الوداع .... جیفری لینگ لینڈز (2019-1917)

حسان خالد  اتوار 13 جنوری 2019
وہ ایک سچے سپاہی کی طرح آخری دم تک تعلیمی محاذ پر ڈٹے رہے

وہ ایک سچے سپاہی کی طرح آخری دم تک تعلیمی محاذ پر ڈٹے رہے

50 ء کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں اپنی فوجی ملازمت کے اختتام کے بعد جب میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز نے ایچی سن کالج میں تدریس کا آغاز کیا تو کوئی یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ وہ تعلیمی محاذ پر ہمیشہ ڈٹے رہیں گے۔ ان کی زندگی میں کئی ایسے مواقع آئے جب وہ تمام ترعزت اور اعزازات کے ساتھ برطانیہ واپس جا سکتے تھے لیکن ایک سچے سپاہی کی طرح انہوں نے خود کو تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کر دیا۔ انہیں اپنے شاگردوں سے بے پناہ محبت اور احترام ملا جس کے وہ بلاشبہ سب سے زیادہ مستحق تھے۔ اسی محبت نے انہیں وہ عہد نبھانے میں مدد دی، جس کا اظہار وہ اپنے پسندیدہ شاعر رابرٹ فراسٹ کی شاعری سے کرتے تھے: ’’جنگل خوبصورت، گہرا اور بڑا ہے۔ مگر مجھے اپنے وعدوں کا پاس کرنا ہے۔ اورسونے سے پہلے مجھے بہت دور تک جانا ہے، اور سونے سے پہلے مجھے بہت دورتک جانا ہے۔‘‘

ایک بڑے انسان کی طرح جیفری لینگ لینڈز اپنی بے لوث خدمات اور کارناموں کا ذکر نہایت عاجزی سے کرتے اور اس کا کریڈٹ عام لوگوں کو دیتے۔ چترال میں اپنے تعلیمی ادارے کی کامیابی سے متعلق وہ کہتے، ’’اس کا کریڈٹ وہاں کے لوگوں کو جاتا ہے، جنہوں نے مجھے اور میرے تعلیمی ادارے کو بہت پیار دیا۔ اس کامیابی میں ان کے اس جذبے کا بھی دخل ہے کہ وہ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر سکیں۔‘‘ انہوں نے سکول چلانے کے لیے ٹرسٹ قائم کیا، صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کر کے اس کے لیے فنڈز حاصل کیے۔

وہ شاگردوں کو بھی اپنے تعلیمی ادارے کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کا کہتے۔ اس طرح انہوں نے سکول اور کالج کے لیے نئی عمارت تعمیر کرائی اور 80 طلبہ سے شروع ہونے والے سکول میں طلبہ کی تعداد 900 تک چلی گئی۔ سادہ زندگی بسرکرنے والے جیفری لینگ لینڈز سکول سے بہت معمولی تنخواہ لیتے اور اس میں سے بھی بڑا حصہ وہ غریب طلبا و طالبات اور نادار لوگوں کی مدد میں خرچ کر دیتے۔ وہ خود بسوں میں سفر کرتے اور بچت کر کے حکومت سے ملنے والے پیسے سکول کے ٹرسٹ میں جمع کرا دیتے۔

نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا جیفری لینگ لینڈز کا شوق اور مشن تھا۔ حساب اور الجبرا ان کے پسندیدہ مضامین تھے۔ برطانیہ کے بجائے پاکستان میں تدریس کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ’’برطانیہ کی نسبت یہاں پاکستان میں پڑھانا کہیں زیادہ سودمند اور فائدہ بخش معلوم ہوتا ہے۔ یہاں استاد کو احترام دیا جاتا ہے اور یہ اہم ترین بات ہے۔ میرے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز تسکین کا باعث نہیں کہ آپ ایک استاد ہیں اور طالب علموں کو اپنے زیرتربیت اچھے شہری بنا رہے ہیں۔ ‘‘ وہ معاشرے میں پیدا ہونے والے اس رجحان سے نالاں تھے جس میں ہر کوئی زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی فکر میں ہے، جبکہ ان کے نزدیک اصل اہمیت اس بات کی تھی کہ ہم ایسی سوچ پیدا کریں کہ کم پیسے والے لوگوں کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ جی ڈی لینگ لینڈز کہتے تھے، ’’پاکستان میں ہر فرد دوسرے پر تنقید کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔

اس وجہ سے ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ ماحول کو بہتر بنانے لیے اچھا بننے اور اچھا کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ اپنی زندگی میں اس اصول پر سختی سے کاربند رہے اور ہمیشہ ان کی کوشش رہی کہ دوسروں کے لیے کچھ کریں اور ان کو اچھے ناموں سے یاد کریں۔ ان کے زیر تربیت رہنے والے فوجی جوان آگے چل کر افواج پاکستان کے بہترین افسر بنے، ان کے کئی شاگرد وزیراعظم، صدر پاکستان سمیت مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے، جن پر وہ فخر کرتے تھے۔ ایک استاد کی حیثیت سے انہیں اپنے سب شاگرد بہت عزیز تھے اور وہ سب کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے۔ کوئی بھی شاگرد ملاقات کے لیے آ جاتا تو وہ بہت خوشی سے ملتے۔ چترال میں وہ اپنے کم وسیلہ شاگردوں کی مالی مدد بھی کرتے، کوئی ایسا شاگرد انہیں ملنے آ جاتا تو جاتے ہوئے تحفے کے طور پر کچھ پیسے ضرور دیتے۔

2 جنوری 2019ء کو انتقال کرنے والے میجر (ر) جیفری لیگ لینڈز نے 101 برس کی طویل عمر پائی۔ ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں انہیں پاکستان میں ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز اور دیگر اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی زندگی اور جدوجہد پر نظر دوڑائی جائے تو اس سے سادگی، مقصد سے لگاؤ، ڈسپلن، بے خوفی اور استقامت کا درس ملتا ہے۔ وہ بیک وقت ایک سچے سپاہی اور معلم تھے۔ تعلیم کا فروغ ان کا مشن تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ حکومت جی ڈی پی کا زیادہ سے زیادہ حصہ تعلیم پر صرف کرے۔ انہوں نے اپنے سکول کا ماٹو ایک انگریزی کہاوت کے مطابق یہ رکھا کہ ’’بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔‘‘

اور اسی جستجو میں انہوں نے اپنی پوری زندگی کام جاری رکھا۔ دلیری کا یہ عالم تھا کہ غیر ملکی شہریوں کے لیے مشکل ترین حالات میں بھی انہوں نے شمالی وزیرستان اور چترال جیسے دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دیں اور وہاں سے واپس جانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اپنا مستقبل ہمیشہ کے لیے پاکستان کے ساتھ نتھی کر لیا تھا۔ شادی نہ کرنے کی وجہ بھی وہ یہ بتاتے: ’’میں خواہ کسی انگریز خاتون سے شادی کرتا یا پاکستانی سے، شادی کے اگلے ہی روز اس کا پہلا سوال یہی ہوتا کہ ہم انگلینڈ کب جا رہے ہیں اور ایسا نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ میں نے اپنے لیے پاکستان کو چن لیا تھا۔‘‘ پاکستان سے ان کی محبت اتنی گہری تھی کہ اسی دھرتی کی مٹی میں دفن ہوئے، جسے وہ ہمیشہ کے لیے اپنا چکے تھے۔

جیفری لینگ لینڈز 21 اکتوبر 1917ء کو یارک شائر برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے جڑواں بھائی سے 10منٹ بڑے جبکہ ان کی بہن ٹھیک ایک سال بعد پیدا ہوئی۔ ان کے والد 1918ء میں انفلوئنزا کی اس وباء کا شکار ہو گئے جس میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

والدہ کینسر کی مریضہ تھیں، اس کے باوجود ملازمت کر کے بچوں کی پرورش کی۔ دادا نے بھی دوبارہ ملازمت کی۔ والدہ چھ سال بعد کینسر کے باعث انتقال کر گئیں۔ علاقے کے کچھ لوگوں نے چندہ جمع کر کے انہیں اچھے پبلک اسکول میں داخلہ دلوایا۔ 1932ء میں دادا بھی کرسمس سے ایک دن پہلے اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔ ہائر اسکول سرٹیفیکیٹ کے حصول کے بعد مالی مسائل کے باعث کالج میں داخلہ لینا ناممکن ہو گیا تو انہوں نے پانچ پائونڈ ماہانہ پر Croydon کے کومبل ہل پریپ اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا اور ساتھ ہی بیرک بیک کالج میں بی ایس سی کی شام کی کلاسز میں داخلہ لے لیا۔ برطانیہ دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوا تو فوج میں بھرتی ہو گئے۔ تین سال تک بطور سارجنٹ خدمات انجام دینے کے بعد 1944ء میں انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔

میجر جیفری لینگ لینڈز نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں ایک سالہ کنٹریکٹ پر پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دینے کا فیصلہ کیا، جس کی بعدازاں مزید پانچ سال کے لیے توسیع کر دی گئی۔ اس دوران انہوں نے افواج پاکستان میں کمیشن حاصل کرنے والے جوانوں کی بڑی محنت سے تربیت کی۔ ملازمت کے اختتام پر وہ برطانیہ واپس جا کر کسی تعلیمی ادارے میں پڑھانا چاہتے تھے، کیونکہ فوج میں آنے سے پہلے بھی وہ تدریس سے وابستہ تھے۔ تاہم پاک فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان کی پیشکش پر انہوں نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا اور 1954ء میں ایچی سن کالج میں تدریس کا آغاز کر دیا۔

25 سال ایچی سن میں خدمات انجام دینے کے بعد انہوں نے رزمک کیڈٹ کالج شمالی وزیرستان میں پڑھانے کا فیصلہ چیلنج کے طور پر قبول کیا اور اس مشکل امتحان میں بھی سرخرو ہوئے۔ ایک مرتبہ مقامی قبائل نے حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے انہیں چند دن کے لیے اغوا بھی کیا۔ 1979ء سے 1989ء تک وہ رزمک کالج سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد وہ چترال کے ڈپٹی کمشنر کی درخواست پر وہاں چلے گئے اور سایورج پبلک سکول کا انتظام سنبھال کر انتہائی کم فیس میں علاقے کے لڑکوں اور لڑکیوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کی۔ اس کو بعدازاں لینگ لینڈز سکول اینڈ کالج کا نام دیا گیا۔ اس تعلیمی ادارے میں وہ 96 برس کی عمر تک خدمات انجام دیتے رہے، پھر اس ادارے کا انتظام موجودہ خاتون پرنسپل کیری سوچو فیلڈ کے سپرد کرکے وہ ایچی سن کالج لاہور آ گئے، جہاں انہوں نے زندگی کے آخری برس گزارے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔