دنیا کے دانشوروں کی ذمے داری

ظہیر اختر بیدری  منگل 22 جنوری 2019
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

دنیا میں سیکڑوں دانشور ہیں ، مفکر ہیں ، فلسفی ہیں ، ادیب ہیں، کیا ان کا کام بازار کے بھاؤ طے کرنا ہے؟ کیا ان کا کام سبزی، آلو، پیاز کی قیمتوں پر غور و فکر کرنا ہے؟ کیا ان کا کام ڈالر کے دام میں اضافے کی وجہ تلاش کرنا ہے۔ دنیا میں اربوں انسان بستے ہیں ، جن میں 90 فیصد سے زیادہ دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں،کپڑا انھیں نصیب نہیں ، لنڈا سے ساری زندگی کام چلاتے ہیں ایک طرف وہ نوے فیصد انسان ہیں جو دن رات محنت کرکے اشیائے صرف پیدا کرتے ہیں ضروریات زندگی کی ہر چیز انھی کھردرے ہاتھوں سے تیار ہوتی ہے اور دوسری طرف 2فیصد وہ ہیں جو 90 فیصد غریب انسانوں کی محنت سے تشکیل پانے والی اربوں کھربوں کی دولت پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔

نوے فیصد انسان اس قہارانہ ظلم کو دیکھ رہے ہیں اور محسوس بھی کر رہے ہیں۔ آپ اخباروں میں اس قسم کی خبریں پڑھتے ہیں کہ گلی محلے کے عوام نے ایک ڈاکو کو پکڑ لیا اور مار مار کر اسے ادھ موا کردیا۔ کیا یہ ڈاکو اربوں کھربوں کی عوامی دولت کو لوٹ رہا تھا؟ نہیں یہ ڈاکو انھی غریب عوام میں سے ایک ہے جو بھوک سے تنگ آکر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے ڈاکہ ڈال رہا تھا۔ اس ڈاکو کو تو عوام نے سزا دے دی لیکن اربوں روپوں پر ڈاکہ ڈالنے والے ڈاکوؤں کو وہ سزا نہیں دیتے کیونکہ اس دولت کی حفاظت یہ نظام کرتا ہے جسے ہم سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہیں۔

اس نظام نے طبقاتی ڈاکوؤں کی حفاظت کے لیے قانون انصاف کا ایسا نظام تشکیل دیا ہے، جو اس دولت کی طرف محروم اور مجبور طبقات کو نظر ڈالنے کی بھی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اس کا شمار نجی ملکیت میں ہوتا ہے ، نجی ملکیت کے تحفظ کی ذمے داری قانون اور انصاف کی ہوتی ہے۔ یہ اربوں کی دولت جائز ہے یا ناجائز، قانونی ہے یا غیر قانونی اس کی چھان پھٹک کے لیے بھی سرمایہ دارانہ نظام نے اہلکار رکھے ہیں، محکمے رکھے ہیں ، لیکن یہ محکمے یہ اہلکار سو روپے کی چوری ہزاروں روپے کی رشوت کے مجرم کو تو پکڑ لیتے ہیں لیکن ناجائز دولت رکھنے والوں کی طرف نظر ڈالنے کی زحمت نہیں کرتے۔

اس حوالے سے پچھلے دنوں سے قانون کی عملداری کے بڑے دلچسپ نظارے دیکھے جا رہے ہیں، ملک بھرمیں غریب طبقات کے لاکھوں مکانات مسمار کردیے گئے۔ بلاشبہ غیر قانونی تعمیرات شہروں کی خوبصورتی کو متاثرکرتی ہیں لیکن کیا یہ ناانصافی نہیں کہ پہلے غیر قانونی تعمیرات غیر قانونی طریقوں سے کرنے دی جائیں اور پھر اسے قانونی طریقوں سے مسمار کردیا جائے؟ اس قسم کے کارنامے اس نظام میں قدم قدم پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ ڈکیتی چوری بلاشبہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہیں اور اس کے خلاف قانونی کارروائی بہت ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ کیا یہ نہیں دیکھا جاتا ہے کہ چوری کی جانے والی ڈاکہ ڈالی جانے والی رقم کیا قانونی ہے؟ کیا یہ رقم حلال طریقے سے کمائی گئی ہے؟ اس قسم کے تضادات اس قسم کی ناانصافیاں ہمارے نظام میں قدم قدم پر پائی جاتی ہیں۔ کیا یہ ناانصافیاں اس نظام کے رہتے ہوئے ختم ہوسکتی ہیں؟

ہم نے کالم کا آغاز دانشوروں، مفکروں اور فلسفیوں کی ذمے داریوں کے حوالے سے کیا تھا اور انھی ناانصافیوں کے حوالے دیے گئے جن پر غور کرنے کی ذمے داری  ان کی ہوتی ہے۔ مشکل اور بدقسمتی یہ ہے کہ جو دانشور جو مفکر دنیا میں ہونے والی ان ناانصافیوں اور مظالم کے خلاف سوچتے ہیں اور اس نامنصفانہ نظام کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اس بدنصیب دنیا میں گناہ کی زندگی گزار رہے ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام کے دلالوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ وہ ظلم ہے جو ظلم اور ناانصافیوں کو ختم کرنے کی راہ میں آہنی دیوار بنا کھڑا ہے۔

اس ظالمانہ نظام کا خودکار میکنزم ایسا ہے کہ حق اور ناحق کے حوالے سے ایک تعلیم یافتہ شخص کو دوسرے تعلیم یافتہ شخص کے خلاف کھڑا کردیتا ہے۔ ایک وکیل کو دوسرے وکیل، ایک ادیب کو دوسرے ادیب، ایک شاعر کو دوسرے شاعر، ایک صحافی کو دوسرے صحافی، ایک دانشور کو دوسرے عالم کے خلاف کھڑا کردیتا ہے اور ان کی تمام کوششیں ضایع چلی جاتی ہیں جو حق کو ناحق پر، جو سچ کو جھوٹ پر، جو انصاف کو ناانصافی پر بالادست بنانے کے حوالے سے کی جا رہی ہیں۔ انسان کا ضمیر اس نظام میں مر جاتا ہے اور وہ ضمیر کے بجائے ضرورت کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ اس نظام کا وہ عطیہ ہے جس نے خرد کو جنوں کردیا ہے جنوں کو خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

اس نظام زر نے ایسے لوگوں کو بااختیار بنادیا ہے جو نچلی سطح سے بھی نچلی سطح سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس اختیار نے معاشرے میں فکری ترقی کے پر کاٹ دیے ہیں۔ اگر مسئلہ فرد یا افراد کا ہوتا تو اس کی اتنی اہمیت نہ ہوتی یہاں مسئلہ عوام کا ہے جنھیں اس سسٹم نے بھکاری بناکر رکھ دیا ہے۔ جو لوگ اپنی خوش حالی چاہتے ہیں وہ اس نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں نہ اس میں مثبت تبدیلی چاہتے ہیں۔ دنیا میں دانشوروں ، ادیبوں ، شاعروں کی بے شمار تنظیمیں ہیں۔

کیا یہ غیر منصفانہ طبقاتی نظام کو بدلنے کی ذرہ برابرکوشش کر رہے ہیں؟ یہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا کردار ادا کر رہی ہیں، جینوئن اور مخلص نظریاتی آدمی ہزار دو ہزار روپے معاوضہ ملنے پر اپنی نظریاتی ذمے داریاں پوری کرنے سے اس لیے اجتناب نہیں کرتا کہ صرف معاوضہ اس کا مقصد نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصد اس نظام کو بدلنا ہوتا ہے جو ایک لاکھ معاوضے کے حقدار کو ایک ہزار پر ٹرخا کر قابل احترام شخص کو رسوا کرکے اپنی اصلیت دکھاتا ہے۔ کیا دنیا میں ایسے اہل علم اہل دانش اہل فکر موجود ہیں جو اس نظام کی تمام ترغیبات کو لات مارکر اس نظام زر سے بلند اپنی اولین ترجیح بنائے ہوئے ہیں؟



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔