بیک چینل ڈپلومیسی کا دوبارہ آغاز

دونوں ملکوں کی حکومتوں کو موجودہ ساز گار حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے.

میاں نواز شریف ایک بار پھر بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں تاہم بعض حلقوں کی طرف سے مخالفانہ آوازیں بھی بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے بیک چینل ڈپلومیسی کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا ہے کیونکہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر خطے میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے یہ اعلان جمعرات کو پی ایم ہاؤس میں برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ کے ساتھ ملاقات کے موقع پر بات چیت کر تے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر برطانوی وزیر خارجہ کو ان دیگر اقدامات سے بھی آگاہ کیا جو بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی خاطر پاکستان کی طرف سے کیے گئے ہیں۔ ان میں مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے بیک چینل ڈپلومیسی شامل ہے۔

میاں نواز شریف کے سابقہ دور حکومت میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی دوستی بس میں بیٹھ کر براستہ واہگہ بارڈر لاہور پہنچے تھے اور مینار پاکستان پر جا کر اعلان کیا تھا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے جس کے وجود سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ واجپائی کی یہ بات دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کی دلیل تھی تاہم کارگل کے بحران اور پھر 12 اکتوبر 1999ء کو میاں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے باعث دونوں پڑوسی ملکوں کی دوستی کا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا اور معاملات تلخی اور کشیدگی تک پہنچ گئے۔

پرویز مشرف کے دور میں دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت ہوئی لیکن ان میں زیادہ گرم جوشی دیکھنے میں نہیں آئی ' سابق جمہوری حکومت میں بھی بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے بنانے کی کوشش کی لیکن پھر کوئی نہ کوئی رکاوٹ سامنے آتی رہی جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ ہی ٹوٹ گیا۔ اب میاں نواز شریف ایک بار پھر بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں تاہم بعض حلقوں کی طرف سے مخالفانہ آوازیں بھی بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔


ایسی آوازیں بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں میں موجود ہیں' پاکستان اور بھارت میں ایسے طبقے خاصے طاقتور ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان اچھے اور دوستانہ تعلقات کے حق میں نہیں ہیں' ان طبقوں کا مفاد اسی میں ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہے' ایسے لوگ اسٹیبلشمنٹ میں بھی ہیں، کاروبار میں بھی ہیں اور اہل علم اور اہل قلم میں بھی ہیں۔انھی طبقوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے متنازعہ معاملات پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ مسلم لیگ ن نے جب حالیہ الیکشن میں کامیابی حاصل کی تو بھارت میں بھی اس پر خوشی کا اظہار کیا گیا تھا' اب دونوں ملکوں کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی کا آغاز ہوچکا ہے' یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔

دونوں ملکوں کی حکومتوں کو موجودہ ساز گار حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور دوستی اور اچھے تعلقات کے عمل کو باضابطہ بنانے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنا چاہیے تاکہ دوستی اور اچھے تعلقات کی راہ میں جو رکاوٹیں حائل ہیں' انھیں دور کیا جا سکے۔ بھارت کی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ متنازعہ امور پر اپنے سخت رویے میں لچک کا مظاہرہ کرے' سیاچن اور سرکریک ایسے ایشوز ہیں' جن پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے۔ اگر بھارت اس سلسلے میں لچک کا مظاہرہ کرے تو اس سے پاکستانی عوام کو اچھا پیغام ملے گا۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے بارے میں بھارتی افسر کے بیان کی بھارتی حکومت سے وضاحت طلب کر لی ہے، اس کے بعد ہی پاکستان اپنا رد عمل دے گا۔ یاد رہے بھارتی پارلیمنٹ اور ممبئی حملے کے بارے میں ایک اہم بھارتی افسر نے انکشاف کیا ہے کہ حملوں کا یہ ڈرامہ بھارت نے خود رچایا تھا تا کہ پاکستان کو دباؤ میں رکھا جائے۔ اس حوالے سے بھی حقائق سامنے آنے چاہئیں اور بھارتی حکومت کو سچ تلاش کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی چاہیے۔یہ ایسے معاملات ہیں جنھیں طے کیا جانا چاہیے۔
Load Next Story