افغانستان میں قیام امن کے اشارے

ضرورت اس امر کی ہے کہ حقائق کو سامنے رکھ کر مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حقائق کو سامنے رکھ کر مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے۔ فوٹو : فائل

پاکستان اورامریکا نے افغانستان میں سیاسی مفاہمت اورطالبان کے ساتھ مزید مذاکرات کرنے پراتفاق کیا ہے، افغان مفاہمتی عمل پر پاکستان اور امریکا کے مابین مذاکرات کا ایک اور دور اگلے روز اسلام آباد میں ہوا۔

امریکی نمایندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم عمران خان سے وزیراعظم آفس جب کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے وزارت خارجہ میں ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم عمران خان سے امریکی نمایندہ خصوصی کی ملاقات میں افغانستان میں امن و مصالحتی عمل پر بات چیت کی گئی،ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے کہا افغانستان میںامن پاکستان کے مفاد میں ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے افغان مصالحتی عمل میں ہر ممکن مدد وتعاون کی یقین دہانی کرائی۔ زلمے خلیل زادنے وزیراعظم کو افغان طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل پر اعتماد میں لیا اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی اورپاکستانی حکام کا شکریہ اداکیا۔

وزارت خارجہ میں زلمے خلیل زاد کی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں بھی افغان مفاہمتی عمل پر ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ زلمے خلیل نے قطراورابوظہبی میں طالبان اور افغان حکام سے ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا اور پاکستان کو اعتماد میں لیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا افغان مفاہمتی عمل میں سہولت کاری کے حوالے سے پاکستان اپنی کاوشیں جاری رکھے گا کیونکہ افغانستان میں قیام امن کے لیے مفاہمتی عمل مشترکہ ذمے داری ہے۔

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا امریکی قیادت، افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوںکو قدرکی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ذرائع کے مطابق زلمے خلیل کے دورہ پاکستان کے موقع پر یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ آئندہ مذاکرات پاکستان میں ہوں تاہم اس بات کا فیصلہ افغان حکام اورطالبان قیادت کی رضا مندی کے بعد ہی ہوگا۔

افغانستان میں امن کے لیے امریکا اور افغان حکومت عرصے سے کوششیں کر رہے ہیں، وہ طالبان کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں، قطر میں قائم طالبان کا دفتر اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ امریکا کی کوشش ہے کہ پاکستان اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے۔


گزشتہ دنوں بھی طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں تاہم ان مذاکرات میں کوئی نتیجہ خیز بات سامنے نہیں آ سکی لیکن یہ بات طے ہے کہ فریقین اب یہ چاہتے ہیں کہ معاملات آگے بڑھیں اور کسی نتیجے تک پہنچ جائیں۔ امریکی نمایندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا تعلق بھی افغانستان سے ہے تاہم وہ عرصے سے امریکا میں مقیم ہیں اور امریکا کے لیے ہی کام کر رہے ہیں۔ ان کا حالیہ دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

امریکی وفد میں امریکی مشن کے سربراہ جنرل آسٹن، امریکی صدر کی نائب معاون لیزا کرٹس اور امریکی ناظم الامور بھی شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات کس قدر سنجیدگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ زلمے خلیل زاد اور ان کے وفد نے پاکستان میں جو ملاقاتیں کی ہیں اور ان ملاقاتوں کے حوالے سے جو اطلاعات منظرعام پر آئی ہیں، وہ خاصی امیدافزا ہیں۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان طالبان کو دعوت دے گا کہ وہ اسلام آباد آئیں تاکہ یہاں مذاکرات ہوں۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ افغان طالبان کے ڈیڑھ درجن سے زائد رہنما اسلام آباد آئیں گے اور مذاکرات میں قطر کے نمایندے کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ زلمے خلیل زاد کے حوالے سے بھی یہ بات میڈیا میں آئی ہے کہ انھوں نے پاکستانی حکام سے درخواست کی ہے کہ چونکہ افغان طالبان کابل انتظامیہ کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی جنگ بندی کے لیے تیار ہیں لہٰذا پاکستان اپنا کردار ادا کرے۔

افغانستان کی صورت حال کو دیکھا جائے تو یہی لگتا ہے کہ اب جو مذاکرات ہوں گے شاید وہ نتیجہ خیز ثابت ہو جائیں گے کیونکہ امریکا کے حکام بھی مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے سنجیدہ نظر آتے ہیں۔

ادھر طالبان میں بھی ماضی کے مقابلے میں خاصی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ طالبان اب مذاکرات میں شامل ہو رہے ہیں، پاکستان کے علاوہ چین اور قطر بھی اپنا رول ادا کرنے کے لیے خاصے متحرک ہیں۔

افغانستان میں قیام امن اس خطے کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس لیے افغانستان میں جن جن ممالک کے مفادات وابستہ ہیں انھیں اب اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہیے کیونکہ طویل عرصے کی جنگ کے بعد یہ حقیقت سامنے آ گئی ہے کہ کوئی ایک فریق جنگ نہیں جیت سکتا لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حقائق کو سامنے رکھ کر مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے، تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے مفادات کا کوئی مناسب ارینجمنٹ کریں تاکہ قیام امن کی کوئی صورت نکل سکے۔

طالبان کا وجود اب ثابت شدہ ہے۔ امریکا اور اس کی حامی قوتوں کو طالبان کو ان کی حیثیت کے مطابق اقتدار میں حصہ دار بنانا پڑے گا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ ماضی میں بھی مثبت رول ادا کرتا رہا ہے اور اب بھی اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے اشارے واضح ہو رہے ہیں۔

 
Load Next Story