رحیم بخش جمالی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے

نماز جنازہ میں سیکڑوں افراد کی شرکت، ظفر اللہ جمالی ، یار محمد رند و دیگر کی تعزیت

نماز جنازہ میں سیکڑوں افراد کی شرکت، ظفر اللہ جمالی ، یار محمد رند و دیگر کی تعزیت، فوٹو : فائل

رمضان المبارک کے دوران اعتکاف میں بیٹھے فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے سابق رکن سندھ اسمبلی رحیم بخش جمالی کراچی کے اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے ، تفصیلات کے مطابق سابق رکن سندھ اسمبلی رحیم بخش جمالی ایڈووکیٹ رمضان میں اعتکاف پر بیٹھے تھے کہ صبح کے وقت مسلح افراد نے سوسائٹی کی جامع مسجد میں فائرنگ کرکے انھیں شدید زخمی کردیا تھا جس کے بعد انھیں کراچی منتقل کردیا گیا تھا۔


عید الفطر کی صبح کراچی کے نجی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے ان کے انتقال کی اطلاع پر نواب شاہ شہر سوگ میں بند ہوگیا جبکہ جمالی برادری کے درجنوں افراد نے قتل کے خلاف نواب شاہ سکھر روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیکر ٹریفک معطل کردی مشتعل افراد نے ٹائر بھی نذر آتش کیے ، رحیم بخش جمالی کی میت ایمبولینس کے ذریعے کراچی سے پی ایم سی اسپتال نواب شاہ لائی گئی جہاں پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کے بعد جامع مسجد میں نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں وکلا اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جسکے بعد میت آبائی گائوں یار محمد جمالی کے قبرستان میں سپرد خاک کردی گئی، مقتول کے بھتیجے مولا بخش جمالی نے تھانہ اے سیکشن میں رحیم بخش جمالی کے قتل کا مقدمہ ڈاکٹر دولت جمالی سمیت 6 افراد کے خلاف درج کرایا ہے۔ علاوہ ازیں سابق وزیراعظم ظفر اللہ جمالی، اپوزیشن لیڈر بلوچستان اسمبلی سردار یار محمد رند نے رحیم بخش جمالی کے قتل کی مذمت کی ہے اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔
Load Next Story