پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کی منظوری
بلدیاتی الیکشن آئین کا تقاضا ہیں جس کا مقصد مقامی سطح پر عوام کے بنیادی مسائل حل کرنا ہے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف نے بہ حیثیت مسلم لیگ (ن) کے صدر کے پنجاب کے لیے نئے بلدیاتی ایکٹ کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن' پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے 90 دن کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے وفاق اور چاروں صوبوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ستمبر تک ان انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں۔
بلدیاتی الیکشن آئین کا تقاضا ہیں جس کا مقصد مقامی سطح پر عوام کے بنیادی مسائل حل کرنا ہے۔ بلدیاتی الیکشن جمہوریت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں پرویز مشرف کے دور میں آخری بار بلدیاتی الیکشن ہوئے اور اس کے بعد برسراقتدار آنے والی جمہوری حکومت کے دور میں پانچ سال ملک بھر میں عوامی سطح پر مطالبات کے باوجود وفاق سمیت صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے گئے۔
گزشتہ حکومت جمہوریت کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی جو سیاسی طور پر عوام کی قوت پر بھرپور یقین رکھنے کی دعوے دار تھی اور یہ نعرہ بلند کرتی رہی کہ عوام کا فیصلہ آخری ہوتا ہے لہذا ہر صورت عوامی فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے مگر عوام کے حقوق کی آواز بلند کرنے والی اس حکومت نے اپنے پورے دور میں بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے۔ جب آئین کے مطابق عام انتخابات منعقد ہو سکتے ' مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا قیام عمل میں آ سکتا ہے تو اسی آئین کے تحت بلدیاتی الیکشن منعقد کرانے میں تاخیری حربے کیوں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
یہی سبب ہے کہ سپریم کورٹ نے درست سمت قدم اٹھاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن آئین کا تقاضا ہے، الیکشن کمیشن ستمبر میں انتخابات کرائے جانے کے لیے اقدامات اٹھائے بصورت دیگر عدالت فیصلہ کر دے گی اور پھر آئین کی خلاف ورزی کے نتائج سب کو بھگتنا پڑیں گے۔ حالیہ عام انتخابات کے نتیجے میں پنجاب اور سندھ میں جو صوبائی حکومتیں وجود میں آئی ہیں وہ سابقہ حکومتوں ہی کا تسلسل ہیں' حتیٰ کہ پارٹیاں بھی وہی اور وزیراعلیٰ تک وہی ہیں۔
آخر ماضی کی ان حکومتوں نے جو جمہوری عمل کی پیداوار تھیں ' جمہوری عمل کو مضبوط بنانے اور اختیارات کی تقسیم نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے بلدیاتی الیکشن کیوں نہیں کرائے جب کہ اس وقت مختلف حلقوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے مطالبات بارہا کیے جاتے رہے مگر ان حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور اب بھی نئی حکومتیں وجود میں آنے کے باوجود بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے لیے فوری کوئی لائحہ عمل طے نہ ہونے کا بالآخر سپریم کورٹ ہی کو نوٹس لینا پڑا۔ پنجاب حکومت نے حد بندیوں کے نام پر 90 روز جب کہ سندھ نے 5 ماہ کی مہلت مانگ لی ہے۔
مگر عدالت عظمیٰ نے ان تاخیری حربوں کو مسترد کرتے ہوئے دونوں صوبوں کے نمایندوں کو یہ یاد دہانی کرائی کہ ان کے ہاں اب بھی وہی حکومتیں ہیں جو گزشتہ پانچ سال میں تھیں' عدالت نے انھیں تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال میں حد بندیاں کیوں نہیں کی گئیں، پانچ سال آئین کی خلاف ورزی کی جاتی رہی۔ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹیں تیار نہ ہونے کا عذر پیش کیا تو عدالت نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ ستمبر میں انتخابات کرائے جانے کے لیے اقدامات اٹھائے بصورت دیگر عدالت فیصلہ دے گی اور آئین کی خلاف ورزی کے نتائج سب کو بھگتنا ہوں گے۔
بلدیاتی الیکشن کے ذریعے منتخب ہونے والے افراد مقامی سطح پر گلی محلے کے مسائل حل کرتے ہیں۔ عام آدمی کی ان تک رسائی بھی آسان ہوتی ہے۔ اس لیے جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے بلدیاتی اداروں کا قیام ناگزیر ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم میاں نواز شریف نے بہ حیثیت مسلم لیگ (ن) کے صدر کے پنجاب کے لیے نئے بلدیاتی ایکٹ کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ موجودہ ضلعی حکومتوں کا نظام ختم کر کے نیا نظام لایا جا رہا ہے جس میں دیہی اور شہری نظام کو الگ الگ کیا گیا ہے۔ ناظمین کے بجائے میئر' ڈپٹی میئر' چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین ہوں گے۔
میئر یا ڈپٹی میئر سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھ سکے گا تاہم کونسلر غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب کیے جائیں گے۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں ضلعی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا جس کے تحت ضلعی حکومتوں کو مقامی مسائل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ اختیارات اور فنڈز دیے گئے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار زیادہ سے زیادہ اختیارات کے حامل بلدیاتی ادارے قائم ہوئے،ان بااختیار ضلعی حکومتیں قائم ہونے سے ارکان اسمبلی نے خود کو کمزور محسوس کیا۔ لہٰذا انھوں نے واویلا مچانا شروع کر دیا کہ فنڈز اور گلی محلے کے مسائل حل کرنے کے اختیارات نہ ملنے سے ان کا عوامی رابطہ کمزور پڑ گیا ہے جس سے انھیں آیندہ انتخابات لڑنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بلدیاتی نمایندوں کا کام نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل کرنا جب کہ ارکان اسمبلی کا کام آئین سازی اور ملک کے نظام کو چلانے میں معاونت کرنا ہے۔
اگر دونوں اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں تو اس سے جمہوری عمل مضبوط ہو گا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ضلعی حکومتوں کا نظام بھی برا نہیں تھا۔ہونا تو یہ چاہیے کہ اسی نظام کو جاری رکھا جاتا اور اس میں موجود خامیوں کو دور کردیا جاتا لیکن اس کے برعکس مسلم لیگ ن نے پنجاب میں پرانے نظام کو بحال کرنے کی منظوری دی ہے، یوں ایک مرتبہ پھر سارا بلدیاتی سسٹم تبدیل ہو گا۔ نئے بلدیاتی انتخابات غیر سیاسی بنیادوں پر ہوں گے لیکن نئے چیئرمین' ڈپٹی چیئرمین' میئر یا ڈپٹی میئر کے لیے سیاسی جماعت سے وابستگی کی اجازت دی گئی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمران جماعتیں بلدیاتی اداروں پر اپنا مکمل کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ عام کونسلروں کا انتخاب غیر جماعتی ہونے اور میئر اور چیئرمین وغیرہ کا انتخاب سیاسی ہونے سے جوڑ توڑ اور خریدوفروخت کے کلچر کو ہوا ملے گی۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران جماعتیں بلدیاتی اداروں کی سربراہی کسی ایسے شخص کو دینے پر آمادہ نہیں جو ان سے سیاسی اختلافات رکھتا ہو۔ اصولی طور پر جب کونسلر کے لیے غیر جماعتی بنیاد کی شرط رکھی گئی ہے تو بلدیاتی اداروں کے سربراہ بھی غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہونے چاہئیں یا پھر بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں۔ بہر حال بلدیاتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ مقامی سطح پر عوامی مسائل با احسن طور پر حل کر لیں۔
بلدیاتی اداروں کے بغیر جمہوری نظام نا مکمل ہوتا ہے۔ اب جب سپریم کورٹ نے بھی بلدیاتی انتخابات ستمبر تک کرانے کا حکم دے دیا ہے تو الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومتوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں تاکہ جمہوری عمل ممکن ہو سکے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن' پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے 90 دن کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے وفاق اور چاروں صوبوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ستمبر تک ان انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں۔
بلدیاتی الیکشن آئین کا تقاضا ہیں جس کا مقصد مقامی سطح پر عوام کے بنیادی مسائل حل کرنا ہے۔ بلدیاتی الیکشن جمہوریت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں پرویز مشرف کے دور میں آخری بار بلدیاتی الیکشن ہوئے اور اس کے بعد برسراقتدار آنے والی جمہوری حکومت کے دور میں پانچ سال ملک بھر میں عوامی سطح پر مطالبات کے باوجود وفاق سمیت صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے گئے۔
گزشتہ حکومت جمہوریت کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی جو سیاسی طور پر عوام کی قوت پر بھرپور یقین رکھنے کی دعوے دار تھی اور یہ نعرہ بلند کرتی رہی کہ عوام کا فیصلہ آخری ہوتا ہے لہذا ہر صورت عوامی فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے مگر عوام کے حقوق کی آواز بلند کرنے والی اس حکومت نے اپنے پورے دور میں بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے۔ جب آئین کے مطابق عام انتخابات منعقد ہو سکتے ' مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا قیام عمل میں آ سکتا ہے تو اسی آئین کے تحت بلدیاتی الیکشن منعقد کرانے میں تاخیری حربے کیوں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
یہی سبب ہے کہ سپریم کورٹ نے درست سمت قدم اٹھاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن آئین کا تقاضا ہے، الیکشن کمیشن ستمبر میں انتخابات کرائے جانے کے لیے اقدامات اٹھائے بصورت دیگر عدالت فیصلہ کر دے گی اور پھر آئین کی خلاف ورزی کے نتائج سب کو بھگتنا پڑیں گے۔ حالیہ عام انتخابات کے نتیجے میں پنجاب اور سندھ میں جو صوبائی حکومتیں وجود میں آئی ہیں وہ سابقہ حکومتوں ہی کا تسلسل ہیں' حتیٰ کہ پارٹیاں بھی وہی اور وزیراعلیٰ تک وہی ہیں۔
آخر ماضی کی ان حکومتوں نے جو جمہوری عمل کی پیداوار تھیں ' جمہوری عمل کو مضبوط بنانے اور اختیارات کی تقسیم نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے بلدیاتی الیکشن کیوں نہیں کرائے جب کہ اس وقت مختلف حلقوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے مطالبات بارہا کیے جاتے رہے مگر ان حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور اب بھی نئی حکومتیں وجود میں آنے کے باوجود بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے لیے فوری کوئی لائحہ عمل طے نہ ہونے کا بالآخر سپریم کورٹ ہی کو نوٹس لینا پڑا۔ پنجاب حکومت نے حد بندیوں کے نام پر 90 روز جب کہ سندھ نے 5 ماہ کی مہلت مانگ لی ہے۔
مگر عدالت عظمیٰ نے ان تاخیری حربوں کو مسترد کرتے ہوئے دونوں صوبوں کے نمایندوں کو یہ یاد دہانی کرائی کہ ان کے ہاں اب بھی وہی حکومتیں ہیں جو گزشتہ پانچ سال میں تھیں' عدالت نے انھیں تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال میں حد بندیاں کیوں نہیں کی گئیں، پانچ سال آئین کی خلاف ورزی کی جاتی رہی۔ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹیں تیار نہ ہونے کا عذر پیش کیا تو عدالت نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ ستمبر میں انتخابات کرائے جانے کے لیے اقدامات اٹھائے بصورت دیگر عدالت فیصلہ دے گی اور آئین کی خلاف ورزی کے نتائج سب کو بھگتنا ہوں گے۔
بلدیاتی الیکشن کے ذریعے منتخب ہونے والے افراد مقامی سطح پر گلی محلے کے مسائل حل کرتے ہیں۔ عام آدمی کی ان تک رسائی بھی آسان ہوتی ہے۔ اس لیے جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے بلدیاتی اداروں کا قیام ناگزیر ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم میاں نواز شریف نے بہ حیثیت مسلم لیگ (ن) کے صدر کے پنجاب کے لیے نئے بلدیاتی ایکٹ کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ موجودہ ضلعی حکومتوں کا نظام ختم کر کے نیا نظام لایا جا رہا ہے جس میں دیہی اور شہری نظام کو الگ الگ کیا گیا ہے۔ ناظمین کے بجائے میئر' ڈپٹی میئر' چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین ہوں گے۔
میئر یا ڈپٹی میئر سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھ سکے گا تاہم کونسلر غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب کیے جائیں گے۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں ضلعی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا جس کے تحت ضلعی حکومتوں کو مقامی مسائل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ اختیارات اور فنڈز دیے گئے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار زیادہ سے زیادہ اختیارات کے حامل بلدیاتی ادارے قائم ہوئے،ان بااختیار ضلعی حکومتیں قائم ہونے سے ارکان اسمبلی نے خود کو کمزور محسوس کیا۔ لہٰذا انھوں نے واویلا مچانا شروع کر دیا کہ فنڈز اور گلی محلے کے مسائل حل کرنے کے اختیارات نہ ملنے سے ان کا عوامی رابطہ کمزور پڑ گیا ہے جس سے انھیں آیندہ انتخابات لڑنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بلدیاتی نمایندوں کا کام نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل کرنا جب کہ ارکان اسمبلی کا کام آئین سازی اور ملک کے نظام کو چلانے میں معاونت کرنا ہے۔
اگر دونوں اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں تو اس سے جمہوری عمل مضبوط ہو گا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ضلعی حکومتوں کا نظام بھی برا نہیں تھا۔ہونا تو یہ چاہیے کہ اسی نظام کو جاری رکھا جاتا اور اس میں موجود خامیوں کو دور کردیا جاتا لیکن اس کے برعکس مسلم لیگ ن نے پنجاب میں پرانے نظام کو بحال کرنے کی منظوری دی ہے، یوں ایک مرتبہ پھر سارا بلدیاتی سسٹم تبدیل ہو گا۔ نئے بلدیاتی انتخابات غیر سیاسی بنیادوں پر ہوں گے لیکن نئے چیئرمین' ڈپٹی چیئرمین' میئر یا ڈپٹی میئر کے لیے سیاسی جماعت سے وابستگی کی اجازت دی گئی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمران جماعتیں بلدیاتی اداروں پر اپنا مکمل کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ عام کونسلروں کا انتخاب غیر جماعتی ہونے اور میئر اور چیئرمین وغیرہ کا انتخاب سیاسی ہونے سے جوڑ توڑ اور خریدوفروخت کے کلچر کو ہوا ملے گی۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران جماعتیں بلدیاتی اداروں کی سربراہی کسی ایسے شخص کو دینے پر آمادہ نہیں جو ان سے سیاسی اختلافات رکھتا ہو۔ اصولی طور پر جب کونسلر کے لیے غیر جماعتی بنیاد کی شرط رکھی گئی ہے تو بلدیاتی اداروں کے سربراہ بھی غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہونے چاہئیں یا پھر بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں۔ بہر حال بلدیاتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ مقامی سطح پر عوامی مسائل با احسن طور پر حل کر لیں۔
بلدیاتی اداروں کے بغیر جمہوری نظام نا مکمل ہوتا ہے۔ اب جب سپریم کورٹ نے بھی بلدیاتی انتخابات ستمبر تک کرانے کا حکم دے دیا ہے تو الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومتوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں تاکہ جمہوری عمل ممکن ہو سکے۔