عراق 5 بم دھماکے اور فائرنگ سے 23 افراد ہلاک 48 زخمی
بغدادکے جنوب میں مسجدخالدبن ولیدکے دروازے پرزورداردھماکے میں11نمازی جاں بحق،35زخمی،فائرنگ سے لیفٹیننٹ کرنل ہلاک۔
موصل میں بم دھماکے میں ضلعی کونسلر بیٹے سمیت ماراگیا،فائرنگ سے5ہلاک،حالیہ واقعات2007 سے زیادہ خطرناک ہیں، اقوام متحدہ. فوٹو: فائل
عراق میں 5بم دھماکوں اورفائرنگ کے مختلف واقعات میں2 فوجیوں سمیت 23 افراد ہلاک اور48 زخمی ہوگئے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت بغداد کے جنوبی علاقے دورامیں مسجد خالدبن ولید کے گیٹ پربم کا زورداردھماکا ہوا جس کے نتیجے میں11نمازی جاںبحق اور 35 زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق متعددزخمیوں کی حالت نازک ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم یاگروپ نے حملے کی ذمے داری قبول نہیںکی ہے۔ دریںاثنا صوبہ نینواکے شہرموصل میں نامعلوم افراد کے حملے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے۔ موصل میں ہی سڑک کنارے نصب بم دھماکے کے نتیجے میں ایک ضلعی کونسلر بیٹے سمیت مارے گئے جبکہ دوسرابیٹا زخمی ہوگیا۔ ضلعی کونسل کے سربراہ کوبھی سڑک کنارے نصب بم سے نشانہ بنایاگیا جس میں اس کے 4 گارڈز زخمی ہوگئے۔ موصل میں ہی 2 فوجی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مارے گئے۔
نینواپولیس چیف کے قافلے کو بھی بم سے نشانہ بنایاگیا جس میں اس کے 3 گارڈ زخمی ہوگئے۔ مغربی بغداد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پولیس کے لیفٹیننٹ کرنل کو ہلاک کردیا جبکہ اس کے 2گارڈز زخمی ہوگئے۔ صوبہ دیالہ کے شہربعقوبہ میں بم دھماکے میں مزید 2 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔ ادھر عراق میں تشددپسندانہ کارروائیوں کی نئی لہرکے آغاز کے ساتھ ہی اقوام متحدہ نے بھی اس ملک میں خانہ جنگی کے حوالے سے خبردار کیاہے۔ عراق میں انسانی حقوق کے امورمیں اقوام متحدہ کے ایلچی فرانسیسکو موٹہ نے عراق میں حالیہ پرتشدد واقعات کو 2007ء کی انتقامی کارروائیوںسے زیادہ خطرناک قراردیتے ہوئے کہاہے کہ عراق میںجاری سیاسی اختلافات، قومی وفاق کانہ ہونا، علاقائی حالات خاص طورپر شام کابحران اوراسی طرح عراق کیخلاف بعض غیرملکی سرگرمیوںسے عراق کی صورتحال شدید متاثر ہوئی ہے۔ حالیہ ہفتوںمیں دہشت گردانہ حملوںاور خونریزواقعات نے عراق کے مختلف علاقوںکو ہلاکر رکھ دیا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت بغداد کے جنوبی علاقے دورامیں مسجد خالدبن ولید کے گیٹ پربم کا زورداردھماکا ہوا جس کے نتیجے میں11نمازی جاںبحق اور 35 زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق متعددزخمیوں کی حالت نازک ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم یاگروپ نے حملے کی ذمے داری قبول نہیںکی ہے۔ دریںاثنا صوبہ نینواکے شہرموصل میں نامعلوم افراد کے حملے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے۔ موصل میں ہی سڑک کنارے نصب بم دھماکے کے نتیجے میں ایک ضلعی کونسلر بیٹے سمیت مارے گئے جبکہ دوسرابیٹا زخمی ہوگیا۔ ضلعی کونسل کے سربراہ کوبھی سڑک کنارے نصب بم سے نشانہ بنایاگیا جس میں اس کے 4 گارڈز زخمی ہوگئے۔ موصل میں ہی 2 فوجی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مارے گئے۔
نینواپولیس چیف کے قافلے کو بھی بم سے نشانہ بنایاگیا جس میں اس کے 3 گارڈ زخمی ہوگئے۔ مغربی بغداد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پولیس کے لیفٹیننٹ کرنل کو ہلاک کردیا جبکہ اس کے 2گارڈز زخمی ہوگئے۔ صوبہ دیالہ کے شہربعقوبہ میں بم دھماکے میں مزید 2 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔ ادھر عراق میں تشددپسندانہ کارروائیوں کی نئی لہرکے آغاز کے ساتھ ہی اقوام متحدہ نے بھی اس ملک میں خانہ جنگی کے حوالے سے خبردار کیاہے۔ عراق میں انسانی حقوق کے امورمیں اقوام متحدہ کے ایلچی فرانسیسکو موٹہ نے عراق میں حالیہ پرتشدد واقعات کو 2007ء کی انتقامی کارروائیوںسے زیادہ خطرناک قراردیتے ہوئے کہاہے کہ عراق میںجاری سیاسی اختلافات، قومی وفاق کانہ ہونا، علاقائی حالات خاص طورپر شام کابحران اوراسی طرح عراق کیخلاف بعض غیرملکی سرگرمیوںسے عراق کی صورتحال شدید متاثر ہوئی ہے۔ حالیہ ہفتوںمیں دہشت گردانہ حملوںاور خونریزواقعات نے عراق کے مختلف علاقوںکو ہلاکر رکھ دیا۔