کینگرو کوچ ٹاپ آرڈر سے بہتر کارکردگی کے خواہاں
پہلی اننگز میں 120 سے زائد اوورز کھیل کر زیادہ رنز بنانا ہوں گے، ڈیرن لی مین
پہلی اننگز میں 120 سے زائد اوورز کھیل کر زیادہ رنز بنانا ہوں گے، ڈیرن لی مین فوٹو: فائل
آسٹریلوی کوچ ڈیرن لی مین لارڈز ٹیسٹ میں ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں سے بہترکارکردگی کے خواہاں ہیں۔
اتوار کے روز مہمان ٹیم ناٹنگھم ٹیسٹ میں کامیابی کے انتہائی قریب تھی کہ دفاعی ایشز چیمپئن انگلینڈ نے 14 رنز سے فتح حاصل کر لی، یوں اسے 5 میچزکی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل ہو گئی، ٹرینٹ برج پر 117 پر9 وکٹیں گرنے کے بعد آسٹریلیا نے 10ویں وکٹ کی شراکت میں 163 کا عالمی ریکارڈ بنایا جس کی بدولت مجموعہ 228 تک پہنچ گیا، ڈیبیو کرنے والے نوجوان کرکٹر ایشٹون ایگر نے 98 رنز بنائے جو ٹیسٹ میچ میں 11ویں نمبر پر کھیلنے والے کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور ہے۔
دوسری اننگز میں نمبر 7 پر کھیلنے والے وکٹ کیپر بیٹسمین بریڈ ہیڈن کے 71 رنز اور مزید نیچے کھیلنے والے پلیئرز کی وجہ سے کچھ بہتری دیکھنے میں آئی، بصورت دیگر میزبان کی فتح کا مارجن بڑا ہوتا۔ سابق ٹیسٹ بیٹسمین ہونے کے ناطے لی مین کو وقت کی ضرورت کا احساس ہے، انھوں نے کہا کہ کافی عرصے سے ہمارے نچلے نمبر کے پلیئرز بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں لیکن اب بیٹسمینوں کو زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ ہم نے پہلی اننگز میں 64 اور دوسری میں 110اوورزکھیلے، ہمیں بہتری لا کر پہلی اننگز میں 120 سے زائد اوورزکھیلتے ہوئے زیادہ رنز بنانا ہوں گے۔
کرکٹ آسٹریلیا نے ایشز سے صرف 16 روز قبل جنوبی افریقی مکی آرتھر کو نکال کر لی مین کو کوچ مقرر کر دیا تھا۔ دباؤ کے شکار کھلاڑیوں میں سر فہرست ایڈ کووان ہیں جو پہلی اننگز میں صفر کی خفت سے دوچار ہوئے جبکہ دوسری میں صرف 14 رنز بناسکے،ان کی کارکردگی پر لی مین کا کہنا ہے کہ ہم نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کا کس طرح کا کھیل دیکھنا چاہتے ہیں، ہمیں اس کی بیٹنگ سے مایوسی ہوئی، امید ہے کہ وہ آئندہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔
اتوار کے روز مہمان ٹیم ناٹنگھم ٹیسٹ میں کامیابی کے انتہائی قریب تھی کہ دفاعی ایشز چیمپئن انگلینڈ نے 14 رنز سے فتح حاصل کر لی، یوں اسے 5 میچزکی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل ہو گئی، ٹرینٹ برج پر 117 پر9 وکٹیں گرنے کے بعد آسٹریلیا نے 10ویں وکٹ کی شراکت میں 163 کا عالمی ریکارڈ بنایا جس کی بدولت مجموعہ 228 تک پہنچ گیا، ڈیبیو کرنے والے نوجوان کرکٹر ایشٹون ایگر نے 98 رنز بنائے جو ٹیسٹ میچ میں 11ویں نمبر پر کھیلنے والے کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور ہے۔
دوسری اننگز میں نمبر 7 پر کھیلنے والے وکٹ کیپر بیٹسمین بریڈ ہیڈن کے 71 رنز اور مزید نیچے کھیلنے والے پلیئرز کی وجہ سے کچھ بہتری دیکھنے میں آئی، بصورت دیگر میزبان کی فتح کا مارجن بڑا ہوتا۔ سابق ٹیسٹ بیٹسمین ہونے کے ناطے لی مین کو وقت کی ضرورت کا احساس ہے، انھوں نے کہا کہ کافی عرصے سے ہمارے نچلے نمبر کے پلیئرز بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں لیکن اب بیٹسمینوں کو زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ ہم نے پہلی اننگز میں 64 اور دوسری میں 110اوورزکھیلے، ہمیں بہتری لا کر پہلی اننگز میں 120 سے زائد اوورزکھیلتے ہوئے زیادہ رنز بنانا ہوں گے۔
کرکٹ آسٹریلیا نے ایشز سے صرف 16 روز قبل جنوبی افریقی مکی آرتھر کو نکال کر لی مین کو کوچ مقرر کر دیا تھا۔ دباؤ کے شکار کھلاڑیوں میں سر فہرست ایڈ کووان ہیں جو پہلی اننگز میں صفر کی خفت سے دوچار ہوئے جبکہ دوسری میں صرف 14 رنز بناسکے،ان کی کارکردگی پر لی مین کا کہنا ہے کہ ہم نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کا کس طرح کا کھیل دیکھنا چاہتے ہیں، ہمیں اس کی بیٹنگ سے مایوسی ہوئی، امید ہے کہ وہ آئندہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔