پاکستان ممبئی حملوں کے معاملہ کو عالمی سطح پر اٹھائے حافظ سعید
بھارت کو دہشتگرد ملک ثابت کرنے کیلیے ہمارے پاس کافی مواد ہے،زید حامد، کل تک میں گفتگو.
بھارت کو دہشتگرد ملک ثابت کرنے کیلیے ہمارے پاس کافی مواد ہے،زید حامد، کل تک میں گفتگو۔ فوٹو: فائل
جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کی جارحانہ پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔
اس نے پراپیگنڈہ کو اپنی سیاست بنایا ہوا ہے اور ہر واقعہ کا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے، اسکے برعکس پاکستان نے دبائو کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''کل تک'' کے میزبان اسد اللہ خان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت خود مجرم ہے، مکی مسجد کا واقعہ ہو یا سمجھوتہ ایکسپریس کا معاملہ جس میں بھارت کا ایک باوردی افسر ملوث تھا، بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہو یا ممبئی پر حملے سب کا الزام پاکستان پر لگایا گیا جبکہ ہماری میڈیا اور سیاست میں ایسے لوگ ہیں جو بھارت کو خوش کرنے کیلئے بغیر تحقیق کے الزام اپنے سر لے لیتے ہیں، انہیں چاہئے کہ پاکستان کی وفاداری کو بنیاد بنائیں۔
اعلیٰ عدلیہ نے ہمیں ممبئی حملوں کے الزام سے بری کیا اور کہا کہ بھارت خود مجرم ہے، اب حکومت کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھائے، بھارت نے پاکستان کے کمیشن کو اجمل قصاب اور تفتیش کاروں سے ملاقات نہیں کرنے دی، اجمل کو پھانسی دینے کے بعد کہا کہ کمیشن بھیج دو۔ پچھلی اسمبلی کے بند کمرے کے اجلاس میں ثابت کیا گیا کہ بلوچستان کے دہشتگردی واقعات میں بھارت ملوث ہے، وزارت خارجہ اور دفاع کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری محسوس کرے۔
مشرف نے بھارت کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش میں کشمیریوں کا اعتماد بھی کھو دیا، بھارت ہمارے دریائوں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو بنجر کر رہا ہے، اب وقت آگیا کہ اس سے کھل کر بات کی جائے، بھارت کیساتھ دوستی سے پہلے یہ معاملات واضح ہونے چاہئیں۔ دفاعی تجزیہ نگار زید حامد نے کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ حملہ، ممبئی حملے، عشرت جہاں کیس، چھتیس گڑھ واقعات پر جائزہ کمیشن بنانا چاہئے، ہمارے پاس اتنا مواد ہے جس سے ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ بھارت ایک دہشگرد ملک ہے، ایبٹ واقعہ ہماری ناکامی ہے، ڈی جی آئی ایس آئی کے بیان کو بنیاد بنا کر قومی سکیورٹی پالیسی بنائی جائے، دہشگردی کے معاملے پر حکومتی اے پی سی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
دفاعی تجزیہ کار شاہد لطیف نے کہا کہ بھارت دہشگردی کو خود سپانسر کرتا ہے اور الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے، ایل اوسی پر بھارتی فوجی مارا گیا تو بھارت نے پوری دنیا میں واویلا کیا مگر یہ ثبوت نہیں دیا کہ اسے پاکستان نے مارا ہے، اسکا میڈیا اپنی حکومت کا پورا ساتھ دیتا ہے، اسکے برعکس ہمارا میڈیا نہ حکومت کا دفاع کرتا ہے اور نہ ہی معاملے پر فوکس کرتا ہے، میڈیا کمیشن نے خود کہا کہ ہمیں بدنام کرنے کیلئے میڈیا میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے، ہمیں میڈیا کمیشن اور ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر نیشنل سکیورٹی پالیسی بنانی چاہئے۔
اس نے پراپیگنڈہ کو اپنی سیاست بنایا ہوا ہے اور ہر واقعہ کا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے، اسکے برعکس پاکستان نے دبائو کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''کل تک'' کے میزبان اسد اللہ خان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت خود مجرم ہے، مکی مسجد کا واقعہ ہو یا سمجھوتہ ایکسپریس کا معاملہ جس میں بھارت کا ایک باوردی افسر ملوث تھا، بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہو یا ممبئی پر حملے سب کا الزام پاکستان پر لگایا گیا جبکہ ہماری میڈیا اور سیاست میں ایسے لوگ ہیں جو بھارت کو خوش کرنے کیلئے بغیر تحقیق کے الزام اپنے سر لے لیتے ہیں، انہیں چاہئے کہ پاکستان کی وفاداری کو بنیاد بنائیں۔
اعلیٰ عدلیہ نے ہمیں ممبئی حملوں کے الزام سے بری کیا اور کہا کہ بھارت خود مجرم ہے، اب حکومت کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھائے، بھارت نے پاکستان کے کمیشن کو اجمل قصاب اور تفتیش کاروں سے ملاقات نہیں کرنے دی، اجمل کو پھانسی دینے کے بعد کہا کہ کمیشن بھیج دو۔ پچھلی اسمبلی کے بند کمرے کے اجلاس میں ثابت کیا گیا کہ بلوچستان کے دہشتگردی واقعات میں بھارت ملوث ہے، وزارت خارجہ اور دفاع کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری محسوس کرے۔
مشرف نے بھارت کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش میں کشمیریوں کا اعتماد بھی کھو دیا، بھارت ہمارے دریائوں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو بنجر کر رہا ہے، اب وقت آگیا کہ اس سے کھل کر بات کی جائے، بھارت کیساتھ دوستی سے پہلے یہ معاملات واضح ہونے چاہئیں۔ دفاعی تجزیہ نگار زید حامد نے کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ حملہ، ممبئی حملے، عشرت جہاں کیس، چھتیس گڑھ واقعات پر جائزہ کمیشن بنانا چاہئے، ہمارے پاس اتنا مواد ہے جس سے ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ بھارت ایک دہشگرد ملک ہے، ایبٹ واقعہ ہماری ناکامی ہے، ڈی جی آئی ایس آئی کے بیان کو بنیاد بنا کر قومی سکیورٹی پالیسی بنائی جائے، دہشگردی کے معاملے پر حکومتی اے پی سی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
دفاعی تجزیہ کار شاہد لطیف نے کہا کہ بھارت دہشگردی کو خود سپانسر کرتا ہے اور الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے، ایل اوسی پر بھارتی فوجی مارا گیا تو بھارت نے پوری دنیا میں واویلا کیا مگر یہ ثبوت نہیں دیا کہ اسے پاکستان نے مارا ہے، اسکا میڈیا اپنی حکومت کا پورا ساتھ دیتا ہے، اسکے برعکس ہمارا میڈیا نہ حکومت کا دفاع کرتا ہے اور نہ ہی معاملے پر فوکس کرتا ہے، میڈیا کمیشن نے خود کہا کہ ہمیں بدنام کرنے کیلئے میڈیا میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے، ہمیں میڈیا کمیشن اور ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر نیشنل سکیورٹی پالیسی بنانی چاہئے۔