سبزی منڈی لینڈ مافیا نے فراہمی آب کی لائن پر بھی قبضہ کر لیا
مافیاغیرقانونی طور پر پانی بیچنے لگی، حکومت نوٹس لے، تاجروں کو تجاوزات اور پانی چوری سے نجات دلائی جائے،زاہد اعوان.
مافیاغیرقانونی طور پر پانی بیچنے لگی، حکومت نوٹس لے، تاجروں کو تجاوزات اور پانی چوری سے نجات دلائی جائے،زاہد اعوان. فوٹو: راشد اجمیری/فائل
کراچی سبزی منڈی کی قبضہ مافیا نے منڈی کو پانی فراہم کرنے والی لائن پر قبضہ کرکے پانی کی غیرقانونی فروخت شروع کردی ہے۔
کراچی ہول سیل فریش فروٹ مرچنٹس اینڈ کمیشن ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر زاہد اعوان نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ کراچی سبزی منڈی میں قبضہ مافیا کی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے تاجروں کو تجاوزات اور پانی کی چوری کے مسئلے سے نجات دلائی جائے، زاہد اعوان کے مطابق منڈی میں قائم قانونی دکانوں اور گوداموں کو پانی سپلائی کرنے والی لائن پر قبضہ کرکے چھوٹی گاڑیوں اور ٹنکیوں سے پانی غیرقانونی طور پر فروخت کیا جارہا ہے اور منڈی کی حدود میں قائم گودام، پیک ہائوس اور دکانیں پانی سے محروم ہیں جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں، انھوں نے کہا کہ کراچی سبزی منڈی میں قبضہ مافیا کے حوصلے روز بہ روز بلند ہورہے ہیں۔
منڈی کی حدود میں جگہ جگہ تجاوزات قائم ہیں اور اب پانی کی چوری عروج پر پہنچ گئی ہے، ایسوسی ایشن اور منڈی کے حقیقی تاجروں کی کوششوں سے منڈی کی حدود میں کنڈا سسٹم کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے جو قبضہ مافیا کی وجہ سے چل رہے تھے، انھوں نے کہا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ساتھ بجلی کی فراہمی کا ایگریمنٹ طے پا گیا ہے، اس سے قبل کئی سال سے کراچی سبزی منڈی مکمل طور پر کنڈے پر چل رہی تھی۔
کے ای ایس سی کو سالانہ لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا تھا تاہم اب کے ای ایس سی سی نے بجلی کے واجبات کی وصولی کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو دے دیا ہے جس نے کے ای ایس سی کے پاس 30لاکھ روپے ایڈوانس رکھوائے ہیں، اب یہ کمپنی منڈی کی حدود میں کنڈے ہٹا کر سب میٹر نصب کرے گی اور میٹر میں آنے والی ریڈنگ کے لحاظ سے دکانوں کو ماہانہ بل جاری کیے جائیں گے جو کے ای ایس سی کے اکائونٹ میں جمع ہوں گے۔
کراچی ہول سیل فریش فروٹ مرچنٹس اینڈ کمیشن ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر زاہد اعوان نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ کراچی سبزی منڈی میں قبضہ مافیا کی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے تاجروں کو تجاوزات اور پانی کی چوری کے مسئلے سے نجات دلائی جائے، زاہد اعوان کے مطابق منڈی میں قائم قانونی دکانوں اور گوداموں کو پانی سپلائی کرنے والی لائن پر قبضہ کرکے چھوٹی گاڑیوں اور ٹنکیوں سے پانی غیرقانونی طور پر فروخت کیا جارہا ہے اور منڈی کی حدود میں قائم گودام، پیک ہائوس اور دکانیں پانی سے محروم ہیں جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں، انھوں نے کہا کہ کراچی سبزی منڈی میں قبضہ مافیا کے حوصلے روز بہ روز بلند ہورہے ہیں۔
منڈی کی حدود میں جگہ جگہ تجاوزات قائم ہیں اور اب پانی کی چوری عروج پر پہنچ گئی ہے، ایسوسی ایشن اور منڈی کے حقیقی تاجروں کی کوششوں سے منڈی کی حدود میں کنڈا سسٹم کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے جو قبضہ مافیا کی وجہ سے چل رہے تھے، انھوں نے کہا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ساتھ بجلی کی فراہمی کا ایگریمنٹ طے پا گیا ہے، اس سے قبل کئی سال سے کراچی سبزی منڈی مکمل طور پر کنڈے پر چل رہی تھی۔
کے ای ایس سی کو سالانہ لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا تھا تاہم اب کے ای ایس سی سی نے بجلی کے واجبات کی وصولی کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو دے دیا ہے جس نے کے ای ایس سی کے پاس 30لاکھ روپے ایڈوانس رکھوائے ہیں، اب یہ کمپنی منڈی کی حدود میں کنڈے ہٹا کر سب میٹر نصب کرے گی اور میٹر میں آنے والی ریڈنگ کے لحاظ سے دکانوں کو ماہانہ بل جاری کیے جائیں گے جو کے ای ایس سی کے اکائونٹ میں جمع ہوں گے۔