سانحہ ساہیوال قوم انصاف کی منتظر

سانحے سے متعلق معروضی حقائق کی ایک سے زیادہ وضاحت و تشریح بھی محل نظر ہے۔

سانحے سے متعلق معروضی حقائق کی ایک سے زیادہ وضاحت و تشریح بھی محل نظر ہے۔ فوٹو: فائل

سانحہ ساہیوال پر بنائی گئی جے آئی ٹی کے سربراہ نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں خلیل اور اس کی فیملی کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے ان کی ہلاکت کا ذمے دار سی ٹی ڈی کو ٹھہرایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈرائیور ذیشان کے حوالے سے مزید تفتیش ہوگی جس کے لیے مزید مہلت درکار ہے جب کہ قانونی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں سی ٹی ڈی کی اس درد انگیز کارروائی کا نتیجہ بلاتاخیر شفاف تحقیقات کی روشنی میں قوم کے سامنے لایا جانا چاہیے، واضح رہے مجرموں ، دہشت گردوں اور پولیس کے اشارے پر گاڑی نہ روکنے والوں کا تعاقب کرنے ، ان کی گرفتاری یا پھر مزاحمت پر ملزمان کو فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کی ایک اضطراب انگیز بحث عوامی اور سیاسی حلقوں میں جاری ہے۔

قانونی ماہرین کا یہ استدلال کہ جب قرائنی شہادت اور عینی گواہوں کے مطابق خلیل خاندان کی کار روکی گئی اور کار کے اندر سے فائرنگ شاٹ بھی کسی نے نہیں سنا جب کہ قریبی بس سے ایک ویڈیو فوٹیج نے معروضی حقیقت بھی بتا دی ، کار میں موجود سہمی ہوئی متاثرہ ایک بچی کا بیان بھی میڈیا پر نشر ہوا تو ذیشان سمیت گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے لوگوں پر گولیوں کی بوچھاڑ سوالیہ نشان ہے۔ سانحے کے حوالے سے دو ایف آئی آر کے اندراج پر بھی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سانحے سے متعلق معروضی حقائق کی ایک سے زیادہ وضاحت و تشریح بھی محل نظر ہے، تجزیہ کاروں نے پولیس افسران کی سزائوں کی تکمیل کے امکان پر بھی شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے ، اس لیے بادی النظر میں سانحہ کو پوری قوم حکومت اور مسند انصاف کے لیے ایک غیر معمولی ٹیسٹ کیس قراردیا ہے۔ یہ کرمنل پراسیکیوشن کا بھی چشم کشا اور فیصلہ کن کیس بن سکتا ہے ۔اگرچہ پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی کی ابتدائی سفارشات پر غفلت کا مظاہرہ ثابت ہونے پر ایڈیشنل آئی جی آپریشن پنجاب اظہر حمید کھوکھر، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے محمد طاہر اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی بابر سرفراز ایلپا کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔


اظہر حمید کھوکھر اور بابر سرفراز ایلپا کو پنجاب سے سرنڈر کرتے ہوئے صوبہ بدر کیا گیا ہے جب کہ ایس ایس پی سی ٹی ڈی جواد قمر اور ڈی ایس پی انچارج سی ٹی ڈی ساہیوال ڈاکٹر آصف کمال کو معطل کر دیا گیا ہے تاہم وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے ساہیوال میں پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے آپریشن کو سو فیصد درست قرار دے دیا ہے۔ جس پر اپوزیشن نے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اظہارتشویش کیا گیا کہ حکومت سانحہ ساہیوال کے ملزمان کو بچانے کی کوششیں کررہی ہے جب کہ سانحہ ساہیوال پر وزراء تضاد بیانی کا شکار ہیں، ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد وزیر قانون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنائی اور حکومت نے تیز اور شفاف تحقیقات کا وعدہ پورا کیا، ہم انصاف کے تمام تقاضے پورے کریں گے، سانحہ پنجاب حکومت پنجاب کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے اور سانحہ ساہیوال کیس کو مثال بنائیں گے۔ تاہم انھوں واضح کیا کہ نئی پیش کی جانے والی رپورٹ کو حتمی نہیں سمجھا جاسکتا، اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان، راجہ بشارت، چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس اور متعلقہ ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ماہر وکلا کا یہ موقف ہے کہ جب مبینہ دہشت گرد ہاتھ آگیا تھا ، جس سے پورے نیٹ ورک کا پتا بھی چل سکتا تھا، جب کہ ذیشان کی والدہ کا بیان ہے کہ اس کا بیٹا دہشت گرد نہیں، مگر وہ تو ماں ہے، لہٰذا ذیشان کے بارے میں شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات اس سانحہ کا ٹرننگ پوائنٹ ہے، جسے پولیس اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی دھند میں نہیں چھپنا چاہیے ورنہ کیس کی سمت بدلنے کا اندیشہ پیدا جائے گا۔

یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ جب ہلاک شدگان کو ذی شان سمیت زندہ حراست میں لیا جاسکتا تھا تو ایسی بربریت اور وحشیانہ فائرنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ماہرین جرمیات کے مطابق ساہیوال سانحہ نے قوم کو ناقابل بیان صدمہ اور دلی غم واندوہ سے دوچار کیا ہے اور جہاں جے آئی ٹی رپورٹ حتمی نہیں ہے وہاں سانحہ کے حوالہ سے دو ایف آئی آر کے اندراج پر بھی ماہرین قانون ، سابق پولیس افسران اور کرمنل جسٹس سے متعلق حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین سانحہ اور ہلاک شدگان کے لواحقین کو نظر آنے والے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سانحہ ساہیوال کی چنگھاڑ بھی یہی ہے کہ انصاف ہو چاہے آسمان ٹوٹ پڑے۔
Load Next Story