سابق کپتانوں نے معین کے تقرر کو شرف قبولیت بخش دی
کپتان اور کوچ کی آرا کو بھی اہمیت دینا ہوگی (ظہیر) فری ہینڈ دینا چاہیے، راشد
کپتان اور کوچ کی آرا کو بھی اہمیت دینا ہوگی (ظہیر) فری ہینڈ دینا چاہیے، راشد فوٹو: فائل
پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتانوں نے معین خان کی بطور چیف سلیکٹر تقرری کو شرف قبولیت بخش دی ہے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ نئے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کریں گے، ایشین بریڈ مین کے نام سے معروف ظہیر عباس نے کہا کہ پی سی بی کی جانب سے معین خان کو سلیکشن کمیٹی کا سربراہ مقررکرنا باعث مسرت ہے، اقبال قاسم نے بھی قابل قدر خدمات انجام دیں، انھوں نے کہا کہ میں معین خان کو ذاتی طور پر اچھی طرح جانتا ہوں، وہ اچھے کرکٹر ہونے کے ساتھ عمدہ منظم بھی ہیں، مجھے قوی امید ہے کہ وہ نئے کرکٹرز کو صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے لیے بھر پور مواقع فراہم کریں گے، کسی کھلاڑی کو ایک میچ میں خراب کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم سے باہر نکالنے کی روایت کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی، اسے موقع دیا جائے تاکہ اہلیت کو ثابت کر سکے۔
ایک سوال پر ظہیرعباس نے کہا کہ نئے چیف سلیکٹر کو تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، کپتان سے مناسب مشاورت بھی ضروری ہے، معین خان کو قومی ٹیم کے غیرملکی کوچ واٹمور کی آراکو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، ورنہ الگ الگ راستوں پر چلنے سے مشکلات پیدا ہوں گی اور قومی کرکٹ کو نقصان پہنچے گا، البتہ اس امر کا امکان ہے کہ معین خان سب کو ساتھ رکھ کر اپنے فرائض انجام دیں گے۔
پاکستان کے ایک اور سابق قومی کپتان راشد لطیف نے کہا کہ معین خان کو چیف سلیکٹر بنانا قومی کرکٹ کے لیے اچھی خبر ہے، وہ کھیل کی بہتر سوجھ بوجھ رکھتے ہیں، امید ہے کہ ورلڈ کپ 2015 کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے کھلاڑی سامنے لائیں گے جو قومی ٹیم کا اثاثہ ثابت ہوں گے، انھوں نے کہا کہ نیا ٹیلنٹ سامنے لانے کے لیے معین خان کو مناسب اقدامات کرنا ہوں گے،بہتر ہو گا کہ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے انھیں فری ہینڈ دیا جائے، راشدلطیف نے کہا کہ کسی بی ایونٹ کے موقع پر قومی سلیکشن کمیٹی کے دیگر ارکان سلیم جعفر، فرخ زمان، اظہر خان اور آصف بلوچ کو بھی اپنی ٹیم منتخب کرنی چاہیے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ نئے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کریں گے، ایشین بریڈ مین کے نام سے معروف ظہیر عباس نے کہا کہ پی سی بی کی جانب سے معین خان کو سلیکشن کمیٹی کا سربراہ مقررکرنا باعث مسرت ہے، اقبال قاسم نے بھی قابل قدر خدمات انجام دیں، انھوں نے کہا کہ میں معین خان کو ذاتی طور پر اچھی طرح جانتا ہوں، وہ اچھے کرکٹر ہونے کے ساتھ عمدہ منظم بھی ہیں، مجھے قوی امید ہے کہ وہ نئے کرکٹرز کو صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے لیے بھر پور مواقع فراہم کریں گے، کسی کھلاڑی کو ایک میچ میں خراب کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم سے باہر نکالنے کی روایت کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی، اسے موقع دیا جائے تاکہ اہلیت کو ثابت کر سکے۔
ایک سوال پر ظہیرعباس نے کہا کہ نئے چیف سلیکٹر کو تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، کپتان سے مناسب مشاورت بھی ضروری ہے، معین خان کو قومی ٹیم کے غیرملکی کوچ واٹمور کی آراکو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، ورنہ الگ الگ راستوں پر چلنے سے مشکلات پیدا ہوں گی اور قومی کرکٹ کو نقصان پہنچے گا، البتہ اس امر کا امکان ہے کہ معین خان سب کو ساتھ رکھ کر اپنے فرائض انجام دیں گے۔
پاکستان کے ایک اور سابق قومی کپتان راشد لطیف نے کہا کہ معین خان کو چیف سلیکٹر بنانا قومی کرکٹ کے لیے اچھی خبر ہے، وہ کھیل کی بہتر سوجھ بوجھ رکھتے ہیں، امید ہے کہ ورلڈ کپ 2015 کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے کھلاڑی سامنے لائیں گے جو قومی ٹیم کا اثاثہ ثابت ہوں گے، انھوں نے کہا کہ نیا ٹیلنٹ سامنے لانے کے لیے معین خان کو مناسب اقدامات کرنا ہوں گے،بہتر ہو گا کہ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے انھیں فری ہینڈ دیا جائے، راشدلطیف نے کہا کہ کسی بی ایونٹ کے موقع پر قومی سلیکشن کمیٹی کے دیگر ارکان سلیم جعفر، فرخ زمان، اظہر خان اور آصف بلوچ کو بھی اپنی ٹیم منتخب کرنی چاہیے۔