جمہوری جذبہ سے کام کرنے کی ضرورت

اسی سیاق وسباق میں وزیراعظم اپنے دیگر رفقا کے ساتھ اندرون سندھ کے دورے پر آرہے ہیں

اسی سیاق وسباق میں وزیراعظم اپنے دیگر رفقا کے ساتھ اندرون سندھ کے دورے پر آرہے ہیں. فوٹو : فائل

پی ٹی آئی حکومت کا دشت ِمشکلات میں سفر جاری ہے، صورتحال زیر زمیں سیاسی اور معاشی گرگڑاہٹوں سے دوچار ہے، میڈیا اقتصادی افق کی خبروں میں بھی عوام کی فلاح و بہبود اور ٹریکل ڈاؤن ریلیف کی فراہمی میں تاخیر پر متوشش ہے، فہمیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی ترجیحات تلخ نوائی ،کٹیلے فقرہ بازیوں سے ہٹ کر بنیادی اہداف تک رسائی پر حکومت ٹھنڈے دل ودماغ سے آگے نہیں بڑھے گی اس وقت تک سیاسی کشیدگی بہت ساری حکومتی توانائیوں کو چاٹ لے گی اور سسٹم کو ادارہ جاتی سطح پر ان غیر ضروری دھچکوں سے سخت نقصان پہنچنے کا احتمال ہوگا۔

عمومی جمہوری فضا بدستور بوجھل ہے،گاہے گاہے اشتعال انگیز فقرہ بازیوں سے ٹھوس اور سنجیدہ سیاسی مکالمے کی سمت پیش رفت سست روی کا شکار ہے جب کہ حکومت مخالف جورتوڑ کا مرکز سندھ بنتا جارہا ہے، وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا ہورہا ہے، ہم اسٹرکچرل اصلاحات پر توجہ دے رہے ہیں ادھر سیاسی ناقدین اور اپوزیشن کا تاثر یہ ہے کہ جہاں تک پی ٹی آئی کی حکمرانی کا تعلق ہے اسے ''نے ہاتھ باگ پر ہے نے پائے رکاب میں'' سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے، پیپلز پارٹی سندھ کے رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کو ذاتی جاگیر نہ سمجھے، جواباً وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اگر نظرثانی کرلیں تو سندھ حکومت گر جائے گی۔

اسی سیاق وسباق میں وزیراعظم اپنے دیگر رفقا کے ساتھ اندرون سندھ کے دورے پر آرہے ہیں، حکومت ، سندھ میں پی پی پر سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر قائم نظر آتی ہے جس سے سیاسی درجہ حرارت میں کوئی کمی متوقع نہیں ہے، وفاقی حکومت نے جی ڈے اے رہنماؤں سے سیاسی رابطے اور سندھ میں تبدیلی کے لیے موثر اتحاد کا عندیہ دیا ہے،ایک اطلاع کے مطابق آیندہ بجٹ کی آمد کے حوالے سے وفاقی حکومت نے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں سے25 جنوری تک آیندہ مالی سال2019-20ء کے لیے ابتدائی بجٹ تخمینہ جات تیار کرنے کی ہدایات جاری کردیں، وزارتیں و ڈویژنز تخمینہ جات کو حتمی شکل دیکر فروری میں وزارت خزانہ کو بھجوائیں گے۔ عوام میں نئے بجٹ کے اعلان سے خدشات اور توقعات کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا جارہا ہے، دریں اثنا ایک ڈرامائی موو میں پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں تحریک انصاف کے اراکین پنجاب اسمبلی کو دس کروڑ روپے فی کس دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔یاد رہے پی ٹی آئی اس قسم کے صوابدیدی فنڈز کی شدت سے مخالفت کرچکی ہے۔


عدالتی محاذ بھی قابل دید ہے، سپریم کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ضمانت برقرار رکھتے ہوئے سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل خارج کر دی، چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزاراحمد، جسٹس مشیرعالم اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل5 رکنی لارجر بنچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس پر سپریم کورٹ نے بہترین فیصلہ کیا ، ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل خارج ہونا مسلم لیگ(ن)، نوازشریف، کیپٹن (ر)صفدر ، مریم نواز اور دیگر لوگوں کے لیے ایک عارضی ریلیف ہے، ادھر سندھ اسمبلی میں گزشتہ روز پیپلزپارٹی کی خاتون رکن اسمبلی ندا کھوڑو کی این ایف سی ایوارڈ سے متعلق تحریک التوا پر ایوان میں2گھنٹے گرما گرم بحث ہوئی جس کے دوران پی ٹی آئی کے ارکان نے وفاقی حکومت پر سرکاری بینچوں سے تنقید پر ایوان سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ پیپلز پارٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اپنے پہلے100روز میں این ایف سی ایوارڈ کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا، غیر ملکی امداد کا ذکر بھی چل نکلا ، شہباز شریف نے برجستہ کہہ دیا کہ دوست ممالک نے ہماری فوج اور آرمی چیف کی وجہ سے یہ امداد دی ہے ، فیصل واوڈا نے شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کل تک خلائی مخلوق کہنے والے آج فوج کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ اس کے بعد آصف علی زرداری نے تبصرہ کیا کہ غیر ملکی امداد اس حکومت کو نہیں اداروں کو اور پاکستان کو ملی ہے۔

اس بحث میں بلاشبہ حد درجہ احتیاظ لازم ہے۔آیندہ چند روز میں ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنی کارکردگی کے دفاع میںکہا کہ جتنے بھی اقدامات کیے قانون کے دائرے میں رہ کر انتظامیہ کو ہدایات دیں۔ یاد رہے ملکی عدالتی تاریخ میں ایک طویل عرصہ کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے عدالتی فعالیت پر تین ہم عصر فاضل ججز کے اختلافی نوٹس پر ماہرین قانون میں بحث جاری ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکومت اور اپوزیشن رہنما جمہوری جذبہ کے تحت کشیدگی سے گریز کی حکمت عملی اپنائیں گے جو وقت کا تقاضہ ہے۔
Load Next Story