بدامنی کا جن بے قابو ذمے دار کون

صرف کراچی نہیں پورے ملک میں سٹریٹ کرمنلز نے لاقانونیت کی انتہاکردی ہے۔

صرف کراچی نہیں پورے ملک میں سٹریٹ کرمنلز نے لاقانونیت کی انتہاکردی ہے۔۔ فوٹو: اے ایف پی

دہشت گردی کے منظم نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے بلاشبہ حکومت کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد پر سنجیدگی سے سوچ بچار کررہی ہے تاہم یہ امر حیرت ناک اور باعث تشویش ہے کہ ماہ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں جرائم پیشہ عناصر جس تیزی سے سرگرم ہوجاتے ہیں اتنی ہی سرعت کے ساتھ ان کے خاتمے کی کوشش کامیاب کیوں نہیں ہوتی ، چنانچہ اس وقت ملک میں بدستور دہشت گردی کاعذاب انگیز ماحول ہے ، قتل و غارت جاری ہے،اور انٹیلی جنس ایجنسیاں کیا کررہی ہے کچھ پتا نہیں چلتا، عوام شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

صرف کراچی نہیں پورے ملک میں سٹریٹ کرمنلز نے لاقانونیت کی انتہاکردی ہے۔لیاری منی پاکستان کے ان بد نصیب علاقوں میں شامل ہے جہاں گینگ وار کارندوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر قدیم کچھی برادری کے ہزاروں لوگ اندرون سندھ نقل مکانی کرچکے ہیں۔ یہ خوش آئند اقدام تھا کہ وزیرا عظم نواز شریف نے لیاری کے حوالے سے تحقیقاتی ٹیم بھیجی مگر اس نے بوجوہ وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات نہیں کی جس پر سید قائم علی شاہ نے تاسف کا اظہار کیا ہے۔وزیراعلی کاکہنا ہے کہ لیاری میں کسی گروہ کو سپورٹ نہیں کر رہے، امن وامان کا مسئلہ صرف لیاری کا نہیں پاکستان کا ہے۔

سندھ میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے حکومت اقدامات کر رہی ہے ، صوبے میں جلد امن قائم ہوگا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطان نے کراچی میں لیاری کی صورتحال پر وزیراعظم نواز شریف کو اپنی رپورٹ بھی پیش کردی ہے۔ وزیراعظم نے تین روز قبل سیکریٹری داخلہ چوہدری قمر الزمان اور ڈی جی آئی بی کولیاری کی صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی جس پر دونوں افسروں نے کراچی کا دورہ کیا اور لیاری کی صورتحال سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی۔


رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان مسلح گروپوں کی وجہ سے نہ صرف لیاری بلکہ کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی امن وامان کو خراب کیا جاتا ہے۔ مسئلہ امن قائم کرنے کا ہے ۔ وفاق اور سندھ حکومت کے مابین رابطہ ضروری ہے ورنہ جرائم پیشہ عناصر اس دو عملی سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں پولیس کا خوف ختم ہوچکا ہے، دہشت گردی اوراسٹریٹ کرائم کی وارداتیں عروج پر پہنچ چکی ہیں ، ادھر حیدرآباد میں ڈکیتیوں اور لوٹ مار کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خلاف تاجر برادری ایک بار پھر سڑکوں پر آ گئی،اناج منڈی احتجاجاً بند کر دی۔

گزشتہ ہفتہ بھی شہری و تاجر، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے رحم و کرم پر رہے۔ ایک ہفتہ کے دوران شہریوں اور تاجروں سے ایک کروڑ روپے سے زائد کی نقدی، طلائی زیورات، درجنوں گاڑیوں اور موبائل فونز لوٹ لیے گئے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی ہیومن رائٹس کمیٹی کی کوآرڈینیٹر اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخوپورہ میں خاتون ویٹرنری ڈاکٹر ، پتوکی میں مسیحی خواتین پر تشدد اور انھیں برہنہ کرکے سرعام گھمانا اور اُچ شریف میں ایک خاتون زرینہ مائی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ان کے بال کاٹ دینے جیسے واقعات شرمناک ہیں جب کہ پیپلزپارٹی کے سینیٹر عاجز دھامرا نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں،انھوں نے وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ لیاری میں جلد سے جلد امن کرائیں۔

دریں اثنا لیاری میں کچھی کمیونٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ گینگسٹرز کی سرپرستی کی جارہی ہے ،سندھ حکومت لیاری میں امن قائم نہیں کرسکی۔وفاقی حکومت نقل مکانی کرنے والوں کو تحفط فراہم کرے۔ادھرہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک بیان میں وفاقی حکومت سے کہا گیا کہ بلوچستان کا سلگتا ہوا مسئلہ کوئٹہ کی بد امنی اور ہزارہ قوم کی ایک دہائی سے جاری نسل کشی جیسے مسائل اے پی سی میں سرفہرست رکھے جائیں۔ گزشتہ 13 سال کے دوران ہزارہ قوم بدترین فرقہ وارانہ دہشت گردی کا شکار رہی ہے۔بلاشبہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں قیام امن اور جرائم کے خاتمے کے لیے مشترکہ کریک ڈاؤن کی حکمت عملی تیار کریں۔ انٹیلی جنس میکانزم موثر ہوگا تب ہی بدامنی کا جن قابو میں آسکے گا۔
Load Next Story