ملک دشمن نعرے لگانے پر5 ہزار افراد کیخلاف مقدمہ درج

جسمم چیئرمین سمیت13قوم پرست رہنما بھی نامزد، کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا

ہٹڑی پولیس نے جسمم کے مرکزی رہنمائوں سمیت پانچ نامزد اور 50 سے زائد نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ فوٹو: فائل

حیدرآباد پولیس نے قوم پرست تنظیم جیے سندھ متحدہ محاذ کے چیئرمین شفیع برفت سمیت 13 نامزد اور 5 ہزار سے زائد نامعلوم افراد پر پاکستان کے خلاف تقاریر کرنے، نعرے لگانے اور ہنگامہ آرائی کرنے کے الزامات کے تحت دو علیحدہ علیحدہ مقدمات درج کر لیے جبکہ5 کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جیے سندھ متحدہ محاذ کے دو کارکن بھائیوں ظفر اور محمد علی نوناری کی گرفتاری کے خلاف گزشتہ روز جسمم کے کارکنوں اور گرفتار شدگان کے اہل خانہ نے حیدرآباد کے ہٹڑی بائی پاس پر دھرنا دیا تھا، اس دوران مظاہرین نے قومی شاہراہ کو بلاک کردیا، ٹریلر نذر آتش کیا تھا، جب کہ مظاہرے میں فائرنگ سے بچے سمیت 4 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ہٹڑی پولیس نے احتجاج میں پاکستان کے خلاف نعرے لگانے، ہنگامہ آرائی کرنے سمیت دیگر الزامات کے تحت جسمم کے مرکزی رہنمائوں مرتضیٰ چانڈیو، عاجز سمیت پانچ نامزد اور 50 سے زائد نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔




اس کے علاوہ جی او آر پولیس نے 6 جولائی کو جیے سندھ متحدہ محاذ کے ٹھنڈی سڑک پر ہونے والے جلسہ میں پاکستان کے خلاف تقاریر کرنے کے الزام میں جسمم کے چیئرمین شفیع برفت، مرکزی رہنما لالہ اسلم پٹھان اور 8 نامزد افراد سمیت5 ہزار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ دوسری طرف سی آئی اے نے گرفتار چار کارکنان مزمل پنھور، راحیل نوناری، لیاقت نوناری، لیاقت سولنگی اور لطیف سولنگی کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے ملزمان کو 21 جولائی تک تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کردیا ہے۔
Load Next Story