وزیراعظم کا دورہ قطر خطیر سرمایہ کاری کا عندیہ
دوست وہ جو مشکل وقت میں کام آئے، قطر نے پاکستان سے دوستی کا حق ادا کردیا ہے۔
دوست وہ جو مشکل وقت میں کام آئے، قطر نے پاکستان سے دوستی کا حق ادا کردیا ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستانی معیشت اور اقتصادیات کو بہتربنانے کے لیے وزیراعظم اور ان کے رفقاء لگن اورجذبے سے دن رات کام کر رہے ہیں، دورہ قطر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔اس دورے کے نتیجے میں جو خبریں اخبارات کی زینت بنی ہیں ، ان کے مطابق قطر نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
یقینا یہ خبر دم توڑتی معیشت کے لیے مژدہ جانفزا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی سے ملاقات میں معاشی اور تجارتی تعلقات مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ ون آن ون ملاقات میں خطے اورعلاقائی صورتحال، طالبان سے مذاکرات، دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ قطر نے پاکستان میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری اورتوانائی بحران سے پاکستان کو نکالنے کے لیے دو پاور پراجیکٹس لگانے، پاکستانی چاول کی امپورٹ پر پابندی ختم کرنے اور پی آئی اے کی بحالی میں بھی معاونت کرنے کے اعلانات کیے ہیں۔
دوست وہ جو مشکل وقت میں کام آئے، قطر نے پاکستان سے دوستی کا حق ادا کردیا ہے۔ عمران خان اورامیر قطر کے مابین وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے،جو مزید معاملات طے ہوئے ان کے تفصیل یہ سامنے آئی کہ قطر نے پاکستان کو ایل این جی کی قیمت میں کمی اور اسے ادھار بنیادوں پر فراہم کرنے پر غورکرنے، سال میں پندرہ ہزارکے بجائے پچیس ہزار پاکستانی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے پر مثبت ردعمل کی یقین دہانی کروائی ہے۔ یہ سب مندرجات پڑھنے کے بعد امیدکا دیا پھر سے قوم کے لیے روشن ہوا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اوکرہ اسٹیڈیم میں پاکستانی برادری سے خطاب میں کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی بہت قدرکرتا ہوں، یہی لوگ اصل ہیرو ہیں، آج ہمارا ملک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر سے چل رہا ہے۔ پاکستان وہ ملک بننے جا رہا ہے جہاں کسی کو نوکری کے لیے بیرون ملک نہیں جانا پڑے گا۔ ملک کا خسارہ بہت زیادہ ہے۔ ملک وسائل کی وجہ سے نہیں دیانت داری کی وجہ سے امیر ہوتا ہے۔
پی ٹی آئی کی حکومت کا وژن ہے کہ وہ ملک میں تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ خلوص نیت، مکمل ومربوط منصوبہ بندی کے ذریعے ملک کواقتصادی اور معاشی طور پر مستحکم اور ترقی کی شاہراہ پرگامزن کیا جاسکتا ہے۔ یہی خواب ہے نئے پاکستان کا جسے شرمندہ تعبیر کرنا عمران خان کا کام ہے۔
یقینا یہ خبر دم توڑتی معیشت کے لیے مژدہ جانفزا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی سے ملاقات میں معاشی اور تجارتی تعلقات مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ ون آن ون ملاقات میں خطے اورعلاقائی صورتحال، طالبان سے مذاکرات، دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ قطر نے پاکستان میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری اورتوانائی بحران سے پاکستان کو نکالنے کے لیے دو پاور پراجیکٹس لگانے، پاکستانی چاول کی امپورٹ پر پابندی ختم کرنے اور پی آئی اے کی بحالی میں بھی معاونت کرنے کے اعلانات کیے ہیں۔
دوست وہ جو مشکل وقت میں کام آئے، قطر نے پاکستان سے دوستی کا حق ادا کردیا ہے۔ عمران خان اورامیر قطر کے مابین وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے،جو مزید معاملات طے ہوئے ان کے تفصیل یہ سامنے آئی کہ قطر نے پاکستان کو ایل این جی کی قیمت میں کمی اور اسے ادھار بنیادوں پر فراہم کرنے پر غورکرنے، سال میں پندرہ ہزارکے بجائے پچیس ہزار پاکستانی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے پر مثبت ردعمل کی یقین دہانی کروائی ہے۔ یہ سب مندرجات پڑھنے کے بعد امیدکا دیا پھر سے قوم کے لیے روشن ہوا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اوکرہ اسٹیڈیم میں پاکستانی برادری سے خطاب میں کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی بہت قدرکرتا ہوں، یہی لوگ اصل ہیرو ہیں، آج ہمارا ملک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر سے چل رہا ہے۔ پاکستان وہ ملک بننے جا رہا ہے جہاں کسی کو نوکری کے لیے بیرون ملک نہیں جانا پڑے گا۔ ملک کا خسارہ بہت زیادہ ہے۔ ملک وسائل کی وجہ سے نہیں دیانت داری کی وجہ سے امیر ہوتا ہے۔
پی ٹی آئی کی حکومت کا وژن ہے کہ وہ ملک میں تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ خلوص نیت، مکمل ومربوط منصوبہ بندی کے ذریعے ملک کواقتصادی اور معاشی طور پر مستحکم اور ترقی کی شاہراہ پرگامزن کیا جاسکتا ہے۔ یہی خواب ہے نئے پاکستان کا جسے شرمندہ تعبیر کرنا عمران خان کا کام ہے۔