حکومت کے بڑے اسکینڈل آناشروع ہوگئےتحریک انصاف
بجلی کے سستے منصوبوں کونقصان پہنچاکردولت سمیٹنے کاتہیہ کرلیاگیا،شیریں مزاری
گردشی قرضوں کی ادائیگیاں کیسے اورکسے کی گئیں، سابق سربراہ پیپکواورمیڈیاکی تعریف فوٹو: فائل
تحریک انصاف کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہاہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے15ارب کے نندی پور پاور پروجیکٹ کی تحقیقات کے حکم سے اس بات کوتقویت ملتی ہے کہ گزشتہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی ذاتی مفادات کی خاطربجلی کے سستے منصوبوں کو نقصان پہنچاناچاہتی ہے اور دولت سمیٹنے کاتہیہ کرچکی ہے۔
موجودہ حکومت کے ذمے داریاں سنبھالتے ہی بڑے بڑے اسکینڈلزمنظرعام پرآنا شروع ہوگئے ہیں۔ پیپکوکے سابق سربراہ کی جانب سے چیف جسٹس کوپروجیکٹ میں خورد برد کی تفصیلات پرمبنی خط کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر شیریں مزاری نے تمام تفصیلات منظرعام پرلانے پرمیڈیاکے کردارکو بھی سراہا۔ ان کا کہناتھاکہ اگریہ دونوں عوامل کارفرمانہ ہوتے توقوم کولوٹنے کے خواہش مند عناصر اپنے مقاصدمیں کامیاب ہوجاتے۔ ان کاکہنا تھا کہ نظرثانی شدہ پی سی ون کے ذریعے پیپکواور وزارت پانی وبجلی نے قوم کولوٹنے اور ایک مخصوص نجی کمپنی کوفائدہ پہنچانے کااسکینڈل تیارکیاہے۔
ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہاکہ ایسامحسوس ہوتاہے کہ حکومت پی آئی اے کی طرح جس کے بورڈمیں مفادپرست عناصرکو شامل کیاگیا ہے اورہوابازی کامشیر بھی مقررکیاگیاہے، اس منصوبے کوبھی دلچسپی لینے والی کسی کمپنی کے حوالے کرنے کے کسی خاموش منصوبے پرعمل پیراہے۔ انھوں نے کہاکہ گردشی قرضوں کے حوالے سے تمام ترتفصیلات بھی منظرعام پرلائی جائے۔ ان کاکہنا تھاکہ بتایاجائے کہ گردشی قرضوں کی ادائیگی کیلیے رقم کا انتظام کہاں سے کیاگیا اوربیشتر ادائیگیاں کسے کی گئیں۔
موجودہ حکومت کے ذمے داریاں سنبھالتے ہی بڑے بڑے اسکینڈلزمنظرعام پرآنا شروع ہوگئے ہیں۔ پیپکوکے سابق سربراہ کی جانب سے چیف جسٹس کوپروجیکٹ میں خورد برد کی تفصیلات پرمبنی خط کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر شیریں مزاری نے تمام تفصیلات منظرعام پرلانے پرمیڈیاکے کردارکو بھی سراہا۔ ان کا کہناتھاکہ اگریہ دونوں عوامل کارفرمانہ ہوتے توقوم کولوٹنے کے خواہش مند عناصر اپنے مقاصدمیں کامیاب ہوجاتے۔ ان کاکہنا تھا کہ نظرثانی شدہ پی سی ون کے ذریعے پیپکواور وزارت پانی وبجلی نے قوم کولوٹنے اور ایک مخصوص نجی کمپنی کوفائدہ پہنچانے کااسکینڈل تیارکیاہے۔
ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہاکہ ایسامحسوس ہوتاہے کہ حکومت پی آئی اے کی طرح جس کے بورڈمیں مفادپرست عناصرکو شامل کیاگیا ہے اورہوابازی کامشیر بھی مقررکیاگیاہے، اس منصوبے کوبھی دلچسپی لینے والی کسی کمپنی کے حوالے کرنے کے کسی خاموش منصوبے پرعمل پیراہے۔ انھوں نے کہاکہ گردشی قرضوں کے حوالے سے تمام ترتفصیلات بھی منظرعام پرلائی جائے۔ ان کاکہنا تھاکہ بتایاجائے کہ گردشی قرضوں کی ادائیگی کیلیے رقم کا انتظام کہاں سے کیاگیا اوربیشتر ادائیگیاں کسے کی گئیں۔