اختر رسول کی جگہ طاہر زمان کو ہیڈ کوچ بنائے جانے کا امکان
آج پی ایچ ایف اجلاس میں اہم فیصلے متوقع، ایشیاکپ کیلیے ٹیم میں 2 تبدیلیاں۔
وسیم کی واپسی یقینی، موجودہ چیف کوچ ورلڈ ہاکی لیگ پر رپورٹ پیش کرینگے۔ فوٹو: فائل
قومی ہاکی ٹیم کے چیف کوچ و منیجر چوہدری اختر رسول ملائیشیا سے لاہور پہنچ گئے۔
وہ پیر کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیا کو ورلڈ ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ پیش کریں گے۔ ورلڈ ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اختر رسول نے ملائیشیا میں اپنا قیام بڑھا دیا تھا اور ٹیم کے ہمراہ واپس نہیں آئے۔ ذرائع کے مطابق اختر رسول پیر کو نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں پی ایچ ایف کے صدر قاسم ضیا اور سیکریٹری اختر رسول کو ورلڈ ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کی شکست کے اسباب اور آئندہ ماہ ہونے والے ایشیاکپ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے حوالہ سے اپنی تجاویز پیش کریں گے۔
ورلڈ ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کی شکست کے بعد ٹیم کے کوچ اختر رسول اور کنسلٹنٹ طاہر زمان کے مابین اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں جس سے پی ایچ ایف حکام کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔دوسری جانب پی ایچ ایف کا اعلی سطحی اجلاس اجلاس لاہور میں ہوگا۔نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں قاسم ضیاکی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں اختر رسول، حنیف خان اور طاہر زمان بھی میٹنگ کا حصہ ہوں گے، ذرائع کے مطابق اجلاس میں چیف کوچ و منیجر صدر پی ایچ ایف کو ورلڈ ہاکی سیریز کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کریں گے، اس موقع پر اختر رسول رضاکارانہ طور پر چیف کوچ کے عہدے سے سبکدوش ہو سکتے ہیں، ایسی صورت حال میں قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ کے لیے قرعہ طاہر زمان کے نام نکلنے کا امکان ہے۔
ٹیم منیجمنٹ میں تبدیلی کی صورت میں سلیکشن کمیٹی کی بحالی کا معاملہ بھی زیرغورآسکتا ہے، مزید معلوم ہوا ہے کہ ایشیاکپ کیلیے قومی ٹیم میں دو تین تبدیلیا ں متوقع ہیں، ٹیم کے سینئرکھلاڑی سابق کپتان وسیم احمد جو ورلڈ ہاکی لیگ سے چند روز قبل روڈ ایکسیڈنٹ میں زخمی ہوگئے تھے، ان کی ٹیم میں واپسی ہوگی جبکہ گول کیپرز کے حوالے سے بھی کوئی اہم فیصلہ متوقع ہے جن کی ناقص کارکردگی کو شدید تنقیدکا سامنا ہے۔ ہاکی کے حلقوں میں قومی ٹیم کی مینجمنٹ میں تبدیلی کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں تاہم وقت کی کمی کے باعث کوئی اور کوچ ٹیم کی کوچنگ کیلیے آمادہ دکھائی نہیں دیتا، قومی ٹیم کو اگلے برس ہونے والے ورلڈ کپ کیلیے ایشیاکپ جیتنا ضروری ہے۔
وہ پیر کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیا کو ورلڈ ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ پیش کریں گے۔ ورلڈ ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اختر رسول نے ملائیشیا میں اپنا قیام بڑھا دیا تھا اور ٹیم کے ہمراہ واپس نہیں آئے۔ ذرائع کے مطابق اختر رسول پیر کو نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں پی ایچ ایف کے صدر قاسم ضیا اور سیکریٹری اختر رسول کو ورلڈ ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کی شکست کے اسباب اور آئندہ ماہ ہونے والے ایشیاکپ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے حوالہ سے اپنی تجاویز پیش کریں گے۔
ورلڈ ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کی شکست کے بعد ٹیم کے کوچ اختر رسول اور کنسلٹنٹ طاہر زمان کے مابین اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں جس سے پی ایچ ایف حکام کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔دوسری جانب پی ایچ ایف کا اعلی سطحی اجلاس اجلاس لاہور میں ہوگا۔نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں قاسم ضیاکی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں اختر رسول، حنیف خان اور طاہر زمان بھی میٹنگ کا حصہ ہوں گے، ذرائع کے مطابق اجلاس میں چیف کوچ و منیجر صدر پی ایچ ایف کو ورلڈ ہاکی سیریز کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کریں گے، اس موقع پر اختر رسول رضاکارانہ طور پر چیف کوچ کے عہدے سے سبکدوش ہو سکتے ہیں، ایسی صورت حال میں قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ کے لیے قرعہ طاہر زمان کے نام نکلنے کا امکان ہے۔
ٹیم منیجمنٹ میں تبدیلی کی صورت میں سلیکشن کمیٹی کی بحالی کا معاملہ بھی زیرغورآسکتا ہے، مزید معلوم ہوا ہے کہ ایشیاکپ کیلیے قومی ٹیم میں دو تین تبدیلیا ں متوقع ہیں، ٹیم کے سینئرکھلاڑی سابق کپتان وسیم احمد جو ورلڈ ہاکی لیگ سے چند روز قبل روڈ ایکسیڈنٹ میں زخمی ہوگئے تھے، ان کی ٹیم میں واپسی ہوگی جبکہ گول کیپرز کے حوالے سے بھی کوئی اہم فیصلہ متوقع ہے جن کی ناقص کارکردگی کو شدید تنقیدکا سامنا ہے۔ ہاکی کے حلقوں میں قومی ٹیم کی مینجمنٹ میں تبدیلی کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں تاہم وقت کی کمی کے باعث کوئی اور کوچ ٹیم کی کوچنگ کیلیے آمادہ دکھائی نہیں دیتا، قومی ٹیم کو اگلے برس ہونے والے ورلڈ کپ کیلیے ایشیاکپ جیتنا ضروری ہے۔