کلین سوئپ کوچ نے آئندہ بہتری کا روایتی بیان داغ دیا
تیز اور شارٹ گیندوں پر بیٹسمینوں کی مشکلات کا حل تلاش کرلیں گے،آرتھر
ز اور شارٹ گیندوں پر بیٹسمینوں کی مشکلات کا حل تلاش کرلیں گے۔ کوچ فوٹوفائل
ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ کے بعد ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے آئندہ بہتری کا روایتی بیان داغ دیا۔
ہیڈ کوچ کا کہنا ہے کہ تیز اور شارٹ گیندوں پر بیٹسمینوں کی مشکلات کا حل تلاش کرلیں گے۔ کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ میزبان بولرز نے ہوم کنڈیشنز کا بہترین استعمال کرتے ہوئے لاجواب کردیا۔ نیوزی لینڈ کیخلاف یواے ای کی سازگار کنڈیشنز میں ناکامی کے بعد جنوبی افریقہ میں پاکستان ٹیم ایک ٹیسٹ بھی نہیں جیت سکی، کلین سوئپ کی خفت اٹھانے کے بعد پریس کانفرنس میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے آئندہ بہتری لانے کا روایتی بیان دہرایا۔
انھوں نے کہاکہ ہمیں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی مہم کا آغاز ستمبر میں سری لنکا کیخلاف سیریز سے کرنا ہے، یواے ای میں ان مقابلوں کے بعد آسٹریلیا کا دورہ شیڈول ہے، ہم تیز اور شارٹ گیندوں پر اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کیلیے پُرعزم ہیں، کوچ نے کہا کہ میری خواہش ہے کینگروز کیخلاف سیریز کیلیے 3 یا 4ہفتے قبل آسٹریلیا پہنچ کر کنڈیشنز اور پچز سے ہم آہنگ ہوجائیں۔ ایک سوال پر مکی آرتھر نے کہا کہ سرفراز احمد بطور کپتان چیلنج خود قبول کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے وکٹ کیپنگ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ہمیں ان کا ساتھ دینے والے لیڈرز کی ضرورت ہے،اگر ایسا ہوا تو کپتان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط نظر آئیں گے۔ کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ جوہانسبرگ ٹیسٹ کے پہلے روز جنوبی افریقی ٹیم کو صرف262رنز تک محدود کرنے کے بعد ہم بڑی اچھی پوزیشن میں تھے لیکن بیٹنگ میں ناکامی کی وجہ سے موقع کا فائدہ نہ اٹھا سکے، میزبان بولرز نے ہوم کنڈیشنز کا بہترین استعمال کرتے ہوئے ہمیں لاجواب کردیا،انھوں نے کہا کہ شان مسعود نے سیریز میں اچھا کھیل پیش کیا، بابر اعظم نے بھی اپنی کلاس دکھائی، دونوں کی کارکردگی پاکستان کرکٹ کیلیے مثبت پہلو تھی۔
ہیڈ کوچ کا کہنا ہے کہ تیز اور شارٹ گیندوں پر بیٹسمینوں کی مشکلات کا حل تلاش کرلیں گے۔ کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ میزبان بولرز نے ہوم کنڈیشنز کا بہترین استعمال کرتے ہوئے لاجواب کردیا۔ نیوزی لینڈ کیخلاف یواے ای کی سازگار کنڈیشنز میں ناکامی کے بعد جنوبی افریقہ میں پاکستان ٹیم ایک ٹیسٹ بھی نہیں جیت سکی، کلین سوئپ کی خفت اٹھانے کے بعد پریس کانفرنس میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے آئندہ بہتری لانے کا روایتی بیان دہرایا۔
انھوں نے کہاکہ ہمیں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی مہم کا آغاز ستمبر میں سری لنکا کیخلاف سیریز سے کرنا ہے، یواے ای میں ان مقابلوں کے بعد آسٹریلیا کا دورہ شیڈول ہے، ہم تیز اور شارٹ گیندوں پر اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کیلیے پُرعزم ہیں، کوچ نے کہا کہ میری خواہش ہے کینگروز کیخلاف سیریز کیلیے 3 یا 4ہفتے قبل آسٹریلیا پہنچ کر کنڈیشنز اور پچز سے ہم آہنگ ہوجائیں۔ ایک سوال پر مکی آرتھر نے کہا کہ سرفراز احمد بطور کپتان چیلنج خود قبول کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے وکٹ کیپنگ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ہمیں ان کا ساتھ دینے والے لیڈرز کی ضرورت ہے،اگر ایسا ہوا تو کپتان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط نظر آئیں گے۔ کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ جوہانسبرگ ٹیسٹ کے پہلے روز جنوبی افریقی ٹیم کو صرف262رنز تک محدود کرنے کے بعد ہم بڑی اچھی پوزیشن میں تھے لیکن بیٹنگ میں ناکامی کی وجہ سے موقع کا فائدہ نہ اٹھا سکے، میزبان بولرز نے ہوم کنڈیشنز کا بہترین استعمال کرتے ہوئے ہمیں لاجواب کردیا،انھوں نے کہا کہ شان مسعود نے سیریز میں اچھا کھیل پیش کیا، بابر اعظم نے بھی اپنی کلاس دکھائی، دونوں کی کارکردگی پاکستان کرکٹ کیلیے مثبت پہلو تھی۔