بلدیہ عظمیٰ کے افسران کراچی کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں صورتحال نا قابل برداشت ہے محکمہ بلدیات
افسران ماسٹر پلان کےبرخلاف اورقواعد توڑتےہوئےاراضی کی حیثیت کےحوالےسےاجازت نامے جاری کرنے سے باز رہیں، خط میں ہدایت.
افسران ماسٹر پلان کے برخلاف اور قواعد توڑتے ہوئے اراضی کی حیثیت کے حوالے سے اجازت نامے جاری کرنے سے باز رہیں، بلدیہ عظمیٰ کو خط میں ہدایت. فوٹو: فائل
محکمہ بلدیات سندھ نے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں اراضی کی حیثیت میںتسلسل کے ساتھ تبدیلی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا حلیہ بگاڑ رہی ہے یہ صورتحال افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے۔
بلدیہ عظمیٰ ایسا کرنے سے باز رہے، باخبر ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کو محکمہ بلدیات کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ رہائشی اور تجارتی اراضی کے حوالے قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ماسٹر پلان میں تسلسل کے ساتھ خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور اس سلسلے میں مروجہ قوانین کو قطعی طور پر بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، اس صورتحال سے کراچی کا حلیہ بگڑ رہا ہے، بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ماسٹر پلان کے برخلاف اور قواعد توڑتے ہوئے اراضی کی حیثیت کے حوالے سے اجازت نامے جاری کرنے سے باز رہے اور قانون کے تحت جو بھی اجازت نامے جاری کیے جائیں۔
ان کی سندھ حکومت سے اجازت کو مشروط قرار دیدیا گیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ سندھ حکومت کی طرف سے جاری کردہ اس ہدایت نامے کے اگر بلدیہ عظمیٰ نے سنجیدگی سے نہیں لیا تو اس صورتحال میں بلدیہ عظمیٰ کے بعض اعلیٰ افسران کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، ذرائع نے بتایا کہ اس خط کے ملنے کے بعد بلدیہ عظمیٰ کے میونسپل کمشنر نے ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ سے اس کی طرف سے اراضی کی حیثیت کے حوالے سے جاری کردہ تمام اجازت ناموں کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
بلدیہ عظمیٰ ایسا کرنے سے باز رہے، باخبر ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کو محکمہ بلدیات کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ رہائشی اور تجارتی اراضی کے حوالے قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ماسٹر پلان میں تسلسل کے ساتھ خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور اس سلسلے میں مروجہ قوانین کو قطعی طور پر بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، اس صورتحال سے کراچی کا حلیہ بگڑ رہا ہے، بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ماسٹر پلان کے برخلاف اور قواعد توڑتے ہوئے اراضی کی حیثیت کے حوالے سے اجازت نامے جاری کرنے سے باز رہے اور قانون کے تحت جو بھی اجازت نامے جاری کیے جائیں۔
ان کی سندھ حکومت سے اجازت کو مشروط قرار دیدیا گیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ سندھ حکومت کی طرف سے جاری کردہ اس ہدایت نامے کے اگر بلدیہ عظمیٰ نے سنجیدگی سے نہیں لیا تو اس صورتحال میں بلدیہ عظمیٰ کے بعض اعلیٰ افسران کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، ذرائع نے بتایا کہ اس خط کے ملنے کے بعد بلدیہ عظمیٰ کے میونسپل کمشنر نے ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ سے اس کی طرف سے اراضی کی حیثیت کے حوالے سے جاری کردہ تمام اجازت ناموں کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔