ای او بی آئی پنشن میں بیس فی صد اضافہ کی سمری

لاکھوں غریبوں کی پنشن کم ازکم پندرہ ہزار مقررکی جائے

لاکھوں غریبوں کی پنشن کم ازکم پندرہ ہزار مقررکی جائے: فوٹو : فائل

ای او بی آئی پنشنرزکی ماہانہ پنشن میں بیس فیصد اضافے کی سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بجھوا دی گئی ہے ۔ ماہانہ پنشن 5250روپے سے بڑھ کر چھ ہزار پانچ سوروپے ہوجائے گی۔ '' ہیں بہت تلخ بندہ مزدورکے اوقات '' کے مصداق لاکھوں مزدوروں اورکارکنوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیا۔

اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو ای او بی آئی کے فنڈز، کارکنوں کی اپنی دن رات کی سالہا سال کی خون پسینے کی کمائی سے قائم ہوئے اور ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ مزدور کو لازمی سوشل انشورنس فراہم کرکے آئین کے آرٹیکل 38 سی کے مقاصد حاصل کیے جا سکتے تھے اور ای او بی آئی ایکٹ کے تحت حکومت کو بھی آدھا حصہ کنٹری بیوٹ کرنا تھا جو 1995ء تک کرتی رہی مگر اس کے بعد اس نے اپنا حصہ ڈالنا بند کردیا۔ ادارے کے موجودہ اثاثہ جات تین سو ارب روپے سے زیادہ ہیں لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ بیوروکریسی اور حکمراںغریب مزدوروں کی اس رقم میں کرپشن کررہے ہیں۔ اس مہنگائی کے دور میں صرف چند ہزار روپے کی معمولی رقم پنشن کے نام پر بھیک کی طرح دی جاتی ہے۔


امر واقعہ یہ ہے کہ عدالت عظمٰی کی طرف سے دس گیارہ ماہ قبل اس حوالے سے کیس سماعت کرتے ہوئے فاضل جج نے ریمارکس دیے تھے کہ 5250 کی پنشن میں پیشنرزکو دو وقت کی روٹی نہیں ملتی۔ اب اگر ادارے نے 1250 روپے کے اضافے کی سمری کابینہ کو بجھوائی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنشنرز کی کسمپرسی اور بدحالی کیا خوشحالی میں تبدیل ہوجائے گی؟

بہتر یہی تھا ۔وزیر اعظم کے مشیر اپنے حتمی اعلان سے چند یوم قبل کہتے رہے کہ ای او بی آئی کی پنشن 10ہزار کردی جائے گی ساتھ ہی تاریخ بھی دے دی کہ یہ اضافہ 14 نومبر سے ہوگا، لیکن یہ اضافہ اب کب کیا جائے گا خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔ حکومت ہر سال بجٹ میں سرکاری ملازمین کی پنشن میں دس تا پندرہ فی صد اضافہ کرتی ہے مگر افسوس کہ ای او بی آئی کے تحت رجسٹرڈ پنشنرزکی پنشن میں کبھی اضافہ نہیں کیا جاتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ای او بی آئی کے پنشنروں سے اس قسم کے سلوک کا نوٹس وزیراعظم عمران خان کی طرف سے خود لیا جائے اور لاکھوں غریبوں کی پنشن کم ازکم پندرہ ہزار مقررکی جائے۔
Load Next Story