میانمار میں باغیانہ سرگرمیاں درجنوں ہلاک و زخمی
برما میں ایک آمرانہ حکومت رہی ہے، گو اب آنگ سان سوچی حکمران ہیں لیکن ابھی تک برما پر فوج کا کنٹرول ہے۔
برما میں ایک آمرانہ حکومت رہی ہے، گو اب آنگ سان سوچی حکمران ہیں لیکن ابھی تک برما پر فوج کا کنٹرول ہے۔ فوٹو:فائل
میانمار (برما) کے صوبے راخائن میں جہاں بدھ (بودھ) اکثریت نے مسلمان اقلیت کی نسل کشی کی اور انھیں لاکھوں کی تعداد میں گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا اور وہ قریبی ملکوں (بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ وغیرہ) میں پناہ گزین کے طور پر جا پہنچے بلکہ کئی حالات میں کہیں پہنچنے سے پیشتر ہی سمندری لہروں کی نذر ہو گئے لیکن عجب مسئلہ یہ ہوا کہ اب اس علاقے پر قبضے کے لیے بودھوں کے ہی ایک گروپ نے ریاست مخالف سرگرمیاں بھی شروع کر دیں۔ ان باغیوں کو کچلنے کے لیے برمی فوج باقاعدہ کارروائیاں کرتی رہتی ہے۔
ایک تازہ کارروائی میں کم ازکم 13 باغیوں کو ہلاک کرنے کی رپورٹ دی گئی ہے۔ ادھر سیکیورٹی فورسز اور اراکان مسلمانوں کے مابین بھی مسلح جھڑیں ہوتی رہتی ہیں۔ راخائن آرمی باغیوں کی فوج ہے جو میانمار کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ برسرپیکار ہے، اس باغی فوج میں بودھوں کی اکثریت ہے جو اپنے ہی ملک کی فوج سے لڑ رہے ہیں۔ اس سال کے آغاز میں یعنی 5 جنوری سے 16 جنوری 2019 کے درمیان باغیوں کے ملکی فوج سے آٹھ تصادم ہوئے، اسی دوران باروی سرنگوں کے پانچ دھماکے بھی ہوئے۔
برمی فوج کے اعلیٰ افسر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 13 باغیوں کی لاشیں اور کچھ گولہ بارود چھین لیا گیا۔ تاہم میجر جنرل نے یہ نہیں بتایا کہ خود ان کے کتنے آدمی اس لڑائی میں کام آئے۔
دوسری طرف تشدد کی حالیہ لہر کے اضافے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جب باغیوں نے 4 جنوری کو، میانمار یوم آزادی کی تقریبات منا رہا تھا، 4 پولیس اسٹیشنوں پر حملہ کر کے 13 پولیس والے ہلاک اور 9 زخمی کر دیئے، ملک کی سربراہ آنگ سان سوچی نے ذاتی طور پر فوج کو حکم دیا ہے کہ ملک کو دہشت گردی سے پاک کر دیا جائے۔ سرکاری بیان کے مطابق راخائن آرمی ملک دشمن تنظیم ہے لہٰذا اس کے خلاف کارروائی میں کوئی لحاظ نہ کیا جائے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ برما میں مذہبی تفریق کے ساتھ ساتھ نسلی منافرت بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اراکان مسلمانوں کو ان کے مذہبی عقیدے کی وجہ سے مارا جا رہا ہے جب کہ ارخائن کے بودھ نسلی بنیاد پر برما کی اکثریتی نسلی گروپ کے ساتھ برسرپیکار ہیں، یوں برما ایک نئی جنگ کا شکار ہو رہا ہے۔
برما میں ایک آمرانہ حکومت رہی ہے، گو اب آنگ سان سوچی حکمران ہیں لیکن ابھی تک برما پر فوج کا کنٹرول ہے اور وہ مسلمانوں اور دیگر نسلی اقلیتی گروہوں کے خلاف مسلسل ظلم وجبر کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ایک تازہ کارروائی میں کم ازکم 13 باغیوں کو ہلاک کرنے کی رپورٹ دی گئی ہے۔ ادھر سیکیورٹی فورسز اور اراکان مسلمانوں کے مابین بھی مسلح جھڑیں ہوتی رہتی ہیں۔ راخائن آرمی باغیوں کی فوج ہے جو میانمار کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ برسرپیکار ہے، اس باغی فوج میں بودھوں کی اکثریت ہے جو اپنے ہی ملک کی فوج سے لڑ رہے ہیں۔ اس سال کے آغاز میں یعنی 5 جنوری سے 16 جنوری 2019 کے درمیان باغیوں کے ملکی فوج سے آٹھ تصادم ہوئے، اسی دوران باروی سرنگوں کے پانچ دھماکے بھی ہوئے۔
برمی فوج کے اعلیٰ افسر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 13 باغیوں کی لاشیں اور کچھ گولہ بارود چھین لیا گیا۔ تاہم میجر جنرل نے یہ نہیں بتایا کہ خود ان کے کتنے آدمی اس لڑائی میں کام آئے۔
دوسری طرف تشدد کی حالیہ لہر کے اضافے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جب باغیوں نے 4 جنوری کو، میانمار یوم آزادی کی تقریبات منا رہا تھا، 4 پولیس اسٹیشنوں پر حملہ کر کے 13 پولیس والے ہلاک اور 9 زخمی کر دیئے، ملک کی سربراہ آنگ سان سوچی نے ذاتی طور پر فوج کو حکم دیا ہے کہ ملک کو دہشت گردی سے پاک کر دیا جائے۔ سرکاری بیان کے مطابق راخائن آرمی ملک دشمن تنظیم ہے لہٰذا اس کے خلاف کارروائی میں کوئی لحاظ نہ کیا جائے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ برما میں مذہبی تفریق کے ساتھ ساتھ نسلی منافرت بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اراکان مسلمانوں کو ان کے مذہبی عقیدے کی وجہ سے مارا جا رہا ہے جب کہ ارخائن کے بودھ نسلی بنیاد پر برما کی اکثریتی نسلی گروپ کے ساتھ برسرپیکار ہیں، یوں برما ایک نئی جنگ کا شکار ہو رہا ہے۔
برما میں ایک آمرانہ حکومت رہی ہے، گو اب آنگ سان سوچی حکمران ہیں لیکن ابھی تک برما پر فوج کا کنٹرول ہے اور وہ مسلمانوں اور دیگر نسلی اقلیتی گروہوں کے خلاف مسلسل ظلم وجبر کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔