پاکستان کی پہلی پی ایچ ڈی خاتون کوآج سپردخاک کیا جائیگا
’’حادثے سے بڑاسانحہ یہ ہوا‘‘ کے مصداق انکے رشتے داروں نے رابطہ نہیں کیا،ترجمان ایدھی ہوم
’’حادثے سے بڑاسانحہ یہ ہوا‘‘ کے مصداق انکے رشتے داروں نے رابطہ نہیں کیا،ترجمان ایدھی ہوم ، فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
''حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا '' کے مصداق پاکستان کی پہلی پی ایچ ڈی خاتون بی بی قریشی کے رشتے داروں کی جانب سے رابطہ نہ کرنے پر انھیں آج سپرد خاک کردیا جائے گا ، وہ 14 اور 15اگست کی درمیانی شب انتقال کرگئی تھیں ، ان کی عمر تقریباً90 برس تھی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی معاشیات میں پہلی پی ایچ ڈی کرنے والی خاتون بی بی قریشی کو آج (جمعرات) ایدھی فائونڈیشن کے مواچھ گوٹھ قبرستان میں بعد نماز ظہر سپرد خاک کردیا جائے گا ، وہ 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب نارتھ کراچی میں واقع ایدھی ہوم میں انتقال کرگئی تھیں، ان کی عمر تقریبا90 برس تھی، ان کی میت ایدھی سرد خانے میں محفوظ رکھی گئی تھی، '' حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا '' کے مصداق ان کے رشتے داروں نے انتقال سے اب تک ایک ہفتہ کے دوران ایدھی فائونڈیشن سے کوئی رابطہ نہیں کیا ۔
ایدھی فائونڈیشن کے ترجمان انور کاظمی نے ایکسپریس کو بتایا کہ بی بی قریشی نے وصیت کی تھی کہ انھیں ایدھی قبرستان میں ہی سپرد خاک کیا جائے ، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ انتقال سے اب تک بی بی قریشی کے کسی رشتے دار نے ایدھی فائونڈیشن سے کوئی رابطہ نہیں کیا، ان کی زندگی میں متعدد مرتبہ ان کے رشتے دار اپنے گھر لے جاتے تھے تاہم کچھ ہی عرصے بعد وہ واپس آجاتی تھیں۔
بی بی قریشی اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی استاد بھی رہی تھیں، وہ ایدھی سینٹر میں رہ رہی تھیں، ان کی زندگی میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے انھیں گورنرہائوس میں رہائش اختیارکرنے کی پیشکش کی تھی تاہم انھوں نے ایدھی سینٹر میں ہی رہنے کو ترجیح دی، ان کا تعلق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر مراد آباد سے تھا ، زندگی کے آخری ایام تک ملک وقوم کی خدمت کی خواہش رکھتی تھیں، انھوں نے 1960 میں ٹرینٹی کالج آف یونیورسٹی آف ڈبلن سے پی ایچ ڈی کی تھی ۔
''حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا '' کے مصداق پاکستان کی پہلی پی ایچ ڈی خاتون بی بی قریشی کے رشتے داروں کی جانب سے رابطہ نہ کرنے پر انھیں آج سپرد خاک کردیا جائے گا ، وہ 14 اور 15اگست کی درمیانی شب انتقال کرگئی تھیں ، ان کی عمر تقریباً90 برس تھی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی معاشیات میں پہلی پی ایچ ڈی کرنے والی خاتون بی بی قریشی کو آج (جمعرات) ایدھی فائونڈیشن کے مواچھ گوٹھ قبرستان میں بعد نماز ظہر سپرد خاک کردیا جائے گا ، وہ 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب نارتھ کراچی میں واقع ایدھی ہوم میں انتقال کرگئی تھیں، ان کی عمر تقریبا90 برس تھی، ان کی میت ایدھی سرد خانے میں محفوظ رکھی گئی تھی، '' حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا '' کے مصداق ان کے رشتے داروں نے انتقال سے اب تک ایک ہفتہ کے دوران ایدھی فائونڈیشن سے کوئی رابطہ نہیں کیا ۔
ایدھی فائونڈیشن کے ترجمان انور کاظمی نے ایکسپریس کو بتایا کہ بی بی قریشی نے وصیت کی تھی کہ انھیں ایدھی قبرستان میں ہی سپرد خاک کیا جائے ، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ انتقال سے اب تک بی بی قریشی کے کسی رشتے دار نے ایدھی فائونڈیشن سے کوئی رابطہ نہیں کیا، ان کی زندگی میں متعدد مرتبہ ان کے رشتے دار اپنے گھر لے جاتے تھے تاہم کچھ ہی عرصے بعد وہ واپس آجاتی تھیں۔
بی بی قریشی اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی استاد بھی رہی تھیں، وہ ایدھی سینٹر میں رہ رہی تھیں، ان کی زندگی میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے انھیں گورنرہائوس میں رہائش اختیارکرنے کی پیشکش کی تھی تاہم انھوں نے ایدھی سینٹر میں ہی رہنے کو ترجیح دی، ان کا تعلق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر مراد آباد سے تھا ، زندگی کے آخری ایام تک ملک وقوم کی خدمت کی خواہش رکھتی تھیں، انھوں نے 1960 میں ٹرینٹی کالج آف یونیورسٹی آف ڈبلن سے پی ایچ ڈی کی تھی ۔