ملکی معیشت کے کچھ مثبت اشاریے
ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھا کر کرپشن پر قابو پاسکتے ہیں
ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھا کر کرپشن پر قابو پاسکتے ہیں۔ فوٹو: فائل
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ منی بجٹ میں نئے ٹیکس لگیں گے، معیشت کی بہتری کے لیے آئی ایم ایف صرف ایک آپشن ہے، اس کے بغیر بھی گزارا کرلیں گے، اگر آئی ایم ایف پیکیج نہ بھی ملا تو متبادل انتظام کرلیا، ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کے درمیان گیپ پورا کرلیا گیا، ملک کے دیوالیہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں۔یہ باتیں انھوں نے اسلام آباد میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں کہیں ۔
گزشتہ چند ماہ سے ملکی معیشت کو بھنور سے نکالنے کے لیے کئی آپشنز زیر غور لائے گئے جن میں ایک اہم ترین مسئلہ عالمی مالیاتی ادارہ سے پیکیج لینے یا نہ لینے کا تھا، وزیر خزانہ کے حوالے سے تنگی و تشنگی بیان اور توضیحات و تشریحات کے تناظر میں وسعت خیال کا بھی میڈیا میں بڑا چرچا رہا، بنیادی انداز نظر ہمیشہ یہی سامنے لایا گیا کہ آئی ایم ایف سے امدادی پیکیج لینا زندگی یا موت کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے معاملات قومی مفادات اور ملکی معیشت کی جاری صورتحال کے سیاق وسباق میں ہی طے کیے جائیں گے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ سخت شرائط ہوئیں تو پاکستان گریز پائی کا راستہ اختیار کرسکتا ہے، تاہم بلی تھیلے سے باہر نہیں آئی، کچھ معاشی مبصرین کی طرف سے مختلف آراء پیش کی گئیں، وہ مالیاتی ادارہ کے تاریخی کردار اور اس کی شرائط کے ضمن میں سخت محتاط رہنے کا انتباہ بھی دیتے رہے ، بہرحال آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج حاصل کرنے میں مرکزی نکتہ عملیت پسندی کو مدنظر رکھنے پر مبنی تھا۔ اب کچھ تفصیلات بہ انداز دگر پیش کی جارہی ہیں، وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ہم تمام تر انحصار آئی ایم ایف پر نہیں کررہے، عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، اس سے اچھا پروگرام ملا تو فوری معاہدہ کرلیں گے جب کہ متبادل ذرایع سے بھی فنڈز کے حصول کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔
ایک نیوز چینل کے مطابق اسد عمر نے کہا آئی ایم ایف کی شرائط سخت اور ناقابل قبول ہیں، پوری دنیا میں ہمیں ایک بھی ایسا اکانومسٹ نہیں ملا جس نے کہا ہو آپ یہ پیکیج تسلیم کرلیں اس لیے جیسے ہی اچھا پروگرام فائنل ہوگا تو آئی ایم ایف سے معاہدہ کرلیں گے۔ یہ پتے کی بات کہی گئی ہے اور چشم کشا بھی ہے، اگر فرض کرلیں کہ دنیا میں کوئی معاشی پنڈت آئی ایم ایف کے پیکیج کے حصول کی حمایت نہیں کر رہا تو اسے ''پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ'' یا امید فردا سے باندھے رکھنے کی کوئی منطق اہل وطن کی سمجھ سے بھی بالاتر رہیگی،اگر سخت شرائط کا خطرہ ہے تو حکومت کی طرف سے معاشی بحران سے نکلنے کا اعلان صائب سمجھا جانا چاہیے،کیونکہ معاشی مبصرین کے نزدیک آئی ایم ایف کی طرف سے ملنے والی امداد بلاشبہ امرت دھارا تو ثابت نہیں ہوگی۔ اس لیے وزارت خزانہ قوم کو مطمئن کرے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا معاشی بقا کا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک رضاکارانہ ''حسن انتخاب'' ہوگا ۔
وزیر خزانہ کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے قرض پر بھی کوئی شرائط نہیں ہیں البتہ سعودی عرب اور یو اے ای سے ملنے والے قرض پر سود ادا کرنا ہوگا چنانچہ معاشی ترقی کے لیے حکومت اہم فیصلے کررہی ہے، نتیجتاً برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے سے تجارتی خسارے میں کمی آئی جب کہ درآمدات میں کمی سے بھی تجارتی خسارہ کم ہورہا ہے۔ یہ انکشاف خوش آیند ہے اور اس سے یہ مراد لی جانی چاہیے کہ اقتصادی سمت میں درست قدم اٹھایا جارہا ہے، یوں بھی ملکی برآمدات میں کمی بڑے تجارتی خسارے کے تناظر میں تشویش کا باعث رہی ہے، کوئی معاشی ترقی بجز برآمدات میں غیر معمولی بریک تھرو کے نتیجہ خیز نہیں ہوسکتی، عوام کو بنیادی طور پر ایک ایسے معاشی نظام کا انتظار ہے جو ان کے معیار زندگی کو بہتر بنائے، ملک سے بیروزگاری ختم ہو، صنعتی ترقی ہمہ گیر ہو، محنت کش افرادی قوت کی اندرون اور بیرون ملک کھپت کو یقینی بنانے کے لیے قابل عمل طویل المیعاد اور قلیل المیعاد منصوبے بنائے جائیں، ہر بے روزگار کو اس کی استعداد اور ہنرمندی کے لحاظ سے ملازمت ملنی چاہیے۔
پی ٹی آئی حکومت کو اقتصادی گورکھ دھندے سے اب نکلنے کی سوچ اپنانا ہوگی، ایک طے شدہ معاشی روڈ میپ ہو ، اسد عمر کی ٹیم اس شاہراہ ترقی پر یکسوئی سے چلے اور کوئی ہینکی پھینکی نہیں ہونی چاہیے، کوشش ہونی چاہیے کہ عوام پر بے جا ٹیکس نہ لگیں۔ اب وزیراعظم کے تبدیلی کے نعرے کو حقیقت کا روپ دینے کا وقت آگیا ہے۔ معاشی ثمرات ملنا شروع ہونے پر ہی عوام کے چہرے کھل اٹھیں گے ورنہ مایوسی روز ان کے آنگن میں اترے گی۔
وزیر خزانہ نے تفصیل سے بتایا کہ سال 2008ء میں پیپلزپارٹی کے پہلے 5 ماہ میں افراط زر کی شرح میں 11.2 فیصد، 2013 میں ن لیگ کے پہلے 5 ماہ میں افراط زر میں4 فیصد جب کہ پی ٹی آئی کے پہے5 ماہ میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ضمنی فنانس بل میں برآمدات کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیںگے۔ انھوں نے بتایا پچھلے سال کے دوران مجموعی طور پر نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 21 فیصد بڑھی ہے، جولائی تا ستمبر نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 65 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں کم آمدن افراد کے لیے نہیں صرف امیروں کے لیے بڑھائی گئیں۔ چین کے آڈٹ نظام نے کرپشن کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھا کر کرپشن پر قابو پاسکتے ہیں۔
چین کے معاشی تجربات سے استفادہ پر کوئی دو رائے نہیں مگر یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی وہ وقت بھی تھا جب مشرق بعید اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے لیے ہمارے معاشی ماہرین کی رائے موقر سمجھی جاتی تھی۔ ہمارے مشورے پر ان کے پانچ سالہ منصوبے تیار ہوتے تھے۔ ادھر بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کہاہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کی وجہ سے بیرونی قرضوں پر انحصار بڑھ گیا ہے جو خطرے کی گھنٹی ہے۔ موڈیز نے پاکستان سمیت 24 ممالک کے2019ء کے آؤٹ لک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرضوں کا حجم اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ سال2019 میں ان کی ادائیگیوں کے لیے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر ناکافی ہوں گے۔ موڈیز کی آؤٹ لک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں اورپاکستان کی معیشت میں یہ رجحان 2سال سے برقرار ہے۔اس رپورٹ کے ہر پہلو کا بسیط جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ادھر پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے سڈنی میں ہونیوالے اجلاس میں عملدرآمد رپورٹ پیش کر دی جس پرایف اے ٹی ایف نے پہلی مرتبہ پاکستان کے اقدامات پر اظہار اطمینان کیا۔ پاکستانی وفد نے سڈنی میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں منی لانڈرنگ اوردہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وفد نے اجلاس کو بتایا کہ بینکنگ نظام کو بہترکیا گیا ہے اور مزید بہتری بھی لارہے ہیں۔ لہذا ''اسکائی از دی لمٹ'' کے پیش نظر بہتری کی جستجو جاری ہی رہنی چاہیے۔
گزشتہ چند ماہ سے ملکی معیشت کو بھنور سے نکالنے کے لیے کئی آپشنز زیر غور لائے گئے جن میں ایک اہم ترین مسئلہ عالمی مالیاتی ادارہ سے پیکیج لینے یا نہ لینے کا تھا، وزیر خزانہ کے حوالے سے تنگی و تشنگی بیان اور توضیحات و تشریحات کے تناظر میں وسعت خیال کا بھی میڈیا میں بڑا چرچا رہا، بنیادی انداز نظر ہمیشہ یہی سامنے لایا گیا کہ آئی ایم ایف سے امدادی پیکیج لینا زندگی یا موت کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے معاملات قومی مفادات اور ملکی معیشت کی جاری صورتحال کے سیاق وسباق میں ہی طے کیے جائیں گے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ سخت شرائط ہوئیں تو پاکستان گریز پائی کا راستہ اختیار کرسکتا ہے، تاہم بلی تھیلے سے باہر نہیں آئی، کچھ معاشی مبصرین کی طرف سے مختلف آراء پیش کی گئیں، وہ مالیاتی ادارہ کے تاریخی کردار اور اس کی شرائط کے ضمن میں سخت محتاط رہنے کا انتباہ بھی دیتے رہے ، بہرحال آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج حاصل کرنے میں مرکزی نکتہ عملیت پسندی کو مدنظر رکھنے پر مبنی تھا۔ اب کچھ تفصیلات بہ انداز دگر پیش کی جارہی ہیں، وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ہم تمام تر انحصار آئی ایم ایف پر نہیں کررہے، عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، اس سے اچھا پروگرام ملا تو فوری معاہدہ کرلیں گے جب کہ متبادل ذرایع سے بھی فنڈز کے حصول کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔
ایک نیوز چینل کے مطابق اسد عمر نے کہا آئی ایم ایف کی شرائط سخت اور ناقابل قبول ہیں، پوری دنیا میں ہمیں ایک بھی ایسا اکانومسٹ نہیں ملا جس نے کہا ہو آپ یہ پیکیج تسلیم کرلیں اس لیے جیسے ہی اچھا پروگرام فائنل ہوگا تو آئی ایم ایف سے معاہدہ کرلیں گے۔ یہ پتے کی بات کہی گئی ہے اور چشم کشا بھی ہے، اگر فرض کرلیں کہ دنیا میں کوئی معاشی پنڈت آئی ایم ایف کے پیکیج کے حصول کی حمایت نہیں کر رہا تو اسے ''پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ'' یا امید فردا سے باندھے رکھنے کی کوئی منطق اہل وطن کی سمجھ سے بھی بالاتر رہیگی،اگر سخت شرائط کا خطرہ ہے تو حکومت کی طرف سے معاشی بحران سے نکلنے کا اعلان صائب سمجھا جانا چاہیے،کیونکہ معاشی مبصرین کے نزدیک آئی ایم ایف کی طرف سے ملنے والی امداد بلاشبہ امرت دھارا تو ثابت نہیں ہوگی۔ اس لیے وزارت خزانہ قوم کو مطمئن کرے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا معاشی بقا کا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک رضاکارانہ ''حسن انتخاب'' ہوگا ۔
وزیر خزانہ کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے قرض پر بھی کوئی شرائط نہیں ہیں البتہ سعودی عرب اور یو اے ای سے ملنے والے قرض پر سود ادا کرنا ہوگا چنانچہ معاشی ترقی کے لیے حکومت اہم فیصلے کررہی ہے، نتیجتاً برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے سے تجارتی خسارے میں کمی آئی جب کہ درآمدات میں کمی سے بھی تجارتی خسارہ کم ہورہا ہے۔ یہ انکشاف خوش آیند ہے اور اس سے یہ مراد لی جانی چاہیے کہ اقتصادی سمت میں درست قدم اٹھایا جارہا ہے، یوں بھی ملکی برآمدات میں کمی بڑے تجارتی خسارے کے تناظر میں تشویش کا باعث رہی ہے، کوئی معاشی ترقی بجز برآمدات میں غیر معمولی بریک تھرو کے نتیجہ خیز نہیں ہوسکتی، عوام کو بنیادی طور پر ایک ایسے معاشی نظام کا انتظار ہے جو ان کے معیار زندگی کو بہتر بنائے، ملک سے بیروزگاری ختم ہو، صنعتی ترقی ہمہ گیر ہو، محنت کش افرادی قوت کی اندرون اور بیرون ملک کھپت کو یقینی بنانے کے لیے قابل عمل طویل المیعاد اور قلیل المیعاد منصوبے بنائے جائیں، ہر بے روزگار کو اس کی استعداد اور ہنرمندی کے لحاظ سے ملازمت ملنی چاہیے۔
پی ٹی آئی حکومت کو اقتصادی گورکھ دھندے سے اب نکلنے کی سوچ اپنانا ہوگی، ایک طے شدہ معاشی روڈ میپ ہو ، اسد عمر کی ٹیم اس شاہراہ ترقی پر یکسوئی سے چلے اور کوئی ہینکی پھینکی نہیں ہونی چاہیے، کوشش ہونی چاہیے کہ عوام پر بے جا ٹیکس نہ لگیں۔ اب وزیراعظم کے تبدیلی کے نعرے کو حقیقت کا روپ دینے کا وقت آگیا ہے۔ معاشی ثمرات ملنا شروع ہونے پر ہی عوام کے چہرے کھل اٹھیں گے ورنہ مایوسی روز ان کے آنگن میں اترے گی۔
وزیر خزانہ نے تفصیل سے بتایا کہ سال 2008ء میں پیپلزپارٹی کے پہلے 5 ماہ میں افراط زر کی شرح میں 11.2 فیصد، 2013 میں ن لیگ کے پہلے 5 ماہ میں افراط زر میں4 فیصد جب کہ پی ٹی آئی کے پہے5 ماہ میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ضمنی فنانس بل میں برآمدات کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیںگے۔ انھوں نے بتایا پچھلے سال کے دوران مجموعی طور پر نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 21 فیصد بڑھی ہے، جولائی تا ستمبر نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 65 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں کم آمدن افراد کے لیے نہیں صرف امیروں کے لیے بڑھائی گئیں۔ چین کے آڈٹ نظام نے کرپشن کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھا کر کرپشن پر قابو پاسکتے ہیں۔
چین کے معاشی تجربات سے استفادہ پر کوئی دو رائے نہیں مگر یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی وہ وقت بھی تھا جب مشرق بعید اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے لیے ہمارے معاشی ماہرین کی رائے موقر سمجھی جاتی تھی۔ ہمارے مشورے پر ان کے پانچ سالہ منصوبے تیار ہوتے تھے۔ ادھر بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کہاہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کی وجہ سے بیرونی قرضوں پر انحصار بڑھ گیا ہے جو خطرے کی گھنٹی ہے۔ موڈیز نے پاکستان سمیت 24 ممالک کے2019ء کے آؤٹ لک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرضوں کا حجم اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ سال2019 میں ان کی ادائیگیوں کے لیے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر ناکافی ہوں گے۔ موڈیز کی آؤٹ لک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں اورپاکستان کی معیشت میں یہ رجحان 2سال سے برقرار ہے۔اس رپورٹ کے ہر پہلو کا بسیط جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ادھر پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے سڈنی میں ہونیوالے اجلاس میں عملدرآمد رپورٹ پیش کر دی جس پرایف اے ٹی ایف نے پہلی مرتبہ پاکستان کے اقدامات پر اظہار اطمینان کیا۔ پاکستانی وفد نے سڈنی میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں منی لانڈرنگ اوردہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وفد نے اجلاس کو بتایا کہ بینکنگ نظام کو بہترکیا گیا ہے اور مزید بہتری بھی لارہے ہیں۔ لہذا ''اسکائی از دی لمٹ'' کے پیش نظر بہتری کی جستجو جاری ہی رہنی چاہیے۔