پاک بھارت مذاکرات کا احیاء

اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت نے باہمی مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ اتفاق رائے...

اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت نے باہمی مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ فوٹو: فائل

اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت نے باہمی مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ اتفاق رائے وزرائے خارجہ اور بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے روابط سے ہوا ہے۔ جہاں تک پاک بھارت مذاکرات کا تعلق ہے تو یہ کبھی جاری رہتے ہیں اور کبھی ان میں تعطل آ جاتا ہے۔ ایوب خان کے دور آمریت میں مذاکرات کا یہ سلسلہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے مابین وقفے وقفے سے جاری رہا کرتا تھا جس میں پاکستان کی نمائندگی ذوالفقار علی بھٹو جب کہ بھارت کی طرف سے سردار سورن سنگھ مذاکرات کی میز پر بیٹھتے تھے مگر ان مذاکرات کا کبھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو سکا تاآنکہ دونوں ملکوں میں 65کی جنگ چھڑ گئی جو بالآخر بھٹو صاحب کی جنرل ایوب کی حکومت سے علیحدگی پر منتج ہوئی۔

بعد کی حکومتوں نے بھی متنازعہ مسائل کے حل اور باہمی تعلقات کی بحالی کے لیے بار بار مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا مگر ہر بار ہی کوئی نہ کوئی ایسی انہونی ہو جاتی رہی کہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہو جاتا۔ آخری مذاکرات ممبئی حملے کے نتیجے میں ٹوٹے۔ اب تازہ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے ایک بار پھر مذاکراتی عمل شروع کرنے کا روڈ میپ تیار کر لیا ہے۔ مذاکرات کے معطل رائونڈز میں سات ایجنڈا آئٹمز میں سے پانچ پر پاکستان جب کہ دو پر بھارت میں سیکریٹریز اور ماہرین کی سطح کے مذاکرات شروع ہوں گے۔ مذاکرات کے موضوعات میں مسئلہ کشمیر، دونوں ملکوں اور پورے خطے کا امن و سلامتی، پانی کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ نیز سرکریک اور دوستانہ روابط کے فروغ پر مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔ سیاچن ایشو پر سیکریٹریز دفاع اور دہشتگردی کے خلاف تعاون پر سیکریٹری داخلہ سطح کے مذاکرات دہلی میں ہوں گے۔


مذاکرات کے لیے حتمی تاریخوں کا تعین باہمی مشاورت سے کیا جائیگا۔ مذاکراتی عمل کا جائزہ لینے کے لیے وزرائے خارجہ کے مذاکرات بھی دہلی میں ہوں گے۔ مذاکراتی عمل کے دوران وزرائے اعظم کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ ستمبر میں نواز شریف اور من موہن سنگھ کے درمیان ملاقات نیو یارک میں ہو گی، 9 نومبر کو دونوں وزرائے اعظم کولمبو میں دولت مشترکہ کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملیں گے۔ دونوں وزرائے اعظم کی تیسری ملاقات سارک سربراہی اجلاس کے موقع پر نیپال میں ہو نے کا امکان ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جلد بحال ہونا چاہیے' مذاکرات سے ہی الجھے ہوئے مسائل حل ہو سکتے ہیں لہٰذا پاکستان اور بھارت کی قیادت کو عالمی اور خطے کے حالات کو سمجھتے ہوئے مذاکرات بحال کرنے چاہئیں تاکہ متنازعہ مسائل کے حل کی کوئی صورت نکل سکے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہے۔ بھارت میں بھی اسی قسم کا تاثر موجود ہے۔ موجودہ ساز گار ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ملکوں کی قیادت کو مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنا چاہیے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جو متنازعہ معاملات ہیں انھیں حل کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم منموہن سنگھ کی ستمبر میں نیو یارک میں ہونے والی ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس ملاقات کے یقینی طور پر مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
Load Next Story