہنے کی ضرورت نہیں۔
گیس کی ملک گیر قلت اور یخ بستہ موسم میں عوام کو شہری و دورافتادہ علاقوں میں ٹھنڈ اور دھند کے باعث گیس بحران کے باعث شدید مصائب درپیش ہیں، بعض شہروں میں گیس بجلی پانی اور دھند کے اجتماعی مسائل کی شدت انتہائی درد انگیز بتائی جاتی ہے، ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں ان مسائل کے حل کے لیے وفاقی وزیر برائے پٹرولیم غلام سرور خان نے ہنگامی دورے کیے تھے، وزیراعظم نے اسی روز اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات و قدرتی گیس کی صورتحال کی بہتری کی ہدایت بھی جاری کی، مگر حکام محکمہ جاتی اعداد وشمار کے دھندلکوں کی نذر ہوئے جب کہ صارفین کو گیس، سی این جی ، بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام مفلوج ملا ، میڈیا کے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے سوئی سدرن اور ناردرن کے ایم ڈیز کی برطرفی کے احکامات جاری کیے۔
ذرائع کا کہنا تھا اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر بیوروکریٹس پر برہم ہوئے، وزیر خزانہ نے کہا کہ ایجنڈہ کی تیاری کے باوجود آپ لوگ تیار ہوکر نہیں آئے، حقیقت یہ ہے کہ گیس ، بجلی ، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی میں تعطل فرسودہ سسٹم کی داخلی خرابیوں اور افسرشاہی کے تجاہل عارفانہ کا اجتماعی شاخسانہ ہے، یوں بھی بد قسمت عوام برس ہا برس سے لوڈ شیڈنگ سمیت مختلف النوع مسائل سے دوچار ہیں لہٰذا حکومت سے آس لگائے ہوئے عوام کو اب امید یہی ہے کہ حکومت انھیں بے یارو مددگار نہیں چھوڑ ے گی ۔ واضح رہے 12 دسمبر کو سندھ اور پنجاب میں صنعتی سرگرمیاں گیس بحران کی وجہ سے معطل ہوکر رہ گئی تھیں جب کہ وزیراعظم نے اسی روز اجلاس طلب کرکے حکام کو صورتحال کی فوری اصلاح کی ہدایت کی۔
اگلے روز اسلام آباد میں جو اجلاس ہوا اس میں ملک بھر میں بجلی اور گیس کی موجودہ صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے ملک بھر میں بجلی اور گیس کی صورتحال معمول پر لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گیس لوڈ مینجمنٹ پر جامع منصوبہ بندی کی جائے، بجلی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے پر تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیرِاعظم وزراء پر برس پڑے اور کہا کہ میں دنیا سے پیسے مانگ رہا ہوں اور آپ اربوںکا نقصان کر رہے ہیں، شدید سردی میں بھی گھنٹوں لوڈشیڈنگ پر وفاقی وزراء غلام سرور خان اور عمر ایوب ذمے داری ایک دوسرے پر ڈالنے لگے ۔ حکام کو ادراک کرنا چاہیے کہ موسمی تبدیلیوں سے دوچار ملک کے عوام کو سردیوں میں بجلی اور گیس کی قلت کا سامنا ہو اور کوئی وزیراعظم کو حقیقی صورتحال سے آگاہ نہ کرسکے تو وزیراعظم کی برہمی کسی طور بلاجواز نہیں ہوسکتی چنانچہ وزیر اعظم نے ایک ہفتے میںگیس کی کمی پوری کرنے اور بجلی چوری کے خلاف مہم مزید تیزکرنے کی ہدایت کی ۔
اب متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے ذمے داروں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دلائیں، یہ حقیقت ہے کہ کسی کی گیس یا بجلی چوری یا بدانتظامی کا خمیازہ عوام کیوں بھگتیں ، اس لیے مختلف شعبوں میں گیس کی طلب و استعمال اور تخمینوں سے متعلقہ مسائل کے مستقل حل کے لیے متعلقہ محکموںکے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید بہتر ہونا چاہیے، وزیراعظم کو بریفنگ کے دوران بتایاگیاکہ اس وقت سسٹم میں سے بارہ سے تیرہ فیصد گیس چوری ہو رہی ہے،ایم ڈی سوئی ناردرن نے کہاکہ غیر قانونی کمپریسرزکے استعمال کے جرم میں اب تک پانچ ہزارکنکشن منقطع کیے جا چکے ہیں۔اجلاس کوبتایا گیا بجلی چوری کے خلاف مہم کے نتیجے میں نومبر میں ڈیڑھ ارب روپے کی بچت ہوئی،بجلی چوری کے خلاف مہم میں اب تک 16000مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت نے فرنس آئل کی درآمدات فوری روکنے کا حکم دے دیا، پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان کے مطابق اس ضمن میں ملک میں قائم تیل کی تمام ریفائنریزکو صلاحیت اور معیار بہتر کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت عوام کو درپیش بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی میں اسی طرح بروقت ایکشن لے تو بہت سی خرابیوں کا ازالہ ہوسکتا ہے۔گیس ، بجلی پانی تو بنیادی ضروریات ہیں۔ کہنے کی ضرورت نہیں۔