کالج فنڈ کے 13 کروڑ سابق وزیر کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے نیب

ضیاالحسن لنجارنے ڈیفنس میں9کروڑ روپے کابنگلہ خریدا جسے اثاثے میں شمارنہیں کیاگیا، پراسیکیوٹر

فرنٹ مین خان بہادر اور لنجارکے کیس کو منسلک کرکے پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جائے،جسٹس احمد علی فوٹو:فائل

سندھ ہائیکورٹ نے سابق صوبائی وزیر قانون ضیاالحسن لنجارکے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق نیب افسر کو دستاویزات اکٹھا کرنے کے لیے مہلت دیدی۔


چیف جسٹس احمد علی شیخ اور جسٹس عمر سیال پر مشتمل ڈویژنل بینچ کے روبرو کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، پراسیکیوٹر نیب نے موقف دیا کہ ضیاالحسن لنجارکے خلاف انکوائری جاری ہے، انکوائری میں مزید دستاویزات جمع کی جارہی ہیں، ضیاالحسن لنجارکے ڈیفنس کراچی میں بنگلہ خرید نے کا بھی سراغ لگایا ہے، انکوائری کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ بنگلے کا سیل ایگریمنٹ ضیاالحسن لنجارکے نام ہے، پراپرٹی سسر کے نام کرارکھی ہے بنگلہ کی مالیت 9 کروڑ ہے، جیسے اثاثے میں شمار نہیں کیا گیا۔

ضیاالحسن لنجار نے پبلک فنڈز کی رقم فرنٹ مین کے ذریعے اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کرائی،سابق صوبائی وزیر نے میڈیکل کالج نوابشاہ اور دیگر فنڈز کی رقم ہڑپ کی، پبلک فنڈز کے17 جبکہ کالج کے لیے مختص 13کروڑ روپے کی رقم ضیا الحسن لنجارکے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ضیاالحسن لنجارکا فرنٹ مین کون ہے اس کو کیوں نہیں پکڑا؟ نیب پراسیکوٹر نے موقف دیا کہ ضیاالحسن لنجارکا فرنٹ میں خان بہادر ہے، اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت حاصل کرلی ہے، چیف جسٹس نے فرنٹ مین اور ضیاالحسن لنجارکے کیس کو منسلک کرنے کا حکم دیدیا، نیب پراسیکیوٹر نے موقف دیا کہ مزید مہلت دی جائے تاکہ ملزم کیخلاف مزید دستاویزات اکھٹا کرلیں،عدالت نے مہلت دیتے ہوئے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔
Load Next Story