اپر گذری مکان پر چھاپہ12مغوی بچے بازیاب2اغوا کار گرفتار

گرفتار ملزم کی نشاندہی پر کارروائی کی گئی، بازیاب ہونے والے بچوں کا تعلق اندرون سندھ اور ڈیرہ غازی خان سے ہے.

گذری میں بچوں کو اغوا کرنے والے ملزمان ڈاکس پولیس کے حوالات میں قید ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

ڈاکس پولیس نے گرفتار اغوا کار کی نشاندہی پر اپر گذری میں ایک مکان پر چھاپہ مارکر12مغوی بچوں کا بازیاب کرکے2اغوا کاروں کو گرفتارکرلیا۔

بازیاب ہونے والے بچوں کا تعلق اندرون سندھ اور ڈیرہ غازی خان سے ہے ، بازیاب ہونے والے ایک بچے کو پیر کو کورنگی بلال کالونی سے اغوا کیا گیا تھا، تفصیلات کے مطابق ڈاکس پولیس نے سلطان آباد کے علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ملزم محمد عامر کو حراست میں لے کر اس کی نشاندہی پر اپر گزری میں واقع ایک مکان پر چھاپہ مارکر11مغوی بچوں کو بازیاب کرا کے اغوا کار عامر کے گینگ لیڈر خیر محمد عرف بابو کو گرفتار کر لیا، ایس ایچ او آصف جاکھرانی نے ایکسپریس کو بتایا کہ گزشتہ روز سلطان آباد کے رہائشی ہندو نژاد باشندے سنتوش کمار نے اپنے12سالہ بیٹے نوین کمار کی گمشدگی کی رپورٹ درج کراتے ہوئے بتایا تھا کہ اسے اپنے ہی علاقے کے رہائشی عامر نامی شخص پر شبہ ہے ۔

پولیس نے عامر کی گرفتاری کے لیے اس کے گھر پر چھاپہ مار تو وہ وہاں نہیں ملا جس پر پولیس نے کینٹ اسٹیشن پر چھاپہ مار کر عامر کو گرفتار کر لیا، ملزم عامر نے ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس کو بتایا کہ وہ بچوں کو اپنے گینگ لیڈر خیر محمد عرف بابو کے پاس چھوڑتا ہے جس پر پولیس نے عامر کی نشاندہی پر بابو کے گھر پر چھاپہ مارا ، بازیاب ہونے والے بچوں میں سنتوش کمار کا بچہ موجود نہیں تھا ، بعد ازاں پولیس نے سنتوش کمار کے بیٹے نوین کو لیاری کے علاقے آگرہ تاج کالونی سے بازیاب کرا لیا، پولیس کے مطابق بازیاب ہونیوالے2بھائی محمد کاشف ولد محمد حبیب اور اس کا بھائی محمد آصف ملتان کے رہائشی ہیں، دونوں بھائی کچھ عرصہ قبل ملتان سے بھاگ کر کراچی آگئے تھے،دونوں بھائیوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ گدا گری کا کام کرتے ہیں اور خیر محمد عرف بابو ٹھیکیدار کو روزانہ رہائش کے200روپے دیتے ہیں۔




بازیاب ہونے والے جمشید نے پولیس کا بتایا کہ وہ کورنگی بلال کالونی کا رہائشی اور ایک مدرسے کا طالب علم ہے ، جمشید پیر کو مدرسہ جانے کے لیے گھر سے نکلا تھا رات دیر تک گھر نہیں پہنچا تاہم اس کے گھر والے بے فکر تھے کہ ان کا بچہ مدرسے گیا ہے جب پیر اور منگل کی درمیانی شب ایکسپریس نیوز پر اپر گذری سے بچوں کی بازیابی کی خبر نشر کی گئی تو جمشید کے گھر والوں نے بازیاب ہونے والے بچوں کے درمیان میں جمشید کو بھی کھڑا دیکھا جس پر وہ فوری طور پر ڈاکس تھانے پہنچ گئے، جمشید ڈاکس تھانے میں اپنے دادا اور چچا کو دیکھ کر ان سے لپٹ لپٹ کر رونے لگا اور انھیں بتایا کہ وہ قرآنی تعلیم اور استاد کی پٹائی سے خوفزدہ ہو کر گھر سے بھاگ کر کینٹ اسٹیشن پہنچ گیا تھا ۔

جہاں اسے2 گدا گر بچے11سالہ محمد آصف ولد کبیر اور9سالہ محمد عرفان ولد نور محمد اپنے ساتھ خیر محمد عرف بابو بھائی کے گھر لے گئے تھے ، پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان بردہ فروش جرائم پیشہ ہیں جو بچوں کو اندرون سندھ اور پنجاب سے اغوا کر کے کراچی لاتے ہیں اور بچوں سے بھیک منگواتے ہیں، ملزمان کا 4 رکنی گروہ ہے دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے جا رہے ہیں،گرفتار ملزم عامر نے انکشاف کیا کہ ان کے پاس مزید9مغوی بچے ہیں تاہم انھیں کہاں رکھا گیا ہے اسے نہیں معلوم کیونکہ اس کا کام بچوں کو اغوا کر کے خیر محمد کے پاس پہنچانا تھا۔
Load Next Story