لیاری سے متعلق وزیراعظم کی کمیٹی مجھ سے ملے بغیر چلی گئی قائم علی شاہ

امن وامان صرف لیا ری کا مسئلہ نہیں، ایم کیو ایم سے با ت چیت کا میاب ہوئی تو حکو مت میں شامل کر نے کے کئی طریقے ہیں

بلو چستان کو اس کے حصے کا پا نی دیا جا رہا ہے الزامات غلط ہیں، سکھر بیراج پر بریفنگ،بندوں کی مضبو طی کا کام تیز کرنے کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

MANCHESTER:
سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ اگرایم کیو ایم سے بات چیت کا میاب ہوئی تواسے حکومت میں شامل کرنے کے کئی طریقے ہیں۔

ہم کسی گروپ کو نہیں امن کو سپورٹ کرتے ہیں ہماراکوئی دشمن نہیں سب دوست ہیں اس لیے امن و امان کے حوالے سے جوہماری مددکرے گا وہ ہمارا دوست ہو گا امن وامان صرف لیاری کا نہیں، کراچی سمیت پاکستان کا مسئلہ ہے کیونکہ اس وقت پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اس لیے اس حوالے سے حساس ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے اولین ترجیح دے رکھی ہے لیاری سے نقل مکانی کرکے جانے والوں کو واپس لاکر ان کے گھروں میںآبادکریں گے، وزیرا عظم نے لیاری کے حوالے سے جوٹیم بھیجی اس نے مجھ سے ملا قات نہیں کی ۔




سکھر بیراج کے دورے کے موقع پرمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ لیا ری کے حوا لے سے وزرا پر مشتمل کمیٹی بنا دی ہے جس نے بدین اور دادومیں نقل مکا نی کرکے رہنے والوں سے ملا قات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھر بیراج کی گنجائش بڑھا نے اور بنیادی ڈھا نچے کومضبوط بنانے کے حوا لے سے ورلڈ بینک تعاون کررہا ہے اس وقت ما ہرین اور برطانوی کمپنی کی نگرانی میں بیراج کاکام چل رہاہے ہم اس کی میعاد مزید50 سال بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ اسی بیراج پرہمارے ملک کی زراعت کا انحصار ہے۔

قبل ازیں وزیر اعلی سندھ کوچیف انجینئر سکھر بیراج جنید میمن نے بیراج کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ بیراج کی ری ماڈلنگ کرکے اس کے بند10 دروازے کھولے جائیں گے، وزیر اعلیٰ سندھ کو یہ بھی بتایا گیا کہ کچھ حفاظتی بندکمزورہیں جہاں پربھی کام کیاجارہا ہے اور بلوچستان کواس کے حصے کا پانی دیا جارہا ہے الزامات غلط ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پرافسران کوہدایت کی کہ بندوں کی مضبوطی کا کام تیزکیا جا ئے ۔

Recommended Stories

Load Next Story