سابق بھارتی افسر کا سنسنی خیز انکشاف
بھارتی حکومت نے دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس اور ممبئی میں حملے خود کرائے اور الزام پاکستان پر لگا دیا، آر وی ایس مان
بھارتی حکومت نے دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس اور ممبئی میں حملے خود کرائے اور الزام پاکستان پر لگا دیا، آر وی ایس مان. فوٹو: فائل
بھارتی وزارت داخلہ کے ایک سابق انڈر سیکریٹری آر وی ایس مانی نے عدالت میں جمع کرائے گئے ایک حلف نامے میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس اور ممبئی میں حملے خود کرائے اور الزام پاکستان پر لگا دیا۔
آر وی ایس مانی جو وزارت داخلہ میں اعلیٰ افسر رہے ہیں، نے حلف نامے میں اپنی ہی حکومت کی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی بی آئی اور ایس آئی ٹی کی مشترکہ ٹیم کے سابق رکن ستیش ورما نے انھیں بتایا تھا کہ 13 ستمبر 2001ء میں نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس پر اور 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے حملے بھارتی حکومت کی سوچی سمجھی سازش کے تحت کیے گئے جس کا مقصد انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترامیم کر کے انھیں مزید سخت بنانا تھا۔
بھارت کی مختلف ریاستوں آندھرا پردیش' آسام' ناگالینڈ' کشمیر وغیرہ میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ آندھرا پردیش میں کمیونسٹ ماؤ نواز باغی' کشمیر میں مسلمان مجاہدین اور دیگر علیحدگی پسند تنظیمیں بھارتی حکومت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ بھارتی حکومت تمام تر ہتھکنڈوں اور ظلم و ستم روا رکھنے کے باوجود ان تحریکوں کو دبانے میں ناکام ہو گئی۔ باغیوں کے خلاف ظالمانہ کارروائی میں قوانین آڑے آ جاتے جس سے بچنے کے لیے بھارتی حکومت نے اپنے ہی اداروں اور شہروں پر حملے کراکے نئے قوانین تشکیل دینے کا جواز ڈھونڈنے کی سازش تیار کی۔
بھارتی حکومت کا یہ اسکرپٹ کامیاب رہا اور اس نے ایک تیر سے دو شکار کیے۔ ایک جانب اس نے پارلیمنٹ پر حملے کے بعد انسداد دہشت گردی کا قانون ''پوٹا'' بنایا جس سے فوج کو مقبوضہ کشمیر میں ماورائے آئین ظالمانہ آپریشن کرنے کا جواز مل گیا۔ دوسری جانب اس نے نہایت مہارت سے پارلیمنٹ پر حملے کا الزام پاکستان پر دھر دیا اور اس الزام میں سچائی کا رنگ بھرنے کے لیے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہوئے بڑی تعداد میں اپنی فوجیں پاکستانی سرحد کے ساتھ لگا دیں' بھارت کی جانب سے پیداکردہ کشیدگی اس حد تک بڑھی کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
اسکرپٹ کی اس کامیابی نے بھارتی حکومت کے حوصلے بڑھائے اور اس نے دوسرا اسکرپٹ تیار کیا اور ممبئی حملے کا ڈرامہ رچا دیا اور پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف مہم چلا دی۔ بھارت نے اس حملے کا پاکستانی مذہبی تنظیم لشکر طیبہ کو ذمے دار قرار دیا اور حافظ سعید کی حوالگی کا مطالبہ شدومد سے شروع کر دیا۔ پاکستان نے ان حملوں سے قطعی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ مگر بھارتی پراپیگنڈہ مہم اس قدر شدید تھی کہ پاکستان کو دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے حافظ سعید کو گرفتار کرنا پڑا۔
بھارت نے ممبئی حملوں میں اجمل قصاب کو گرفتار کرکے پاکستان پر اس سازش کا الزام پوری شدت سے دہرانا شروع کر دیا۔ بعد ازاں بھارتی حکومت نے پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے کے ملزم کشمیری نوجوان افضل گورو اور ممبئی حملوں کے ملزم اجمل قصاب پر مقدمہ چلا کر دونوں کو پھانسی دے دی۔ اطلاعات کے مطابق 13 جون 2004ء کو گجرات پولیس نے ممبئی گورونانک خالصہ کالج کی طالبہ 19 سالہ عشرت جہاں کو دیگر 4 قیدیوں کے ساتھ جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے تحقیقات کے بعد اسے جعلی مقابلہ قرار دیا اور اس کا ذمے دار گجرات پولیس کے 7 اور انٹیلی جنس بیورو کے 4 افسروں کو قرار دیا۔
اب بھارتی وزارت داخلہ کے سابق افسر آر وی ایس مانی نے ''عشرت جہاں پولیس مقابلہ کیس'' کے بارے میں عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں انکشاف کیا ہے کہ سی بی آئی کی تحقیقاتی ٹیم کے سابق افسر ستیش ورما نے انھیں بتایا کہ پارلیمنٹ ہاؤس اور ممبئی حملے بھارتی حکومت کی سوچی سمجھی سازش کے تحت کیے گئے جس کا مقصد انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترامیم کر کے انھیں مزید سخت کرنا تھا۔ حملوں کے کئی سال بعد بھارتی افسر کے اس انکشاف نے معاملات کو بہت زیادہ پیچیدہ دیا ہے۔
اب پاکستانی حکومت پر بھاری ذمے داری آن پڑی ہے کہ وہ بھارتی حکومت کی جانب سے اسے دنیا بھر میں بدنام کرنے اور دہشت گردوں کی سرپرست حکومت قرار دینے کی گھناؤنی سازش کا بھرپور جواب دے اور دنیا کو بتائے کہ اس کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں اور یہ سب بھارتی حکومت کا اپنا ہی کیا دھرا تھا۔ اب پاکستانی حکومت کو دنیا بھر میں اپنا سافٹ امیج بحال کرنے کے لیے اس سنہری موقع کو ضایع نہیں کرنا چاہیے اور اتنی ہی قوت سے عالمی سطح پر مہم چلانی چاہیے جتنی قوت سے بھارتی حکومت نے چلائی تھی۔ دنیا کو یہ باور کرانے کا بہترین موقع ہے کہ پاکستان کا ممبئی حملے اور دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سب اسے بدنام کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔اس مقصد کے لیے ثبوت کی ضرورت ہو گی۔
پاکستان کی حکومت کو اس حوالے سے کام کرنا چاہیے۔ اگر پاکستانی حکومت نے روایتی تساہل پسندی اور لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس موقع کو ضایع کر دیا تو اس کا نقصان بھی اسے ہی اٹھانا پڑے گا۔ کیونکہ بھارتی حکومت مستقبل میں پھر کوئی ایسی سازش تیار کر سکتی ہے جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہو۔ یہ انکشاف کسی پاکستانی ایجنسی یا ادارے کی طرف سے نہیں کیا گیا بلکہ بھارتی وزارت داخلہ کے ایک اہم ذمے دار افسر نے دوسرے ذمے دار افسر کے حوالے سے ان حقائق کو طشت ازبام کیا ہے۔
بھارتی حکومت نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا الزام بھی پاکستان پر دھر دیا تھا۔ اب پاکستان وقت ضایع کیے بغیر فوری طور پر اقوام متحدہ میں بھارت کی اس گھناؤنی سازش کے خلاف آواز اٹھائے اور اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لائے۔ ایجنسیاں اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے دوسرے ملکوں کے خلاف کس قدر گھناؤنے کھیل کھیلتی ہیں' آر وی ایس مانی کے اس انکشاف سے یہ صورتحال کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ اسی طرح امریکی ایجنسیوں نے عراق کے خلاف خوفناک ہتھیاروں کا ڈرامہ رچا کر ایک پرامن ملک کو تباہ کر دیا۔
ایجنسیوں کے اس گھناؤنے کھیل کے خلاف عالمی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے اور مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے دوسرے ملکوں کی سالمیت کو داؤ پر لگانے کے اس کھیل کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کی باقاعدہ سزا مقرر کی جائے۔
آر وی ایس مانی جو وزارت داخلہ میں اعلیٰ افسر رہے ہیں، نے حلف نامے میں اپنی ہی حکومت کی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی بی آئی اور ایس آئی ٹی کی مشترکہ ٹیم کے سابق رکن ستیش ورما نے انھیں بتایا تھا کہ 13 ستمبر 2001ء میں نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس پر اور 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے حملے بھارتی حکومت کی سوچی سمجھی سازش کے تحت کیے گئے جس کا مقصد انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترامیم کر کے انھیں مزید سخت بنانا تھا۔
بھارت کی مختلف ریاستوں آندھرا پردیش' آسام' ناگالینڈ' کشمیر وغیرہ میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ آندھرا پردیش میں کمیونسٹ ماؤ نواز باغی' کشمیر میں مسلمان مجاہدین اور دیگر علیحدگی پسند تنظیمیں بھارتی حکومت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ بھارتی حکومت تمام تر ہتھکنڈوں اور ظلم و ستم روا رکھنے کے باوجود ان تحریکوں کو دبانے میں ناکام ہو گئی۔ باغیوں کے خلاف ظالمانہ کارروائی میں قوانین آڑے آ جاتے جس سے بچنے کے لیے بھارتی حکومت نے اپنے ہی اداروں اور شہروں پر حملے کراکے نئے قوانین تشکیل دینے کا جواز ڈھونڈنے کی سازش تیار کی۔
بھارتی حکومت کا یہ اسکرپٹ کامیاب رہا اور اس نے ایک تیر سے دو شکار کیے۔ ایک جانب اس نے پارلیمنٹ پر حملے کے بعد انسداد دہشت گردی کا قانون ''پوٹا'' بنایا جس سے فوج کو مقبوضہ کشمیر میں ماورائے آئین ظالمانہ آپریشن کرنے کا جواز مل گیا۔ دوسری جانب اس نے نہایت مہارت سے پارلیمنٹ پر حملے کا الزام پاکستان پر دھر دیا اور اس الزام میں سچائی کا رنگ بھرنے کے لیے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہوئے بڑی تعداد میں اپنی فوجیں پاکستانی سرحد کے ساتھ لگا دیں' بھارت کی جانب سے پیداکردہ کشیدگی اس حد تک بڑھی کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
اسکرپٹ کی اس کامیابی نے بھارتی حکومت کے حوصلے بڑھائے اور اس نے دوسرا اسکرپٹ تیار کیا اور ممبئی حملے کا ڈرامہ رچا دیا اور پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف مہم چلا دی۔ بھارت نے اس حملے کا پاکستانی مذہبی تنظیم لشکر طیبہ کو ذمے دار قرار دیا اور حافظ سعید کی حوالگی کا مطالبہ شدومد سے شروع کر دیا۔ پاکستان نے ان حملوں سے قطعی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ مگر بھارتی پراپیگنڈہ مہم اس قدر شدید تھی کہ پاکستان کو دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے حافظ سعید کو گرفتار کرنا پڑا۔
بھارت نے ممبئی حملوں میں اجمل قصاب کو گرفتار کرکے پاکستان پر اس سازش کا الزام پوری شدت سے دہرانا شروع کر دیا۔ بعد ازاں بھارتی حکومت نے پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے کے ملزم کشمیری نوجوان افضل گورو اور ممبئی حملوں کے ملزم اجمل قصاب پر مقدمہ چلا کر دونوں کو پھانسی دے دی۔ اطلاعات کے مطابق 13 جون 2004ء کو گجرات پولیس نے ممبئی گورونانک خالصہ کالج کی طالبہ 19 سالہ عشرت جہاں کو دیگر 4 قیدیوں کے ساتھ جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے تحقیقات کے بعد اسے جعلی مقابلہ قرار دیا اور اس کا ذمے دار گجرات پولیس کے 7 اور انٹیلی جنس بیورو کے 4 افسروں کو قرار دیا۔
اب بھارتی وزارت داخلہ کے سابق افسر آر وی ایس مانی نے ''عشرت جہاں پولیس مقابلہ کیس'' کے بارے میں عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں انکشاف کیا ہے کہ سی بی آئی کی تحقیقاتی ٹیم کے سابق افسر ستیش ورما نے انھیں بتایا کہ پارلیمنٹ ہاؤس اور ممبئی حملے بھارتی حکومت کی سوچی سمجھی سازش کے تحت کیے گئے جس کا مقصد انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترامیم کر کے انھیں مزید سخت کرنا تھا۔ حملوں کے کئی سال بعد بھارتی افسر کے اس انکشاف نے معاملات کو بہت زیادہ پیچیدہ دیا ہے۔
اب پاکستانی حکومت پر بھاری ذمے داری آن پڑی ہے کہ وہ بھارتی حکومت کی جانب سے اسے دنیا بھر میں بدنام کرنے اور دہشت گردوں کی سرپرست حکومت قرار دینے کی گھناؤنی سازش کا بھرپور جواب دے اور دنیا کو بتائے کہ اس کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں اور یہ سب بھارتی حکومت کا اپنا ہی کیا دھرا تھا۔ اب پاکستانی حکومت کو دنیا بھر میں اپنا سافٹ امیج بحال کرنے کے لیے اس سنہری موقع کو ضایع نہیں کرنا چاہیے اور اتنی ہی قوت سے عالمی سطح پر مہم چلانی چاہیے جتنی قوت سے بھارتی حکومت نے چلائی تھی۔ دنیا کو یہ باور کرانے کا بہترین موقع ہے کہ پاکستان کا ممبئی حملے اور دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سب اسے بدنام کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔اس مقصد کے لیے ثبوت کی ضرورت ہو گی۔
پاکستان کی حکومت کو اس حوالے سے کام کرنا چاہیے۔ اگر پاکستانی حکومت نے روایتی تساہل پسندی اور لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس موقع کو ضایع کر دیا تو اس کا نقصان بھی اسے ہی اٹھانا پڑے گا۔ کیونکہ بھارتی حکومت مستقبل میں پھر کوئی ایسی سازش تیار کر سکتی ہے جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہو۔ یہ انکشاف کسی پاکستانی ایجنسی یا ادارے کی طرف سے نہیں کیا گیا بلکہ بھارتی وزارت داخلہ کے ایک اہم ذمے دار افسر نے دوسرے ذمے دار افسر کے حوالے سے ان حقائق کو طشت ازبام کیا ہے۔
بھارتی حکومت نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا الزام بھی پاکستان پر دھر دیا تھا۔ اب پاکستان وقت ضایع کیے بغیر فوری طور پر اقوام متحدہ میں بھارت کی اس گھناؤنی سازش کے خلاف آواز اٹھائے اور اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لائے۔ ایجنسیاں اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے دوسرے ملکوں کے خلاف کس قدر گھناؤنے کھیل کھیلتی ہیں' آر وی ایس مانی کے اس انکشاف سے یہ صورتحال کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ اسی طرح امریکی ایجنسیوں نے عراق کے خلاف خوفناک ہتھیاروں کا ڈرامہ رچا کر ایک پرامن ملک کو تباہ کر دیا۔
ایجنسیوں کے اس گھناؤنے کھیل کے خلاف عالمی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے اور مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے دوسرے ملکوں کی سالمیت کو داؤ پر لگانے کے اس کھیل کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کی باقاعدہ سزا مقرر کی جائے۔