فرانسیسی احتجاج صدر نے قومی مباحثے کا اعلان کر دیا
میکرون کو یقین ہے کہ عوام کو اگر حکومتی معاملات میں مزید اختیارات دے دیے جائیں
میکرون کو یقین ہے کہ عوام کو اگر حکومتی معاملات میں مزید اختیارات دے دیے جائیں۔ فوٹو: فائل
فرانسیسی صدر امینویل میکرون نے پیلے رنگ کی واسکٹ پہن کر احتجاج کرنے والوں کی ناراضی ختم کرنے کے لیے قومی سطح پر مباحثہ کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے پیلی واسکٹوں کے ذریعے احتجاج کو دو مہینے کا عرصہ بیت گیا ہے اور صدر میکرون کے دور صدارت کا یہ سب سے بڑا بحران ہے۔ صدر میکرون نے اس حوالے سے 30 سوالوں پر مشتمل ایک سوالنامہ مرتب کیا ہے جس پر ملک بھر کے شہروں' قصبوں اور دیہات میں مباحثہ ہو گا۔
جس کا آغاز گزشتہ روز یعنی سوموار سے ہوگیا جو 15 مارچ تک جاری رہے گا۔ صدر میکرون نے کہا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہم احتجاج کرنے والوں کی ہر بات تسلیم کر لیں لیکن اس سے عوام پر یہ تو ظاہر ہو جائے گا کہ ہم وہ لوگ ہیں جو بات کرنے سے ڈرتے نہیں۔ میڈیا میں جو تصویر شایع ہوئی ہے اس میں صدر میکرون کا دستخط شدہ خط ایلے سی محل کے پس منظر میں دکھایا گیا ہے۔ یہ خط فرانسیسی عوام کے نام ہے۔ واضح رہے پیلی واسکٹوں والے احتجاجی مظاہرے مسلسل نو مہینوں سے ہو رہے ہیں اور مظاہرین کی تعداد میں کمی کے بجائے الٹا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے تاہم اب مظاہرین میں وہ شدت پسندی نہیں رہی جو شروع میں تھی۔ میکرون کو یقین ہے کہ عوام کو اگر حکومتی معاملات میں مزید اختیارات دے دیے جائیں۔
جس طرح کہ انھوں نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا، تو مظاہرین کا غیظ و غضب نرم پڑ جائے گا اور وہ مطمئن ہو جائیں گے۔ صدر میکرون نے قوم کے لیے نیوکانٹریکٹ کے نام سے لکھا ہے کہ میں ان کی ناراضگی کو مسئلہ کے حل کی قوت میں تبدیل کر دوں گا۔ تاہم مخالفین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ حکومت ایسے دل خوش کن اعلان کرکے صورتحال کو دھوئیں کے پردے میں چھپانا چاہتی ہے۔ پیلی واسٹکوں کے احتجاج کے حوالے سے نمایاں شخص میکسیمی نکولے نے کہا ہے کہ جب صدر میکرون نے بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی تو اس کا مطلب تھا کہ ہر معاملے پر بات ہو سکتی ہے لیکن بعدازاں بتایا گیا کہ اس معاملے پر نہیں اور اس معاملے پر بھی نہیں تو گویا اس کا مطلب ہے کہ صدر نے اپنی پیشکش سے یوٹرن لے لیا ہے۔
بات چیت کی سرکاری پیشکش کا سارا بوجھ بلدیاتی وزیرسباسٹین لیکورنو اور جونیئر وزیر ایمانویل وارگن پر پڑے گا لیکن اس بات کی ابھی تک وضاحت نہیں کی گئی کہ مقامی سطح پر کون اس بحث کی میزبانی کرے گا یا کون تعاون کرے گا۔ فرانسیسی میئرز کی تین تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں سہولت کار بننے پر تو تیار ہیں مگر اس کا اہتمام نہیں کریں گی۔ ایک میئر مائیکل ورگنائر نے کہا ہے کہ اس قسم کے معاملات میں لوگ بھاگ کر میئر کے پاس ہی پہنچتے ہیں لیکن ہم کوئی ذمے داری قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ بہرحال فرانسیسی صدر نے جس قومی مباحثے کا اعلان کیا ہے' اس کے مثبت نتائج نکلیں گے اور فرانسیسی نظام میں موجود خامیاں دور ہو جائیں گی۔
جس کا آغاز گزشتہ روز یعنی سوموار سے ہوگیا جو 15 مارچ تک جاری رہے گا۔ صدر میکرون نے کہا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہم احتجاج کرنے والوں کی ہر بات تسلیم کر لیں لیکن اس سے عوام پر یہ تو ظاہر ہو جائے گا کہ ہم وہ لوگ ہیں جو بات کرنے سے ڈرتے نہیں۔ میڈیا میں جو تصویر شایع ہوئی ہے اس میں صدر میکرون کا دستخط شدہ خط ایلے سی محل کے پس منظر میں دکھایا گیا ہے۔ یہ خط فرانسیسی عوام کے نام ہے۔ واضح رہے پیلی واسکٹوں والے احتجاجی مظاہرے مسلسل نو مہینوں سے ہو رہے ہیں اور مظاہرین کی تعداد میں کمی کے بجائے الٹا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے تاہم اب مظاہرین میں وہ شدت پسندی نہیں رہی جو شروع میں تھی۔ میکرون کو یقین ہے کہ عوام کو اگر حکومتی معاملات میں مزید اختیارات دے دیے جائیں۔
جس طرح کہ انھوں نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا، تو مظاہرین کا غیظ و غضب نرم پڑ جائے گا اور وہ مطمئن ہو جائیں گے۔ صدر میکرون نے قوم کے لیے نیوکانٹریکٹ کے نام سے لکھا ہے کہ میں ان کی ناراضگی کو مسئلہ کے حل کی قوت میں تبدیل کر دوں گا۔ تاہم مخالفین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ حکومت ایسے دل خوش کن اعلان کرکے صورتحال کو دھوئیں کے پردے میں چھپانا چاہتی ہے۔ پیلی واسٹکوں کے احتجاج کے حوالے سے نمایاں شخص میکسیمی نکولے نے کہا ہے کہ جب صدر میکرون نے بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی تو اس کا مطلب تھا کہ ہر معاملے پر بات ہو سکتی ہے لیکن بعدازاں بتایا گیا کہ اس معاملے پر نہیں اور اس معاملے پر بھی نہیں تو گویا اس کا مطلب ہے کہ صدر نے اپنی پیشکش سے یوٹرن لے لیا ہے۔
بات چیت کی سرکاری پیشکش کا سارا بوجھ بلدیاتی وزیرسباسٹین لیکورنو اور جونیئر وزیر ایمانویل وارگن پر پڑے گا لیکن اس بات کی ابھی تک وضاحت نہیں کی گئی کہ مقامی سطح پر کون اس بحث کی میزبانی کرے گا یا کون تعاون کرے گا۔ فرانسیسی میئرز کی تین تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں سہولت کار بننے پر تو تیار ہیں مگر اس کا اہتمام نہیں کریں گی۔ ایک میئر مائیکل ورگنائر نے کہا ہے کہ اس قسم کے معاملات میں لوگ بھاگ کر میئر کے پاس ہی پہنچتے ہیں لیکن ہم کوئی ذمے داری قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ بہرحال فرانسیسی صدر نے جس قومی مباحثے کا اعلان کیا ہے' اس کے مثبت نتائج نکلیں گے اور فرانسیسی نظام میں موجود خامیاں دور ہو جائیں گی۔