حکومت کا انٹیلی جنس اداروں کے درمیان روابط بہتر بنانے کیلئے مشترکہ کوآرڈینیشن کمیٹی بنانے پرغور
كمیٹی كے قیام سے كسی بھی واقعے كی تحقیق كے سلسلے میں نتائج میں بہتری آئے گی، ذرائع
کمیٹی کے قیام کا حتمی فیصلہ عسکری قیادت کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا جائے گا، ذرائع فوٹو: این این آئی/فائل
ملک میں دہشت گردوں كے نیٹ ورک كو مكمل كنٹرول كرنے كے حوالے سے وفاقی حكومت سول اور فوجی انٹیلی جنس اداروں كے درمیان روابط كو بہتر بنانے كے لئے مشتركہ كوآرڈی نیشن كمیٹی بنانے پر غور كر رہی ہے تاہم حتمی فیصلہ عسکری قیادت کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا جائے گا۔
ذرائع كے مطابق انٹیلی جنس اداروں كی مشتركہ كوآرڈی نیشن كمیٹی براہ راست وزیر اعظم نواز شریف كی نگرانی میں كام كرے گی اور انھیں ہی جواب دہ ہوگی، كوآرڈی نیشن كمیٹی بنانے كا مقصد ملک كے اندر سیكیورٹی اداروں كے درمیان روابط كو بہتر بنانا اور خصوصاً ان كی كاركردگی میں بہتری لانے کے لئے ایک مربوط نظام وضع كرنا ہے اور كمیٹی كے قیام سے كسی بھی واقعے كی تحقیق كے سلسلے میں نتائج میں بہتری آئے گی۔
ذرائع كا كہنا ہے كہ وزیر اعظم كو گزشتہ ہفتے سیكیورٹی اداروں كی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا تھا كہ دہشت گردی یا سنگین جرائم كے واقعات كی تحقیقات میں خفیہ اداروں کی سمت مختلف ہونے کے باعث بہتر نتائج سامنے نہیں آتے، بریفنگ میں فوجی انٹیلی جنس اداروں كا مؤقف سامنے آیا تھا سول اداروں كو دہشت گردی كے واقعات كی قبل از وقت اطلاع بھی دے دی جاتی ہے مگر ان اداروں كے پاس اہل عملہ موجود نہیں جس کی وجہ سے یہ دہشت گردوں کے خلاف فوری كارروائی كرنے میں كامیاب نہیں ہوتے بلكہ ایسی اطلاعات كو افشا بھی كردیا جا تا ہے جس سے ملک دشمن عناصر اور دہشت گردوں كو فائدہ پہنچتا ہے۔
ذرائع كے مطابق انٹیلی جنس اداروں كی مشتركہ كوآرڈی نیشن كمیٹی براہ راست وزیر اعظم نواز شریف كی نگرانی میں كام كرے گی اور انھیں ہی جواب دہ ہوگی، كوآرڈی نیشن كمیٹی بنانے كا مقصد ملک كے اندر سیكیورٹی اداروں كے درمیان روابط كو بہتر بنانا اور خصوصاً ان كی كاركردگی میں بہتری لانے کے لئے ایک مربوط نظام وضع كرنا ہے اور كمیٹی كے قیام سے كسی بھی واقعے كی تحقیق كے سلسلے میں نتائج میں بہتری آئے گی۔
ذرائع كا كہنا ہے كہ وزیر اعظم كو گزشتہ ہفتے سیكیورٹی اداروں كی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا تھا كہ دہشت گردی یا سنگین جرائم كے واقعات كی تحقیقات میں خفیہ اداروں کی سمت مختلف ہونے کے باعث بہتر نتائج سامنے نہیں آتے، بریفنگ میں فوجی انٹیلی جنس اداروں كا مؤقف سامنے آیا تھا سول اداروں كو دہشت گردی كے واقعات كی قبل از وقت اطلاع بھی دے دی جاتی ہے مگر ان اداروں كے پاس اہل عملہ موجود نہیں جس کی وجہ سے یہ دہشت گردوں کے خلاف فوری كارروائی كرنے میں كامیاب نہیں ہوتے بلكہ ایسی اطلاعات كو افشا بھی كردیا جا تا ہے جس سے ملک دشمن عناصر اور دہشت گردوں كو فائدہ پہنچتا ہے۔