اے بی سی سے اے پی سی تک

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں قدم قدم پر اے پی سی کھڑی نظر آتی ہے

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

سرکاری اسکولوں میں بچوں کو جو انگریزی پڑھائی جاتی ہے وہ عموماً اے بی سی سے شروع ہوتی ہے اور اے بی سی پر ختم ہوجاتی ہے اس لیے کہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی قابلیت اے بی سی تک ہی ہوتی ہے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچے ان اسکولوں میں اپنا وقت کھیل کود اور لڑنے جھگڑنے میں گزارتے ہیں جب یہ طلباء فارغ التحصیل ہوتے ہیں تو یا تو کسی مکینک کے پاس ''چھوٹے'' بن جاتے ہیں یا کسی قالین کے کارخانے میں کارپٹ بناتے نظر آتے ہیں اگر کوئی بچہ ذہین ہو تو وہ موبائل چھیننے کے پیشے میں چلا جاتا ہے زیادہ دلیر ہوا تو چوری ڈاکے کے دھندے میں لگ جاتا ہے۔

ہمارے سیاسی اسکولوں کے طلباء جب فارغ التحصیل ہوجاتے ہیں تو جعلی ڈگریاں لے کر ایم این اے یا ایم پی اے بن جاتے ہیں اور اپنا زیادہ وقت لگاتے ہوئے سرمائے کی سود سمیت واپسی پر لگاتے ہیں یا پھر اے پی سی بلانے اور منانے میں گزارتے ہیں یہ ذہین لوگ عموماً سیاست کی اے بی سی سے نابلد ہوتے ہیں، لیکن چونکہ سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا سیاست کے پیشے ہی کو اپناتے ہیں کیونکہ اس پیشے میں نام بھی ہے ناواں بھی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں قدم قدم پر اے پی سی کھڑی نظر آتی ہے کراچی میں تو اے پی سی ویک اینڈ کے طور پر منائی جاتی ہے کیونکہ ان اے پی سیوں کے موضوع بہت ہلکے پھلکے رہے ہیں لہٰذا ان میں شرکت بڑے ذوق و شوق سے کی جاتی ہے بلکہ مدعوین ان اے پی سیوں کی رونق بڑھانے کے لیے اپنے ساتھ دوست احباب کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں کہ گپ شپ میں اچھا وقت گزر جاتا ہے اور تجدید سیاست ہوجاتی ہے لیکن آج کل مسلم لیگ (ن) یا حکومت کی طرف سے جو اے پی سی بلانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ اب تک اس لیے ناکام ہورہی ہے کہ اس اے پی سی کا موضوع بڑا ''دھماکہ خیز'' بلکہ جان لیوا ہے۔ اس اے پی سی کے سر پر خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگ، بارودی گاڑیاں، سیمنٹ کے بلاکوں کے بم اور بارودی جیکٹیں لٹک رہی ہیں۔

اس ممکنہ اے پی سی نے اہل سیاست کو اس قدر خوفزدہ بلکہ دہشت زدہ کردیا ہے کہ میزبان اور مہمان دونوں ہی اس سے اس لیے نظریں چرا رہے ہیں کہ اس پر دہشت گردوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں وہ غور سے اس اے پی سی کے شرکاء کے کردار کو دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے کپتان صاحب کی مصلحت پسندی کا عالم یہ ہے کہ وہ اس ممکنہ اے پی سی کے لیے اپنے نمایندے نامزد کرکے لندن میں شہزادہ چارلس اور لندن کی چاق و چوبند شہزادیوں کے ساتھ پارٹیاں انجوائے کر رہے ہیں لندن اور واشنگٹن کی پارٹیاں اب تک بارود اور خودکش جیکٹوں سے محفوظ ہیں لیکن اگر سیاستدان اس موضوع پر بلائی گئی اے پی سیوں سے بھاگتے رہے تو بارود کی بو لندن اور پیرس کی پارٹیوں تک بھی پہنچ جائے گی۔

ہمارا ملک لگ بھگ دس سال سے خودکش حملوں، ٹارگٹ کلنگ، بارودی گاڑیوں، ٹائم بموں اور تڑتڑاتی گولیوں کی زد میں ہے اور خیبر سے گلگت تک، کوئٹہ سے کراچی تک زمین خون غریباں سے سرخ ہورہی ہے اور اب تک ایک اندازے کے مطابق 70 ہزار کے قریب لوگ اپنی جانوں سے جاچکے ہیں اس خوفناک سیاسی مسئلے پر موٹی موٹی سریا لگی گردنوں والوں نے سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت اس لیے محسوس نہیں کی کہ انھیں اپنی اور اپنی آنے والی دس بارہ نسلوں کی زندگیوں کو جنت بنانے کے مقدس کام سے فرصت ہی نہیں ملتی تھی اب چونکہ ایک طرف دہشت گردی کی یہ آگ خود ان کے دامن تک پہنچ رہی ہے اور مشتعل عوام کے ہاتھ ان کے گریبانوں کی طرف بڑھ رہے ہیں تو انھیں اس مسئلے پر مجبوراً سنجیدہ ہونا پڑ رہا ہے۔


ہوسکتا ہے ہمارا یہ کالم چھپنے تک اے پی سی یا اس کی تاریخ طے ہوجائے لیکن اس اے پی سی کو اب گپ شپ کی روایتی اے پی سی نہیں بنایا جاسکتا۔ بعض دانابینا لوگوں کی طرف سے اصرار کیا جارہا ہے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کیے جائیں کیونکہ دنیا کی ہر جنگ کا حل مذاکرات کی میز ہی پر تلاش کیا جاتا رہا ہے لیکن مذاکرات کے حامی ان بزرگوں کی نظر ان جنگوں پر غالباً نہیں گئی جو ملکوں پر قبضہ کرنے کے لیے لڑی گئیں اور قبضے کے بعد مقبوضہ ملکوں کے حکمرانوں کی قسمت کے فیصلوں تک میں باہمی مذاکرات کا کوئی راستہ اختیار نہیں کیا گیا بلکہ قابض بادشاہوں نے مقبوضہ ملکوں کے عوام کا قتل عام کا حکم دیا اور یہ قتل عام بے گناہوں کے سروں کے مینار بناکر ریکارڈ قائم کرتا رہا۔

دہشت گردوں کا ایجنڈا ڈھکا چھپا نہیں ہے وہ ڈنکے کی چوٹ پر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس ملک کو ہمارے حوالے کردو، یہاں ہم اپنی مرضی کا نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں، اس ''عظیم مقصد'' کے حصول کے لیے انھوں نے عمومی قتل عام کے علاوہ خصوصی کام یہ کیا کہ حکومت کے اہم ترین فوجی اداروں مہران بیس، کامرہ بیس، جی ایچ کیو اور پشاور ایئرپورٹ پر قاتلانہ حملے کیے پختونخوا کے سینئر سیاستدانوں، کراچی کے ایم پی ایز اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا، کوئٹہ کی عملدار اور کیرانی روڈ کو سیکڑوں جنازوں سے سجایا، کوئٹہ کے ویمن کالج کی لڑکیوں کو زندہ جلادیا، کراچی کے عباس ٹاؤن کو شعلوں کی نذر کردیا، عوام کی محافظہ پولیس، رینجرز، ایف سی اور فوج کی چوکیوں اور قافلوں پر حملے کرکے سیکڑوں پولیس، رینجرز، ایف سی اور فوج کے جوانوں کو ہلاک کیا اور مسجدوں، نمازیوں، جنازے کی نمازوں کے شرکاء پر خودکش حملے کرکے مسجدوں کو تباہ کیا، نمازیوں کے پرخچے اڑائے، جنازوں کی نماز کے شرکاء کو خون میں نہلایا۔ لیکن ان سے مذاکرات ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔

اس موقع پر ہمیں ایک کہانی یاد آرہی ہے کسی جنگل میں جنگل کا ایک بادشاہ اپنی رعایا (جنگلی جانوروں) کا بے دریغ خون بہا رہا تھا اس قتل عام سے جنگل کے جانور بہت خوفزدہ تھے بی لومڑی نے تجویز پیش کی کہ جنگل کے بادشاہ سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ اہل جنگل نے کہا کہ جو جانور مذاکرات کے لیے جائیں گے ان کے زندہ واپس آنے کی کوئی امید ہوسکتی ہے؟ بی لومڑی نے کہا کہ یہ ذمے داری میں لیتی ہوں۔ یوں جانوروں کا ایک وفد ڈرتے ڈرتے جنگل کے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

بی لومڑی اس وفد کی قیادت کر رہی تھیں جن کی مکاری ساری دنیا میں مشہور ہے انھوں نے شیر سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی کہ حضور! ہم اپنی خوشی سے ہر روز ایک تگڑا جانور آپ کی خدمت میں پیش کردیں گے تاکہ آپ کو اپنی کچھار سے نکلنے کی زحمت نہ ہو اور آپ کے ناشتے، لنچ اور ڈنر کا انتظام بھی ہوجائے۔ ان مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلا یہ ہم ہماری اے پی سی کے بعد بتائیں گے۔ ہمیں محسوس ہورہا ہے کہ مذاکرات کے حامی اے پی سی کو ایسی بھول بھلیوں میں دھکیل دیں گے کہ اس کا فائدہ صرف دہشت گردوں کو ہوگا۔

ہمارے وزیر داخلہ نے اے پی سی کے لیے 12 جولائی کی تاریخ دی تھی لیکن اس حوالے سے جب کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو اے پی سی کسی نئی تاریخ کے بغیر اندھیروں کی نذر ہوگئی اب ہمارے محترم وزیر اعظم کے اس ارشاد کے بعد کہ ''وزارت داخلہ چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنائے'' اے پی سی کی بھینس پانی میں جاتی نظر آرہی ہے۔ ہمارے سیاسی اور غیر سیاسی حلقے بعد از خرابی بسیار دو مسئلوں پر متفق ہورہے تھے ایک دہشت گردی کا خاتمہ دوسرے اس مقصد کے حصول کے لیے اے پی سی بلوانا۔ جس سے اندازہ ہورہا تھا کہ اب دہشت گردی کا پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے۔ ویسے ہماری روایات کے مطابق اے پی سی کو بامعنی تو نہیں ہونا تھا لیکن اے پی سے بلانے سے اس کے شرکاء کی آراء سے قوم و ملک اور عوام کے مستقبل سے دلچسپی کا اندازہ ضرور ہوجانا تھا۔

دہشت گردی کی حقیقت اور اس کے مقاصد کو سمجھنے والوں کا یہ خدشہ غلط نہیں کہ اگر اب بھی اس بلا کو نہ روکا گیا تو ہمارے حکمرانوں اور سیاست کاروں کے پاس پچھتانے کا وقت بھی نہیں رہے گا۔ اس انتہائی سنگین مسئلے کو وزارت داخلہ اور چاروں صوبوں پر چھوڑنا خوش فہمی کے علاوہ کچھ نہیں، اس مسئلے کے حل کے لیے چاروں صوبوں کے اہل علم، اہل فکر اور وکلاء، ڈاکٹروں وغیرہ کے نمایندوں سے مشاورت فوجی قیادت اور ایجنسیوں کی خفیہ معلومات کی روشنی میں جب تک ایک ٹھوس اور قابل عمل قومی پالیسی نہیں بنائی جائے گی ، قوم و ملک کے سر پر دہشت گردی کی تلوار لٹکتی رہے گی اور موقع ملتے ہی ہماری تہذیب کا گلہ کاٹ دیا جائے گا۔
Load Next Story