پولیس کا خوف ختم اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں عروج پر پہنچ گئیں
اسٹریٹ کرمنلز آزادانہ شہریوں سے لوٹ مار کر کے فرار ہوجاتے ہیں۔
رمضان المبارک میں خریداری کے لیے بازاروں اور شاپنگ سینٹرز میں آنے والی خواتین سے لوٹ مار کے واقعات میں بھی اچانک اضافہ ہوا ہے۔ فوٹو: فائل
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی شہر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں عروج پر پہنچ گئیں۔
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی عائد پابندی کے باوجود اسٹریٹ کرمنلز آزادانہ شہریوں سے لوٹ مار کر کے فرار ہوجاتے ہیں ، شہر میں جہاں دن دیہاڑے لوٹ مار کی وارداتیں عام ہیں وہیں پر شہر کے مختلف علاقے رات ہوتے ہی جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بن جاتے ہیں جہاں انھیں پولیس کا کوئی ڈر و خوف نہیں ہوتا،تفصیلات کے مطابق شہر میں جہاں ٹارگٹ کلنگ ، بم دھماکے ، اغوا کے بعد لاشیں پھینکنے اور بھتہ نہ دینے پر دستی بم حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے وہیں پر رمضان المبارک کی آمد سے ساتھ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بھی عروج پر پہنچ گئیں۔
رمضان المبارک میں خریداری کے لیے بازاروں اور شاپنگ سینٹرز میں آنے والی خواتین سے لوٹ مار کے واقعات میں بھی اچانک اضافہ ہوا ہے جہاں موٹر سائیکل سوار2ملزمان دن دیہاڑے اسلحے کے زور پر خواتین سے پرس اور طلائی زیورات چھین کر فرار ہوجاتے ہیں ، پولیس ذرائع کے مطابق اسٹریٹ کرمنلز بلوچ کالونی ایکسپریس وے، کاز وے، شہید ملت روڈ ، طارق روڈ ، بہادر آباد اور جیل روڈ سمیت ملحقہ علاقوں میں دند ناتے پھرتے ہیں اور موقع پاتے ہی راہگیروں کو نقدی ، موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیا سے محروم کر جاتے ہیں ، دھوراجی کی رہائشی خاتون روبینہ نے بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ رکشے میں طارق روڈ لبرٹی چوک کے قریب اتری تھیں اور ابھی خریداری کی غرض سے کچھ دور ہی گئی تھی کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان نے انھیں سر راہ اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر پرس چھین لیا اور موقع سے فرار ہوگئے جس میں 8 ہزار روپے اور سونے کی 2 انگوٹھیاں موجود تھیں جبکہ جلد بازی میں ملزمان ان سے موبائل فون چھیننا بھول گئے تھے جو بچ گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ملزمان کی دیدہ دلیری اور اطمینان سے اندازہ ہوتا تھا کہ انھیں پولیس کا اور موقع پر موجود راہگیروں کا کوئی خوف نہیں تھا اور وہ نہایت اطمینان سے واردات کے بعد جھیل پارک کی جانب فرار ہوگئے، طارق روڈ ، بہادر آباد اور شہید ملت روڈ پر چھینا جھپٹی کی بڑھتی وارداتوں نے شہریوں خصوصاً خواتین کو شدید خوف میں مبتلا کیا ہوا ہے جبکہ بلوچ کالونی ایکسپریس وے پر رات ہوتے ہی جرائم پیشہ عناصر کا راج شروع ہو جاتا ہے اور وہ بغیر کسی خوف و خطر پبلک ٹرانسپورٹ ، موٹر سائیکلوں اور کاروں میں سوار افراد کو اسلحے کے زور پر نقدی اور موبائل فون سے محروم کر دیتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی ناقص کارکردگی اور شہر میں ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری ، دستی بم حملوں اور اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کو دیکھتے ہوئے جب وہ گھر سے نکلتے ہیں تو ایک انجانا سا خوف ان کے دل میں ہوتا ہے اور ان کا سفر وسوسوں اور کسی ناگہانی واقعے کا شکار بن جانے کے خوف میں مبتلا رہتے ہوئے گزر جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں جبکہ پولیس کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ کے بعد ایسی متحرک دکھائی دیتی ہے کہ جیسے وہ کچھ ہی دیر میں دہشت گردوں کو پکڑ کر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دے گی، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر قابو پانے ، ان کے سدباب اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بلند و بانگ دعوے تو ضرور کیے جاتے ہیں تاہم ان پر عملدرآمد کرانے میں وہ ناکام دکھائی دیتے ہیں جس کا خمیازہ براہ راست شہریوں کو ہی برادشت کرنا پڑتا ہے اور اس میں ان کی جان بھی چلی جاتی ہے۔
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی عائد پابندی کے باوجود اسٹریٹ کرمنلز آزادانہ شہریوں سے لوٹ مار کر کے فرار ہوجاتے ہیں ، شہر میں جہاں دن دیہاڑے لوٹ مار کی وارداتیں عام ہیں وہیں پر شہر کے مختلف علاقے رات ہوتے ہی جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بن جاتے ہیں جہاں انھیں پولیس کا کوئی ڈر و خوف نہیں ہوتا،تفصیلات کے مطابق شہر میں جہاں ٹارگٹ کلنگ ، بم دھماکے ، اغوا کے بعد لاشیں پھینکنے اور بھتہ نہ دینے پر دستی بم حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے وہیں پر رمضان المبارک کی آمد سے ساتھ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بھی عروج پر پہنچ گئیں۔
رمضان المبارک میں خریداری کے لیے بازاروں اور شاپنگ سینٹرز میں آنے والی خواتین سے لوٹ مار کے واقعات میں بھی اچانک اضافہ ہوا ہے جہاں موٹر سائیکل سوار2ملزمان دن دیہاڑے اسلحے کے زور پر خواتین سے پرس اور طلائی زیورات چھین کر فرار ہوجاتے ہیں ، پولیس ذرائع کے مطابق اسٹریٹ کرمنلز بلوچ کالونی ایکسپریس وے، کاز وے، شہید ملت روڈ ، طارق روڈ ، بہادر آباد اور جیل روڈ سمیت ملحقہ علاقوں میں دند ناتے پھرتے ہیں اور موقع پاتے ہی راہگیروں کو نقدی ، موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیا سے محروم کر جاتے ہیں ، دھوراجی کی رہائشی خاتون روبینہ نے بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ رکشے میں طارق روڈ لبرٹی چوک کے قریب اتری تھیں اور ابھی خریداری کی غرض سے کچھ دور ہی گئی تھی کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان نے انھیں سر راہ اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر پرس چھین لیا اور موقع سے فرار ہوگئے جس میں 8 ہزار روپے اور سونے کی 2 انگوٹھیاں موجود تھیں جبکہ جلد بازی میں ملزمان ان سے موبائل فون چھیننا بھول گئے تھے جو بچ گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ملزمان کی دیدہ دلیری اور اطمینان سے اندازہ ہوتا تھا کہ انھیں پولیس کا اور موقع پر موجود راہگیروں کا کوئی خوف نہیں تھا اور وہ نہایت اطمینان سے واردات کے بعد جھیل پارک کی جانب فرار ہوگئے، طارق روڈ ، بہادر آباد اور شہید ملت روڈ پر چھینا جھپٹی کی بڑھتی وارداتوں نے شہریوں خصوصاً خواتین کو شدید خوف میں مبتلا کیا ہوا ہے جبکہ بلوچ کالونی ایکسپریس وے پر رات ہوتے ہی جرائم پیشہ عناصر کا راج شروع ہو جاتا ہے اور وہ بغیر کسی خوف و خطر پبلک ٹرانسپورٹ ، موٹر سائیکلوں اور کاروں میں سوار افراد کو اسلحے کے زور پر نقدی اور موبائل فون سے محروم کر دیتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی ناقص کارکردگی اور شہر میں ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری ، دستی بم حملوں اور اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کو دیکھتے ہوئے جب وہ گھر سے نکلتے ہیں تو ایک انجانا سا خوف ان کے دل میں ہوتا ہے اور ان کا سفر وسوسوں اور کسی ناگہانی واقعے کا شکار بن جانے کے خوف میں مبتلا رہتے ہوئے گزر جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں جبکہ پولیس کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ کے بعد ایسی متحرک دکھائی دیتی ہے کہ جیسے وہ کچھ ہی دیر میں دہشت گردوں کو پکڑ کر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دے گی، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر قابو پانے ، ان کے سدباب اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بلند و بانگ دعوے تو ضرور کیے جاتے ہیں تاہم ان پر عملدرآمد کرانے میں وہ ناکام دکھائی دیتے ہیں جس کا خمیازہ براہ راست شہریوں کو ہی برادشت کرنا پڑتا ہے اور اس میں ان کی جان بھی چلی جاتی ہے۔