کم عمری میں جبری شادی عالمی رپورٹ
یہ ایسا معاشرتی اور سماجی المیہ ہے جس کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کبھی نہیں کی گئی
یہ ایسا معاشرتی اور سماجی المیہ ہے جس کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کبھی نہیں کی گئی۔ فوٹو: فائل
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں اکیس فی صد بچیوں کی کم عمری میں جبری شادی کردی جاتی ہے، اور 2011 سے2020 تک دس سال کے عرصے میں کم عمری کی جبری شادیوں کا شکار بچیوں کی تعداد چودہ کروڑ ہوجائے گی ۔
یہ ایسا معاشرتی اور سماجی المیہ ہے جس کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کبھی نہیں کی گئی۔ پہلے تو ملک میں برطانوی راج کے قوانین لاگو رہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد کم عمری کی شادی میں عمرکی حد کا تعین صوبائی مسئلہ قرار پایا، بدقسمتی سے تمام صوبے ایک مقررہ عمرکی حد پر متفق نہیں ہوسکے،اس قانون سازی میں مذہبی حلقے بھی رکاوٹ ہیں جوکم ازکم عمرکے تعین پر معترض ہیں۔ ماہرین امراض نسواں کے مطابق کم عمری کی شادیوں کے کم عمر لڑکیوں پر منفی طبی اثرات مرتب ہوتے ہیں، بچے کو جنم دینے کے لیے سرجری کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
تشنج کے نتیجے میں بلڈ پریشرکا بڑھ جانا اور جسم کا پھولنا ، دوران زچگی پیدا ہونے والی پیچیدگیاں اکثر اوقات موت کا سبب بھی بنتی ہیں۔ ہمارے ملک میں دوران زچگی ماؤں کی اموات کی شرح ایک لاکھ حاملہ خواتین میں276 ہے ، جوکہ دنیا بھر کی سب سے بلند شرحوں میں سے ہے ۔ خاندانی منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ کم عمری کی شادیاں ہیں۔ یہ جبر اور ستم کم سن بچیوں پر رسم ورواج کے نام پرکیا جاتا ہے۔کم عمری کی شادیاں صرف قانون سازی سے نہیں رکیں گی بلکہ اس کے لیے حکومت ، سول سوسائٹی اور میڈیا کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے سب کو مل کرکام کرنا ہوگا تاکہ کم سنی کی شادیوں کے منفی اثرات کے حوالے سے عوام میں شعور بیدارکیا جاسکے۔
یہ ایسا معاشرتی اور سماجی المیہ ہے جس کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کبھی نہیں کی گئی۔ پہلے تو ملک میں برطانوی راج کے قوانین لاگو رہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد کم عمری کی شادی میں عمرکی حد کا تعین صوبائی مسئلہ قرار پایا، بدقسمتی سے تمام صوبے ایک مقررہ عمرکی حد پر متفق نہیں ہوسکے،اس قانون سازی میں مذہبی حلقے بھی رکاوٹ ہیں جوکم ازکم عمرکے تعین پر معترض ہیں۔ ماہرین امراض نسواں کے مطابق کم عمری کی شادیوں کے کم عمر لڑکیوں پر منفی طبی اثرات مرتب ہوتے ہیں، بچے کو جنم دینے کے لیے سرجری کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
تشنج کے نتیجے میں بلڈ پریشرکا بڑھ جانا اور جسم کا پھولنا ، دوران زچگی پیدا ہونے والی پیچیدگیاں اکثر اوقات موت کا سبب بھی بنتی ہیں۔ ہمارے ملک میں دوران زچگی ماؤں کی اموات کی شرح ایک لاکھ حاملہ خواتین میں276 ہے ، جوکہ دنیا بھر کی سب سے بلند شرحوں میں سے ہے ۔ خاندانی منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ کم عمری کی شادیاں ہیں۔ یہ جبر اور ستم کم سن بچیوں پر رسم ورواج کے نام پرکیا جاتا ہے۔کم عمری کی شادیاں صرف قانون سازی سے نہیں رکیں گی بلکہ اس کے لیے حکومت ، سول سوسائٹی اور میڈیا کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے سب کو مل کرکام کرنا ہوگا تاکہ کم سنی کی شادیوں کے منفی اثرات کے حوالے سے عوام میں شعور بیدارکیا جاسکے۔