ہفتہ رفتہ روئی کی عالمی مارکیٹ میں مندی مقامی بھاؤ مستحکم
اسپاٹ ریٹ 150روپے اضافے سے 6ہزار 550، مقامی قیمتیں 100روپے اضافے کے ساتھ 6ہزار 700روپے فی من ہوگئیں۔
بھارت،انڈونیشیا،ویتنام کو بڑھتی برآمدات اور نئی فصل کی پھٹی میں غیر متوقع کمی کے باعث رواں ہفتے تیزی متوقع ہے،احسان الحق۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر (یو ایس ڈی اے) کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے دوران جاری ہونے والی رپورٹ جس میں 2013-14 کے دوران دنیا بھر میں روئی کی پیداوار میں پہلے تخمینوں کے مقابلے میں زیادہ اور کھپت کم ہونے بارے رپورٹ جاری کی گئی تھیں، کے باعث کپاس کی بین الاقوامی منڈی میں گزشتہ ہفتے کے دوران مندی کا رجحان غالب رہا۔
جبکہ پھٹی کی آمد میں غیر متوقع کمی اور روئی کے بڑے برآمدی آرڈرز کے باعث پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں خاصا استحکام دیکھا گیا۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس ''کو بتایا کہ یو ایس ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2013-14 کے دوران دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار 118.02ملین بیلز (480پاؤنڈ) متوقع ہے جو کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی رپورٹس سے 0.86ملین بیلز زیادہ ہیں جبکہ مذکورہ رپورٹ میں 2013-14 کے دوران دنیا بھرمیں روئی کی کھپت کا اندازہ 109.79ملین بیلز لگایا گیا ہے جو کہ پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 0.38ملین بیلز کم ہیں جبکہ مذکورہ رپورٹ پر میں روئی کی اینڈنگ اسٹاک کا اندازہ 94.39ملین بیلز لگایا گیا ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ریکارڈ 8.81ملین بیلز زیادہ ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ رپورٹس جاری ہونے کے بعد امریکہ،بھارت اور چائنہ میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان شروع ہو گیا ہے جس کے باعث نیویارک کاٹن ایکسچینج میں روئی کی قیمتیں ریکارڈ 2.12سینٹ فی پاؤنڈ جبکہ بھارت میں 163روپے فی کینڈی تک گر گئیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آغاز میں چین کی جانب سے روئی خریداری آرڈرز جاری ہونے کی اطلاعات اور دنیا بھر میں کپاس کی پیدوار توقع سے کم ہونے کے باعث بیشتر کاٹن مارکیٹس میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا تھا کہ جس کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں روئی کی قیمتیں پچھلے سات ہفتوں کی بلند ترین سطح 87.30سینٹ فی پاؤنڈ تک پہنچ گئیں تھی تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ اگر رواں ہفتے کے دوران چین نے روئی خریداری کا مزید کوٹہ جاری کرنے کا اعلان کیا تو اس سے رواں ہفتے کے دوران دوبارہ تیزی کا رجحان سامنے آ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈیلیوری روئی کے سودے 0.85سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 92.15سینٹ فی پاؤنڈ اکتوبر ڈیلیوری روئی کے سودے 1.30سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 85.13سینٹ فی پاؤنڈ چائنہ میں روئی کے سودے 244یو آن فی ٹن کمی کے بعد 20ہزار 172یو آن فی ٹن تک گر گئے جبکہ بھارت میں روئی کی قیمتیں چین کو سوتی دھاگے کی بڑی برآمدات کے باعث 650روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 43ہزار روپے فی کینڈی جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 150روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 550روپے فی من تک پہنچ گئے جبکہ پاکستان میں روئی کی قیمتیں 100روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 700روپے فی من تک پہنچ گئیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان سے بھارت ،انڈونیشیا اور ویت نام کو روئی کی بڑھتی ہوئی برآمدات اور نئی فصل کی پھٹی کی آمد میں غیر متوقع کمی کے باعث رواں ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان متوقع ہے۔
احسان الحق نے بتایا کہ کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی (سی سی اے سی) کی جانب سے 2013-14ء کے دوران پاکستان میں روئی کی پیداوار کا تخمینہ 1کروڑ 32لاکھ 50ہزار بیلز (170کلو گرام) لگایا گیا ہے جن میں سے 96لاکھ روئی کی بیلز پنجاب میں 35لاکھ 40ہزار سندھ میں1لاکھ 80ہزار بلوچستان میں جبکہ خیبرپختونخواں سے 7ہزار روئی کی بیلز کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔جبکہ قبل ازیں ایک اور ادارے کی جانب سے یہ تخمینہ 1کروڑ 41لاکھ بیلز لگایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے دو تین سال سے محکمہ موسمیات کی غلط پیش گوئیوں کے باعث پاکستان میں کپاس کی فصل کافی متاثر ہو رہی ہے اور انہیں غلط پیش گوئیوں کے باعث پاکستانی کاشت کار کافی متاثر ہو رہے ہیں جس میں خاص طور پر زیادہ بارشوں کی پیش گوئیوں کے باعث زمینداروں کی طرف سے کپاس کی کاشت نہ کرنا یا کپاس کی فصل کو آب پاشی نہ کرنے جیسے مسائل شامل ہیں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران محکمہ موسمیات نے جولائی کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی تھی جو کہ مکمل طور پر غلط ثابت ہوئی۔
یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر (یو ایس ڈی اے) کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے دوران جاری ہونے والی رپورٹ جس میں 2013-14 کے دوران دنیا بھر میں روئی کی پیداوار میں پہلے تخمینوں کے مقابلے میں زیادہ اور کھپت کم ہونے بارے رپورٹ جاری کی گئی تھیں، کے باعث کپاس کی بین الاقوامی منڈی میں گزشتہ ہفتے کے دوران مندی کا رجحان غالب رہا۔
جبکہ پھٹی کی آمد میں غیر متوقع کمی اور روئی کے بڑے برآمدی آرڈرز کے باعث پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں خاصا استحکام دیکھا گیا۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس ''کو بتایا کہ یو ایس ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2013-14 کے دوران دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار 118.02ملین بیلز (480پاؤنڈ) متوقع ہے جو کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی رپورٹس سے 0.86ملین بیلز زیادہ ہیں جبکہ مذکورہ رپورٹ میں 2013-14 کے دوران دنیا بھرمیں روئی کی کھپت کا اندازہ 109.79ملین بیلز لگایا گیا ہے جو کہ پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 0.38ملین بیلز کم ہیں جبکہ مذکورہ رپورٹ پر میں روئی کی اینڈنگ اسٹاک کا اندازہ 94.39ملین بیلز لگایا گیا ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ریکارڈ 8.81ملین بیلز زیادہ ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ رپورٹس جاری ہونے کے بعد امریکہ،بھارت اور چائنہ میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان شروع ہو گیا ہے جس کے باعث نیویارک کاٹن ایکسچینج میں روئی کی قیمتیں ریکارڈ 2.12سینٹ فی پاؤنڈ جبکہ بھارت میں 163روپے فی کینڈی تک گر گئیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آغاز میں چین کی جانب سے روئی خریداری آرڈرز جاری ہونے کی اطلاعات اور دنیا بھر میں کپاس کی پیدوار توقع سے کم ہونے کے باعث بیشتر کاٹن مارکیٹس میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا تھا کہ جس کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں روئی کی قیمتیں پچھلے سات ہفتوں کی بلند ترین سطح 87.30سینٹ فی پاؤنڈ تک پہنچ گئیں تھی تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ اگر رواں ہفتے کے دوران چین نے روئی خریداری کا مزید کوٹہ جاری کرنے کا اعلان کیا تو اس سے رواں ہفتے کے دوران دوبارہ تیزی کا رجحان سامنے آ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈیلیوری روئی کے سودے 0.85سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 92.15سینٹ فی پاؤنڈ اکتوبر ڈیلیوری روئی کے سودے 1.30سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 85.13سینٹ فی پاؤنڈ چائنہ میں روئی کے سودے 244یو آن فی ٹن کمی کے بعد 20ہزار 172یو آن فی ٹن تک گر گئے جبکہ بھارت میں روئی کی قیمتیں چین کو سوتی دھاگے کی بڑی برآمدات کے باعث 650روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 43ہزار روپے فی کینڈی جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 150روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 550روپے فی من تک پہنچ گئے جبکہ پاکستان میں روئی کی قیمتیں 100روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 700روپے فی من تک پہنچ گئیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان سے بھارت ،انڈونیشیا اور ویت نام کو روئی کی بڑھتی ہوئی برآمدات اور نئی فصل کی پھٹی کی آمد میں غیر متوقع کمی کے باعث رواں ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان متوقع ہے۔
احسان الحق نے بتایا کہ کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی (سی سی اے سی) کی جانب سے 2013-14ء کے دوران پاکستان میں روئی کی پیداوار کا تخمینہ 1کروڑ 32لاکھ 50ہزار بیلز (170کلو گرام) لگایا گیا ہے جن میں سے 96لاکھ روئی کی بیلز پنجاب میں 35لاکھ 40ہزار سندھ میں1لاکھ 80ہزار بلوچستان میں جبکہ خیبرپختونخواں سے 7ہزار روئی کی بیلز کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔جبکہ قبل ازیں ایک اور ادارے کی جانب سے یہ تخمینہ 1کروڑ 41لاکھ بیلز لگایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے دو تین سال سے محکمہ موسمیات کی غلط پیش گوئیوں کے باعث پاکستان میں کپاس کی فصل کافی متاثر ہو رہی ہے اور انہیں غلط پیش گوئیوں کے باعث پاکستانی کاشت کار کافی متاثر ہو رہے ہیں جس میں خاص طور پر زیادہ بارشوں کی پیش گوئیوں کے باعث زمینداروں کی طرف سے کپاس کی کاشت نہ کرنا یا کپاس کی فصل کو آب پاشی نہ کرنے جیسے مسائل شامل ہیں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران محکمہ موسمیات نے جولائی کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی تھی جو کہ مکمل طور پر غلط ثابت ہوئی۔