زلمے خلیل زاد کی آمد اور افغان امن

یہ مستحسن عمل ہے کہ پاکستان افغان مفاہمتی عمل کا حامی ہے۔

یہ مستحسن عمل ہے کہ پاکستان افغان مفاہمتی عمل کا حامی ہے۔ فوٹو: فائل

DHAKA:
وزیراعظم عمران خان نے افغان صدرکے ساتھ ٹیلی فونک گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغان تنازع کے تصفیے کے لیے مخلصانہ کاوشیںکر رہا ہے ۔افغان امن ہمارے مفاد میں ہے، مسئلے کا بہترین حل افغان فریقین کے درمیان مصالحت اور مذاکرات ہیں۔

افغانستان کے صدر اور پاکستانی وزیر اعظم کے درمیان افغانستان میں امن ومصالحت کے لیے حالیہ کوششوں کے متعلق ہونے والی گفتگوکے جو مندرجات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مسلسل رابطے اور تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے فضاء پیدا کرنے پر اتفاق کیا، سرحدی سلامتی کے اموراور دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں سربراہان نے ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کرنے کی بھی حامی بھری ہے۔ دراصل افغانستان میں مفاہمتی عمل کے لیے امریکا نے کوششیں تیزکردی ہیں ۔

امریکا، افغانستان، طالبان اور پاکستان اس سارے قضیے میں نہ صرف فریق ہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ان سب کوایک ایسا لائحہ عمل اور حل تلاش کرنا ہے جو خطے میں امن کے قیام کا موجب بنے ،کیونکہ افغانستان میں بدامنی کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔ امریکا افغانستان سے واپس جانا چاہتا ہے جس کے نتیجے میں اس بات کے خدشات اور امکانات موجود ہیں کہ افغانستان میں ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی شروع نہ ہوجائے، جوکسی بھی طرح درست نہیں ہوگا۔

امریکی ایلیچی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد پانچویں بار پاکستان تشریف لائے ہیں ۔ زلمے خلیل زاد نے چار ملکی دورے کے دوسرے مرحلے میں پاکستان پہنچ کر جنرل قمرجاویدباجوہ سے ملاقات کی جب کہ وفودکی سطح پرمذاکرات کیے۔

آئی ایس پی آرکی پریس ریلیز کے مطابق آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد اور اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل آسٹن ملرکی زیرقیادت امریکی وفد نے جی ایچ کیومیں ملاقات کی ،اس دوران علاقائی سلامتی کی صورتحال،افغان عمل اورمصالحتی عمل زیربحث آیا۔ جنرل قمرجاویدباجوہ نے اس عزم کااعادہ کیاکہ افغان امن پاکستان کے لیے اہم ہے۔انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ خطے میں امن اوراستحکام کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔


مزید برآں ترجمان دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق پاکستان اور امریکا نے اس عزم کا اظہارکیا ہے کہ افغان امن عمل میں پیشرفت مشترکہ ذمے داری ہے، پاکستان نے سیاسی مفاہمت کے لیے سہولت کاری کے لیے عزم کااعادہ کیا۔ پہلے تو پاکستان سے ڈو مورکا مطالبہ تکرار کے ساتھ دہرایا تھا لیکن کچھ عرصہ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوخط لکھ کر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے اور افغان امن عمل میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی، یوں سمجھیں کہ پاکستان کی حیثیت ایک سہولت کار کی ہے جو افغانستان کے مفاہمتی عمل میں ادا کرنے جا رہا ہے ۔

زلمے خلیل زاد 21 جنوری تک بھارت، چین، افغانستان اور پاکستان کے دورے پر ہیں اورمسئلہ افغانستان کے سیاسی حل کے لیے حکام سے مشاورت کر رہے ہیں ۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ان کی کاوشیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ یہاں پر جو نقطہ سب سے اہم ہے اسے ہمیں بحیثیت ملک وقوم مدنظر رکھنا چاہیے کہ ہمارے مفادات کا تحفظ کس حد تک کیا جاتا ہے،کیونکہ تین دہائی قبل ہم امریکی جنگ میںکود پڑے تھے، جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔

ایک اورقابل غور نقطہ ہے جو خلیل زاد کی پاکستان آمد سے قبل کابل میں صحافیوں سے گفتگو میں عیاں ہوتاہے۔ زلمے کے بقول ''امریکا طالبان سے مذاکرات کی ایک اورکوشش کرے گا، اگر وہ مذاکرات پرآمادہ ہوں تو بات چیت کی جاسکتی ہے،امید ہے وہ امن کا موقع ضایع نہیں کریں گے، اگر وہ لڑائی چاہتے ہیں تو ہم بھی لڑائی کے لیے تیار ہیں،اس صورت میں امریکا افغان حکومت اور قوم کے ساتھ کھڑا ہوگا ۔

ادھر وائٹ ہاؤس نے کہا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان سے فوج کی واپسی کے لیے پینٹا گون کو ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔'' ایک سپر پاور کو افغانستان میں شکست ہوئی اور دوسری موجودہ اکلوتی سپر پاور افغانستان سے نکلنے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔ ہمیں مذاکرات کی میز پر انتہائی فہم وفراست کا مظاہرہ کرنا ہوگا،کیونکہ یہ تاریخ کا بڑا نازک موڑ ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کا امتحان بھی ہے کہ وہ کس طرح اس صورتحال میں ملکی مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

یہ مستحسن عمل ہے کہ پاکستان افغان مفاہمتی عمل کا حامی ہے۔ یہ بیل اسی وقت منڈھے چڑھے گی، جب سب اسے اپنی مشترکہ ذمے داری سمجھیں ۔ امریکی وفد نے طالبان سے مذاکرات کے لیے پاکستانی کوششوں کو سراہا ہے۔ یہاں پر ایک بات اور واضح ہوتی ہے کہ اس سارے عمل میں بھارت کا کوئی عمل دخل یا کردار نہیں بنتا ہے۔ یہ بات بہت خوش آیند ہے کہ پاکستان اورافغانستان کی قیادت نے تمام موجود ایشوزکے حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور آپس میں قریبی رابطہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے خطے میں امن کا واحد راستہ ہے۔
Load Next Story